انتظامیہ چینی فروخت کنندگان کو حراساں کرنا بند کرے،شوگر ملز ایسوسی ایشن

انتظامیہ چینی فروخت کنندگان کو حراساں کرنا بند کرے،شوگر ملز ایسوسی ایشن

  



لاہور (پ ر)حکومت نے دُکانوں پر پچھلے دنوں چینی کی فی کلو قیمت70/-روپے فکس کی ہے جو کہ سرا سر ایک غلط اقدام ہے۔ اس فیصلہ سے پہلے حکومت نے شوگر ملز ایسوسی ایشن سے کوئی مشاورت تک کرنا بھی گوارہ نہیں کیا۔ ماضی میں بھی حکومت نے چینی کی فی کلو پرچون قیمت 60/- روپے رائج کرنے کا فیصلہ نافذ کیا تھا۔ جو کہ غیر منطقی اور بغیر کسی مارکیٹ سروے کے تھا اور نہ ہی حکومت اس فیصلے کا نفاذ کروا سکی۔ جس کی بنیادی وجہ مارکیٹ کے بنیادی حقائق سے غیر آگاہی ہے۔ چیئرمین (PSMA) نعمان خان نے ملز مالکان کی میٹنگ میں حکومت کے اس غیر حقیقی قیمت رائج کرنے کے اقدام سے مارکیٹ میں افراتفری، غیر یقینی کی فضا پیدا ہونے کی وجہ قرار دیا ہے یہی وجہ ہے کہ دکاندار چینی کی فروخت کو ترجیح نہیں دے رہے اور لوکل مارکیٹ میں چینی کی دستیابی بھی متاثر ہو رہی ہے دیگر ممبران نے بھی اس حکومتی فیصلے کی شدید الفاط میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت دکانداروں کو حراساں نہ کرے بلکہ ایسی فضا قائم کرنے کے اقدامات کرے کہ لوگ کاروبار میں مزید سرمایہ کاری کریں نہ کہ موجودہ کاروبار بھی بند کرنے پر مجبور ہو جائیں۔اس بارے میں بات کرتے ہوئے نعمان خان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں نا تو ملک میں چینی کی دستیابی کا کوئی مسئلہ ہے اور نہ ہی مارکیٹ میں چینی کی قیمت بڑھ رہی ہے۔

لہذا حکومت کو اس قسم کے بے جا اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔

مزید : کامرس