ٹانک، 10بے گناہ افراد قتل میں ملوث انعام گروپ کانامزدملزم گرفتار 

    ٹانک، 10بے گناہ افراد قتل میں ملوث انعام گروپ کانامزدملزم گرفتار 

  



ٹانک(نمائندہ خصوصی)سانحہ اماخیل واقع میں مسافر کوچ پر فائرنگ کے نتیجہ میں 10بے گناہ افراد کے قتل میں مطلوب انعام گروپ سے تعلق رکھنے والے مبینہ نامزد ملزم کو ملازئی پولیس نے گرفتار کر لیا ملزم کے قبضہ سے پستول اور ہینڈ گرینیڈبرآمد ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ٹانک محمد عارف خان نے اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ تھانہ ملازئی کی حدود میں 17اکتوبر کو انعام گروپ نے ایک کاروائی کے دوران  مسافر کوچ پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجہ میں 10بے گناہ افراد زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے  گزشتہ روز ٹانک کے علاقہ درہ بین میں پولیس کو ملزمان کی موجودگی کی اطلاع ملی جس پر ڈی ایس پی رورل خالد خان اور ایس یچ او ملازئی فہیم ممتاز کی قیادت میں چھاپہ مار پارٹی تشکیل دی گئی جس نے کاروائی کرتے ہوئے مذکورہ انسانیت سوز واقع میں ملوث نامز د ملزم عادل مروت کو گرفتار کر لیا جبکہ ملزم کے قبضہ سے ایک پستول بمعہ 30کارتوس اور ایک ہینڈگرینیڈ برآمد کر لیا ڈی پی او کا کہنا تھا کہ مذکورہ واقع میں ملوث 6ملزمان پر دہشت گردی کی 7ATAکے تحت مقد مات درج کئے گئے ہیں گرفتار ملزم نے دوران تفتیش سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں جن کو صیغہ راز میں رکھا جا رہا ہے تاکہ ملوث ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے انہوں نے بتایا کہ ملزمان کی گرفتاریوں کو یقینی بنانے کے لئے ان کے نام ای سی ایل میں بھی ڈالے گئے ہیں تاکہ ان کی ملک سے فرار ہونے کی کوشش کو  ناکام بنایا جا سکے ڈی پی او عارف خان نے کہا کہ علاقہ ملازئی میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے پولیس کا گشت بڑھا دیا گیاہے تاکہ شہریوں کی جان ومال کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے انعام مروت سمیت دیگر پانچ ملزمان کی گرفتاری کے لئے پولیس نے دن رات ایک کی ہوئی ہے اور اس میں تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی پولیس کو مدد فراہم کر رہے ہیں گرفتار ملزم عادل مقامی پولیس کو چار دیگر سنگین مقدمات میں بھی مطلوب تھا واضح رہے کہ17اکتوبر کو تھانہ ملازئی کی حدود میں مسافر کوچ کوچ پر فائرنگ سمیت دیگر واقعات میں 13افراد قتل ہوئے تھے جس میں 10افراد کے قتل کی دعوے داری گرفتار ملزم پر جبکہ انعام مروت اور اس کے دیگر نامزد ساتھیوں پر 11افراد کے قتل کی دعوے داری عائد کی گئی تھی

مزید : پشاورصفحہ آخر