خزانہ بھرنے کیلئے لوگوں کے منہ کا نوالہ چھیننا کہاں کا انصاف:سرا ج الحق

  خزانہ بھرنے کیلئے لوگوں کے منہ کا نوالہ چھیننا کہاں کا انصاف:سرا ج الحق

  



لاہور(نمائندہ خصوصی) امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ وزیر اعظم کی جذباتی تقاریر سن سن کر لوگ تنگ آچکے ہیں اور اب کوئی بھی ان کی بات کو سنجیدہ نہیں لیتا۔ خزانہ بھرنے کے لیے لوگوں کے منہ کا نوالہ چھیننا کہاں کا انصاف ہے۔ ایک پاکستان بنانے کے دعویداروں نے طبقاتی تقسیم کو مزید گہرا کر دیاہے۔ امیر اور غریب کے لیے عدالتیں، ہسپتال اور تعلیمی ادارے جدا جدا ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لوئر دیر میدان،میں کارکنان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ وزیراعظم کو سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے ملک کے مستقبل کی فکر کرنی چاہیے۔اب انہیں دعوؤں کی بجائے کچھ کر کے دکھانا ہوگا۔ وہ پارٹی لیڈر نہیں بلکہ ملک کے وزیراعظم ہیں لیکن شاید ابھی تک ان کو اس بات کا یقین نہیں آیا۔ پندرہ ماہ کے دوران حکومت کسی شعبہ میں بھی کوئی تبدیلی نہیں لاسکی۔ مہنگائی، بے روزگاری کے ساتھ ساتھ کرپشن میں بھی اضافہ ہوگیاہے۔ رشوت کے ریٹ بڑھ چکے ہیں۔ تھانے اور پٹوار خانے کا نظام پہلے سے زیادہ ابتر ہو چکاہے۔سینیٹر سرا ج الحق نے کہاکہ حکمران بتائیں کہاں ایک پاکستان ہے۔ امیر غریب کے درمیان خلیج مسلسل بڑھ رہی ہے۔ غریب کو کہیں سے انصاف نہیں ملتا۔ غریبوں کے تعلیمی ادارے چار دیواری، بجلی اور پانی سے بھی محروم ہیں اور امیروں کے تعلیمی اداروں میں گھڑ سواری، پولو اور حکمرانی کے داؤ پیچ بھی سکھائے جاتے ہیں۔ حکمران امریکہ اور برطانیہ کے ہسپتالوں سے علاج کرواتے ہیں اور غریبوں کو سرکاری ہسپتالوں میں بھی علاج کی سہولت نہیں ملتی۔ 

سراج الحق

مزید : صفحہ آخر