جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس،کوئی بھی ادارہ مکمل ٹھیک نہیں،ہر جگہ بہتری کی گنجائش ہوتی ہے:جسٹس عمر عطاء بندیال

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس،کوئی بھی ادارہ مکمل ٹھیک نہیں،ہر جگہ بہتری کی ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف ریفرنس کیس کی سماعت، وزیر اعظم عمران نے کل چیف جسٹس اور مستقبل کے چیف جسٹس کو مخاطب کرکے بیان دیا، وزیر اعظم نے بیان میں امیر غریب کے لیے الگ الگ قانون کی بات کی، وزیر اعظم نے چیف جسٹس اور مستقبل کے چیف جسٹس کو جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل بابر ستار نے معاملہ درستگی کی استدعاکی، سیاسی بیانات کیلیے یہ فورم استعمال نہ کریں، کوئی بھی ادارہ مکمل پرفیکٹ نہیں ہے، ہر ادارے میں  بہتری کی گنجائش ہوتی ہے جسٹس عمر عطا بندیال کے ریمارکس۔تفصیلات کے مطابق جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں فل کورٹ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے اہلیہ اور بچوں کو کوئی گفٹ نہیں دیا، جو دلائل آپ دے رہے ہیں وہ گفٹ دینے سے متعلق ہیں،جب گفٹ دیا ہی نہیں تو اس نقطے پر دلائل کا ہم کیا کرینگے۔بابر ستار نے کہاکہ وزیر اعظم عمران نے سوموار کو چیف جسٹس اور مستقبل کے چیف جسٹس کو مخاطب کرکے بیان دیا، وزیر اعظم نے بیان میں امیر غریب کے لیے الگ الگ قانون کی بات کی، وزیر اعظم نے چیف جسٹس اور مستقبل کے چیف جسٹس کو معاملہ کی درستگی کی استدعاکی۔اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سیاسی بیانات کے لیے یہ فورم استعمال نہ کریں، کوئی بھی ادارہ مکمل پرفیکٹ نہیں ہے، ہر ادار  ے میں بہتری کی گنجائش ہوتی ہے، ماتحت عدلیہ کے ایک جج کی وجہ سے پوری عدلیہ کو شرمندگی اٹھانا پڑی، اس روسٹرم پر وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ بارے بات نہ کریں۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ وزیر اعظم کے بیان کو قانون کے تناظر میں دیکھ لیں گے، عدلیہ کو وقار اور عوام کو اعتماد کو بحال رکھنا ہے. بابر ستار نے کہا کہ میں سیاسی بات نہیں کر رہا، عمومی طور پر عدالتی فیصلہ سے ایک فریق خوش اور ایک ناخوش واپس جاتا ہے، وزیر اعظم کے بیان سے لگا وہ خوش نہیں ہیں، میں وزیراعظم پر تنقید ہر گز نہیں کر رہا، بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایک تاثر قائم ہے، جب ایک فریق عدالتی فیصلے سے ناخوش ہوتا ہے اس پر تنقید کرتا ہے، بابر ستار نے کہا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں وزیراعظم بھی ایک حالیہ فیصلے سے خوش نہیں تھے جب انہوں نے یہ بیان دیا۔بابر ستار نے کہا کہ کیس میں بھی جج اور ان کی اہلیہ سے متعلق بات کی گئی ہے، ریفرنس میں کوڈ آ ف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کا نہیں کہا گیا، سوال یہ بھی ہے کیا پرانے عہدے پر مس کنڈکٹ موجودہ عہدہ سے ہٹانے کیلئے استعمال ہو سکتا ہے؟میرا موقف ہے صدر کو ریفرنس بھیجنے سے پہلے شواہد کا جائزہ لینا چاہیے تھا، بابر ستار نے کہا کہ صدر مملکت کے سامنے کسی جج کیخلاف مواد شک و شبہ سے بالاتر ہونی چاہیے، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ صدر مملکت کے سامنے مواد شک و شبہ سے بالاتر ہو تو کونسل کو بھیجنے کی کیا ضرورت ہے، اس پر بابر ستار نے کہا کہ صدر مملکت کا کسی جج کیخلاف ریفرنس بھیجنا سنجیدہ معاملہ ہے۔عدالت  نے کیس کی سماعت اگلے ہفتے بدھ تک ملتوی کردی۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کیس

مزید : صفحہ اول