ماڈل ٹاؤن کیس حساس معملہ:جمال سکھیرا،کیا ہائیکورٹ کو اسکا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے؟جسٹس قاسم خان،سماعت التوا کی استدعا مسترد

  ماڈل ٹاؤن کیس حساس معملہ:جمال سکھیرا،کیا ہائیکورٹ کو اسکا فیصلہ نہیں کرنا ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس قاسم خان، جسٹس ملک شہزاد احمدخان اور جسٹس عالیہ نیلم پر مشتمل فل بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ازسرنو تحقیقات کیلئے دوسری جے آئی ٹی تشکیل دینے کیخلاف دائر درخواست کی سماعت ملتوی کرنے کیلئے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کے وکیل خواجہ طارق رحیم کی استدعا مستردکرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ چاہتے ہیں ادارہ منہاج القرآن یہاں التواء لے اور باہر عدالتوں پر کیچڑ اچھالے کہ عدالتیں سانحہ ماڈل ٹاؤن کافیصلہ نہیں کررہیں،فاضل بنچ نے ادارہ منہاج القرآن کے دوسرے وکیل اظہر صدیق کی طرف سے ایک دن کا التواء مانگنے پر کہا کہ آپ تحریری درخواست دیں،ہم اس درخواست کو اپنے تحریری حکم میں شامل کریں گے اور پھر اسکی نقل میڈیا کو بھی دیں گے،جواسے چلائے گاتاکہ پتہ چلے کہ کیس کے فیصلے میں تاخیر کا ذمہ دارکون ہے،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب جمال سکھیرا کی طرف سے التواء کے حوالے سے گول مول رویہ اختیار کرنے پر فاضل بنچ کے سربراہ محمد قاسم خان نے شعر چست کیا کہ۔۔خوب پردہ ہے چلمن سے لگے بیٹھے ہیں۔۔صاف چھپتے بھی نہیں،سامنے آتے بھی نہیں۔۔عدالتی کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا مستردہونے کے بعد ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے دلائل دیئے،انکے دلائل مکمل ہونے کے بعد فاضل بنچ نے متاثرین سانحہ ماڈل ٹاؤن کے وکیل کو دلائل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت آج 20نومبر تک کیلئے ملتوی کردی،فاضل بنچ نے درخواست گزارپولیس اہلکاروں رضوان قادراورخرم رفیق وغیرہ کے وکیل سے استفسار کیا کہ یہ کیس ہے کیا؟ ان کے وکیل اعظم نذیرتارڑ نے کہا کہ اس کیس میں 2 ایف آئی آرز درج ہوئیں، ایک سرکار کی طرف سے دوسری متاثرین کی طرف سے، جے آئی ٹی نے انکوائری کی،چالان پیش ہوگیا،80کے قریب شہادتیں ہوگئیں،بعد میں پنجاب حکومت نے دوسری جے آئی ٹی بنا دی،جسے ہم نے چیلنج کررکھاہے اور اس پر عدالت کا حکم امتناعی موجود ہے،سانحہ ماڈل ٹاؤن کے وکیل نے استدعا کی کہ ہائی کورٹ کے حکم امتناعی کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل زیرالتواء ہے،سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرلیا جائے،فاضل بنچ نے کہاآپ کاکلائنٹ ہی میڈیا پر بیان دیتا ہے کہ مقدمے کا فیصلہ نہیں ہو رہا، ہم انتظار کرتے رہے کہ اس کیس کی جلد سماعت کیلئے کوئی متفرق درخواست آئیگی،8 ماہ انتظار کرنے کے بعد اس کیس کو سماعت کیلئے مقرر کیا ہے، اسی وجہ سے وقت دیا کہ آپ کاسپریم کورٹ میں فیصلہ ہو جائے، متاثرین کے وکیل نے کہا کہ توقع ہے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ والا کیس ختم ہو جائے گا اسکے بعد 5 ممبر بنچ متاثرین کی اپیل سن لے گا، جسٹس محمدقاسم خان نے کہا کہ آپ دلائل شروع کریں اگر سپریم کورٹ سے حکم امتناعی آ گیا تو ہم کارروائی روک لیں گے، عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سے پوچھا آپ کوکوئی تحفظات ہیں؟ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا جی ہمیں تحفظات ہیں، عدالت نے کہا آپ کی رپورٹ اور پیراوائز کمنٹس ہیں مگر بیان حلفی موجود نہیں ہے، آپ کو بیان حلفی کے ساتھ تحریری جواب جمع کروانا چاہیے تھا، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہاہم نے رجسٹرار آفس کو جمع کروا رکھے ہیں، دوسری جے آئی ٹی کے خلاف سپریم کورٹ سے فیصلہ ہونے دیا جائے، عدالت نے کہا تاکہ ادارہ منہاج القرآن والے عدالتوں پر کیچڑ اچھالیں کہ فیصلہ نہیں ہورہا،ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ میں التواء کی درخواست نہیں کر رہا مگر میرے خیال میں پہلے سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے دیا جائے، ستمبر 2019 ء کو سپریم کورٹ نے انسداد دہشت گردی کی عدالت سے رپورٹ طلب کر رکھی تھی،درخواست گزاروں رضوان قاد ر وغیرہ کو نوٹس بھی ہوچکے ہیں،عدالت نے کہا نوٹسز کے اجراء کے بارے میں تو آپ کو ثابت کرنے پڑے گا،جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ یہی بتانا چاہتا ہوں کہ یہ سارا ریکارڈ سپریم کورٹ میں ہے، عدالت نے کہا آپ کو سارا ریکارڈ پیش کرنا چاہئے تھا، 4 ماہ بعد کیس کی سماعت ہو رہی ہے، ہم کیوں ریکارڈ منگوائیں، اگر آپ اس کا فائدہ نہیں لینا چاہتے کہ رضوان قادر، خرم رفیق سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری ہوئے ہیں تو ہم آگے چلتے ہیں، فرض کریں کہ سپریم کورٹ سے نوٹسز جاری ہونے کی بنیاد ہم اس درخواست کو خارج کر دیتے ہیں اور پھر کوئی آئینی درخواست لے کر آجاتا ہے تو پھر کیا ہو گا؟ایڈووکیٹ جنرل نے کہا درخواست گزار دوسری جے آئی ٹی میں اپنے بیانات قلمبند کروا چکے ہیں، یہ معمولی کیس نہیں کہ لاء افسرکے بیان ہر کیس نمٹا دیا جائے، میں کہنا چاہتا ہوں یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور عدالت نے اس کیس کو باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کر رکھا ہے، سپریم کورٹ نے 2015 ء کے ایل ڈی اے کیس میں اسی طرح کے سوال کو طے کیا تھا، جسٹس ملک شہزاداحمد خان نے کہاکہ کیا ایسا فیصلہ جس میں لاء آفیسر کے بیان پر درخواست نمٹا دی گئی ہو اس پر ہائیکورٹ عمل کرنے کی پابند ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا یہ حساس معاملہ ہے جس پرجسٹس محمد قاسم خان نے کہا کہ کیا ہائیکورٹ کو ایسے حساس ایشوز کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے؟ آپ ایک گھنٹے کے دلائل کے بعد پھر گھوم کر واپس ملتوی کرنے کی استدعا پر آ گئے ہیں، اس موقع پر فاضل جج نے مذکورہ شعر پڑھااور کہا کہ آپ سیدھا کہہ بھی نہیں رہے کہ سماعت ملتوی کر دی جائے اور نہ کہتے ہیں کہ دلائل جاری رکھیں گے، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے دلائل دیئے کہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کے از خود نوٹس لینے کے بعد بنائی گئی تھی،یہ درخواست قابل سماعت نہیں ہے،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فاضل جج نے کیس کی مزید سماعت آج 20نومبر پر ملتوی کرتے ہوئے متاثرین ماڈل ٹاؤن کے وکیل اظہر صدیق سے کہا کہ اب آپ دلائل دیں گے،جس پر اظہر صدیق نے کہا کہ مجھے ایک دن کی مہلت دی جائے،میں 21 نومبر کو دلائل دوں گا،جس پر بنچ کے سربراہ نے کہا کہ آپ تحریری طور پر سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دے دیں، ہم اس درخواست کو تحریری حکم میں بھی لکھوائیں گے اور کاپی میڈیا کو دیں گے،اس کیس کی مزید سماعت آج 20نومبر کو ہوگی۔

ماڈل ٹاؤن کیس

مزید : صفحہ آخر