کاروبار کو بچانے کیلئے حکومت راست اقدام کرے،سٹیل پائپ لائن انڈسٹری

کاروبار کو بچانے کیلئے حکومت راست اقدام کرے،سٹیل پائپ لائن انڈسٹری

  



اسلام آباد(آن لائن) سرپرست اعلٰی پاکستان سٹیل پائپ لائن انڈسٹری و سابق چیئرمین ایف پی سی سی آئی خالد جہانگیر بٹ نے کہا ہے کہ صنعتوں اور کاروبار کو بچانے کے لئے حکومت راست اقدام کرے کہیں دیر نہ ہو جائے اور لاکھوں لوگ بے روزگار ہو جائیں۔ صنعتیں ہر ملک میں ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہیں لیکن ہمارے ہاں دانستہ یا غیر دانستہ ریڑھ کی ہڈی پر وار کئے جا رہے ہیں۔ گزشتہ روز جاری کئے گئے اپنے ایک بیان میں خالد جہانگیر بٹ نے کہا کہ پاکستانی تاجروں و صنعتکاروں کو سیاست سے بالاتر ہو کر ریاست کی مضبوطی اور معاشی استحکام کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے۔ معاشی اور اقتصادی حالات کے پیش نظر کوئی بھی غیر یقینی کام ریاست کو پریشانی کے سوا کچھ نہیں دے سکتا اور ہمارا ملک اس وقت متحمل نہیں ہے۔ میری وزارت صنعت و پیداوار سے دردمندانہ درخواست ہے کہ جو فارمولا ہمارے اور وزارت کے درمیان طے پایا تھا وہ التواء کا شکار ہے جس سے سٹیل کی صنعت شدید مشکلات سے دوچار ہے اگر دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ لگانے والے سٹیل انڈسٹری میں امتیازی سلوک روا رکھیں گے تو ان کے لئے شرم کا مقام ہو گا اور ہمارے لئے مزید تباہی کا باعث ہو گا۔

یہ حکومت بھی اگر پچھلی حکومتوں کی طرح ہماری سٹیل انڈسٹری میں چند لوگوں کو ہی نوازنے پر کمربستہ ہے تو پھر اس ملک کی سٹیل کی صنعت کا اللہ ہی حافظ ہے۔میری تمام تاجروں سے اپیل ہے کہ ان کی طرف سے بھرپور کوشش ہونی چاہئے کہ ریاست کو ریونیو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے میں معاونت کریں۔گزشتہ ایک سال سے کاروبار تقریباً بند ہو چکا ہے اور ہزاروں لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں اور یہ پالیسیاں اگر جاری رہیں اور حکومت نے اپنے رویئے میں تبدیلی پیدا نہ کی تو یہ سٹیل کی صنعت بھی برباد ہو جائے گی اور لاکھوں لوگ بے روزگار ہو جائیں گے اور یہ بدنامی بھی حکومت کے حصے میں آئے گی۔ اگر ہماری برآمدات بہتر نہیں ہوں گی تو درآمدات میں ہم اپنا حصہ کیا ڈالیں گے؟ حکومت لگثری اشیاء منگوانے کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے تاکہ ڈالر کی قیمت مستحکم رہے یہ ایک اچھا اقدام ہے لیکن انڈسٹری کا کیا قصور ہے؟

مزید : کامرس