جے یو آئی نے (ف) دھرنے ختم کرنے کا اعلان کر دیا،ضلعی سطح پر احتجاج

جے یو آئی نے (ف) دھرنے ختم کرنے کا اعلان کر دیا،ضلعی سطح پر احتجاج

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) اپوزیشن جماعتوں کی نمائندہ رہبر کمیٹی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے تحت ملک بھر میں جاری دھرنوں کو ختم کرنے کا اعلان کردیا۔اسلام آباد میں رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد سربراہ کمیٹی اکرم درانی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اجلاس میں موجودہ صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔اکرم درانی نے کہا کہ ’آزادی مارچ اور نواز شریف کے باہر جانے کے فیصلے کے بعدحکومت بوکھلا گئی ہے، عمران خان کی کل کی تقریر حکومت کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے‘۔اکرم درانی نے اعلان کیا کہ رہبر کمیٹی نے پلان بی کے تحت ملک بھر میں لاک ڈاؤن اور سڑکوں کی بندش ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد ملک بھر کی سڑکیں کھول دی گئی ہیں۔اکرم درانی نے کہا کہ اب ہم ضلعی سطح پر مشترکہ احتجاجی جلسے کریں گے، اب احتجاج کا دائرہ کار ضلعی سطح پر ہوگا۔اکرم درانی نے کہا کہ اجلاس میں رہبر کمیٹی نے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانے کا فیصلہ کیا ہے، مولانا فضل الرحمان اس حوالے سے قائدین سے رابطے کر کے تاریخ کا تعین کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اپوزیشن جماعتیں الیکشن کمیشن کے ممبران کے نام تجویز کریں گی، رہبر کمیٹی  آج الیکشن کمیشن کے سامنے فارن فنڈنگ کیس روزانہ کی بنیاد پر سماعت  کیلئے  احتجاجی مظاہرہ کرے گی۔اکرم درانی نے کہا کہ رہبر کمیٹی نے اپنے چار نکات کا دوبارہ اعادہ کیا یعنی وزیر اعظم کو فوری طور پر جانا ہو گا، فوری آزاد اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں، یہ اپوزیشن کی 9 جماعتوں کے متفقہ فیصلے ہیں۔اکرام درانی نے کہا کہ رہبر کمیٹی کا طویل اجلاس ہوا جس میں تمام سوالات و جوابات ہوئے، باتوں میں فرق گھروں میں بھی آتا ہے، ہم 9 سیاسی جماعتیں ہیں بعض معاملات پر اختلاف بھی ہوسکتا ہے، رہبر کمیٹی کے ممبران کنٹینرز پر مسلسل آتے رہے ہیں۔سربراہ رہبر کمیٹی نے کہا کہ اس وقت حکومت دیوار سے لگ چکی ہے، پلان بی کے بعد کسی اور پلان کی ضرورت نہیں رہے گی۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ہم اکرم درانی سے مکمل اتفاق کرتے ہیں، چوہدری برادران سے مذاکرات سے متعلق بات ہوئی جس پر اکرم درانی کی وضاحت پر مطمئن ہیں۔اکرام درانی نے کہا کہ۔ عوام مہنگائی سے تنگ آ چکے ہیں۔ حکومت پوری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ حکومت نے معیشت تباہ کر دی ہے۔ عمران خان قوم پر ترس کھائیں اور گھر چلے جائیں۔اس سے قبلجے یو آئی(ف)کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں اہم شاہراہوں پر دھرنوں کا سلسلہ  گزشتہ روز بھی جاری  رہا۔کراچی میں صبح دھرنے کا آغاز ہوتے ہی حب ریور روڈ آنے اور جانے والی سڑک کو ٹریفک کیلئے بند کرکے ٹریفک کو مشرف کٹ اور حب ٹول سے متبادل راستے فراہم کردئیے گئے تھے۔دھرنے کے مقام پر ٹریفک پولیس،علاقائی پولیس اور رینجرزکی نفری بھی پہنچ گئی۔کراچی میں دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام(ف) کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاکہ ہم نے احتجاجی تحریک سے بہت کچھ حاصل کر لیا ہے جس کے نتائج آئندہ چند روز میں سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ جے یو آئی نے سلیکٹڈ حکمرانوں کے خلاف تحریک کا آغاز 5 نومبر 2018 کو ملین مارچ سے آغاز کیا تھا،شرمناک دھاندلی اس سے قبل پاکستان کی تاریخ میں نہیں ہوئی،جے یو آئی کا بیانیہ حزب اختلاف کی سب جماعتوں کا بیانیہ بنا، انتخابات ایک ڈھونگ تھے اور عمران خان کو مسلط کیا گیا جبکہ ہمیں کہا گیا کہ انہیں وقت دیں تاکہ پالیسیاں سامنے آئیں لیکن ڈیڑھ سال میں یہ کوئی مثبت پیش رفت نہ کر سکے۔

دھرنے ختم

بنوں (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے دن گنے جاچکے کیونکہ ہم اسلام آباد ویسے نہیں گئے اورایسے نہیں آئے۔بنوں میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نیکہاکہ پاکستان سے باطل اور نالائق حکومت کا خاتمہ ہوگا، ہم پاکستان کی جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے نکلے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کے پاس مخالفین کو گالیاں دینے کے علاوہ کچھ نہیں، ان حکمرانوں کا کوئی نظریہ نہیں، یہ گالم گلوچ اور بازاری زبان کوسیاست سمجھتے ہیں، ہمیں پتا ہے تم بازاری ہو اور یہی زبان تمہارے شیان شان ہے۔مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان کو چیلنج دیتے ہوئے کہاکہ آؤ میرے اور اپنے کردار کا مقابلہ کرو، اپنے والد میرے والد اور دادا کا مقابلہ کرو۔جے یو آئی (ف) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ آپ کے دن گنے جاچکے، ہم اسلام آباد ویسے نہیں گئے اور ویسے نہیں آئے، آپ کی جڑیں کٹ گئیں اور چولیں ہل گئیں، اب دن گنتے جاؤ،۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ کہتے تھے موٹروے پاکستان کو تباہ کرے گا، یہ ترقی کا راستہ نہیں، آج نوازشریف کے موٹروے کے افتتاح کے لیے گئے یا نہیں، سب کو چور کہنے والا آج کیا منہ دکھائے گا۔مولانا فضل الرحمان نے الزام لگایا کہ عمران خان نے اپنی بہن کو ایمنسٹی اسکیم کے تحت این آر او دیا، سلائی میشن کی کمائی 70 ارب تک پہنچ گئی، ہمیں بھی ایسی سلائی مشین دے دو تاکہ ہم بھی 70 ارب بنالیں۔ان کا کہنا تھا کہ کہتے تھے پاکستان کے 200 ارب ڈالر باہر پڑے ہیں، اب کہتے ہیں کوئی پیسہ نہیں، چیئرمین ایف بی آر نے بھی بیان دیا کوئی پیسہ نہیں، آپ کو گالیوں کے سوا کچھ نہیں آتا، ان باتوں سے حکومتیں نہیں چلتیں، قوم کو دوبارہ الیکشن کی طرف جانا ہوگا۔

فضل الرحمن 

مزید : صفحہ اول