سیوریج نظام فلاپ، جگہ جگہ گندگی، غلہ منڈی ملتان لاوارث: تاجر سراپا احتجاج 

سیوریج نظام فلاپ، جگہ جگہ گندگی، غلہ منڈی ملتان لاوارث: تاجر سراپا احتجاج 

  



ملتان (نیوز رپورٹر) جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی غلہ منڈی مارکیٹ کمیٹی ذمہ داران کی سے غفلت سیوریج کے بوسیدہ نظام اور قبضہ مافیا کی اجارہ داری کے باعث مسائل کا گڑھ بن چکی ہے آڑھتیوں کی شاپس کے سامنے سڑکوں پر ابلتے گٹر اور گندے بدبودار پانی نے غلہ منڈی کے پورے ماحول تعفن ذدہ کرکے رکھ دیا ہے لیکن مارکیٹ کمیٹی کے ذمہ داران کے کانوں پر جوں تک رینگی نظر نہیں آرہی مارکیٹ کمیٹی کے متعدد دفاتر قبضہ مافیا کے مصرف میں ہیں اور گودام میں (بقیہ نمبر13صفحہ12پر)

 انہیں عناصر کی بھینسیں بندھی ہیں جن کے آگے مارکیٹ کمیٹی کا عملہ بھتہ خوری کے باعث بے بس نظر اتا ہے متعدد دفاتر کو قبضہ مافیا نے اپنے گودام بنا رکھے ہیں غلہ منڈی کے اکثر راستے گٹر سے ابلتے تعفن زدہ پانی اور کیچر سے دلدل کا منظر پیش کررہے ہیں متعدد آڑھتیوں کے مطابق سیوریج کے چالیس سالہ بوسیدہ نظام کی وجہ سے غلہ منڈی کے آڑھتی شدید مشکلات سے دوچار ہیں راستوں پر گٹر کے بدبودار پانی کے مستقل کھڑا ہونے سے کاروبار تباہ ہورہے ہیں مارکیٹ ذمہ داران نے 7 ماہ قبل یہ عندیہ دیا تھا کہ فنڈز آگئے ہیں اور بہت جلد سیوریج کا جدید نظام اور سڑکوں کی تعمیر نو کا آغاز کیا جائے گا لیکن سات ماہ گزرنے کے باوجود نہ سیوریج کی نئی لائنیں بچھائی گئی ہیں نہ ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکوں کی تعمیر کی گئی یہاں تک کہ مارکیٹ کمیٹی عملہ کو سڑکوں پر کھڑے سیوریج کے بدبودار پانی کو نکالنے کی بھی فرصت نہیں ہے آڑھتیوں نے مزید بتایا کہ ہر آڑھتی اجناس کی 50 کلو کی بوری پر 100 روپے مارکیٹ کمیٹی کو فیس ادا کرتا ہے جبکہ فیسوں کے علاوہ ان سے ہر ہفتہ بھتہ وصولی بھی کی جاتی ہے لیکن غلہ منڈی کو ایک ماڈل منڈی بنانے میں مارکیٹ کمیٹی کوئی کردار ادا کرنے سے قاصر ہے انہوں نے ڈی سی ملتان عامر خٹک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کسی دن میٹنگ میں پروگرام اناونس کئیے بغیر غلہ و سبزی منڈی کا دورہ کریں تاکہ مارکیٹ کمیٹی کی ناقص کارکردگی اور غیر ذمہ دارانہ طرز عمل سے اعلی حکام آگاہ ہیں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر