پولیو کے خاتمہ میں ناکامی پر فکر مند ہونا چاہئے،ڈاکٹر کاظم نیاز

  پولیو کے خاتمہ میں ناکامی پر فکر مند ہونا چاہئے،ڈاکٹر کاظم نیاز

  

ایبٹ آباد(نامہ نگار) چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز نے ایبٹ آباد میں شروع کی گئی پولیو مہم کے اہداف کے عدم حصول اور پولیو کی اہمیت کے حوالے سے عام لوگوں کی آگاہی کے لیے جامع حکمت عملی کی عدم موجودگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں پولیو کے بارے میں فکر مند ہونا چاہیے اور پولیو کے خاتمے کے لیے مشنری جو ش و جذبے سے کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے پولیو مہم میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ وہ پولیو کے قطروں کی افادیت اجاگر کرنے اور بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے گریز کرنے والے والدین کو آمادہ کرنے کے لیے منتخب عوامی نمائندوں اور سیاسی پارٹیوں کے عہدیداروں وغیرہ کو بھی پولیو مہم اور عمومی آگاہی کی حکمت عملی میں شامل کریں۔ یہ ہدایات انہوں نے پیر کی شام ڈپٹی کمشنر آفس ایبٹ آباد میں ضلع کی پولیو مہم کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ کمشنر ہزارہ ڈویژن سید ظہیر الاسلام،ریجنل پولیس آفیسر ہزارہ ڈویژن ڈاکٹر مظہر الحق کاکاخیل،ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے متعلقہ افسران نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز نے پولیو کے خاتمے پر مامور افسران پر زور دیا کہ وہ پولیو کے حوالے سے مقرر کئے گئے اہداف حاصل کرنے کے لیے معمول سے ہٹ کر فرض شناسی اور پختہ عزم و ہمت کا مظاہرہ کریں اور پولیو کی وجہ سے اپنے صوبے اور ملک کو داغ دار نہ ہونے دیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ پولیو مہم کے دوران سامنے آنے والی مشکلات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور موجودہ مہم میں ان مسائل کو ہر صورت میں دور کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جو والدین اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکاری ہیں انہیں پو لیو کی افادیت سے موثر طور پر آگاہ کیاجائے اورانہیں آمادہ کرنے کے لئے اپوزیشن پارٹیوں سمیت تمام عوامی نمائندوں کا تعاون حاصل کیا جائے۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ عام لوگوں اور خصوصاً والدین تک پولیو کے بارے میں پیغام رسانی کے لیے تمام متعلقہ محکموں کی مربوط،جامع اور موثر کمیونیکیشن حکمت عملی بھی مرتب کرکے اس پر عملدرآمد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے حوالے سے صوبے کی بدنامی ہورہی ہے اور رواں پولیو مہم میں اہداف کے حصول کی صورت میں ہمیں ہر صورت اس بیماری کے خاتمے کی رفتار کا تعین کرنا ہوگا۔ چیف سیکریٹری نے اعلان کیا کہ پولیو مہم میں اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو نقد انعامات پیش کیے جائیں گے اور تین ٹاپ پرفارمنرزکو چیف سیکرٹری آفس میں مدعو کرکے توصیفی سرٹیفیکیٹ اور انعامات کے اعزاز سے نوازا جائے گا۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اپنی ناقص کارکردگی سے صوبے اور ملک کا نام بد نام کرنے والے افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔چیف سیکریٹری نے پولیو کے قطرے پلانے سے بچنے کے لئے والدین کی جانب سے بچوں کو انگوٹھے پر جعلی نشانات لگانے کی اطلاعات کا بھی نوٹس لیا اور اس صورتحال کے سدباب کے لئے ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایبٹ کا شمار خواندہ اور باشعور اضلاع میں ہوتا ہے اس لئے لوگوں کو پولیو کے قطروں سے انکار کے نقصانات کو سمجھنا چاہئے جس کے لیے متعلقہ محکموں اور انتظامیہ کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت تورغر، بٹگرام اورکوہستان جیسے پسماندہ اضلاع میں بھی پولیو کے خاتمے کی حکمت عملی کا خصوصی طور پر جائزہ لے گی۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ پولیو مہم کے بارے میں مسلسل رپورٹیں صوبائی حکومت کو ارسال کی جائیں تاکہ ہر روز کی کارکردگی کے حوالے سے فرق معلوم کیا جاسکے۔ چیف سیکرٹری نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سیزن میں ڈینگی کے خاتمے کے لیے بھی اس سال دسمبر سے ہی مربوط اور بھرپور مہم شروع کردیں اور پولیو کے علاوہ سکولوں سے باہر رہنے والے بچوں کے مکمل اعداد و شمار بھی جمع کریں۔دریں اثناء چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز نے پیر کی رات بے نظیر بھٹو شہید ٹیچنگ ہسپتال کا بھی اچانک دورہ کیاا اور ایمرجنسی، زنانہ و مردانہ وارڈ اور دیگر سہولیات کے معائنے کے علاوہ وہاں موجود مریضوں اور ان کے لواحقین سے ان کی مشکلات و مسائل معلوم کئے۔ انہوں نے ہسپتال میں ایمرجنسی و بعض دیگر سہولیات اورعمارات کی حالت کو نا گفتہ بہ قرار دیتے ہوئے اس صورتحال پر عدم اطمینان اور تشویش کا اظہار کیا۔ چیف سیکریٹری نے اس موقع پر موجود کمشنر ہزارہ اور ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد کو ہدایت کی کہ وہ ہسپتال میں فوری طور پر ناگزیر مرمت وغیرہ کے اقدامات کریں اور پینے کے پانی، انتظارگاہ اور حال ہی میں قائم کی گئی پناہ گاہ میں کھانے کا بندوبست کریں تاہم انھوں نے کہا کہ ہسپتال کی مکمل تعمیر نو بھی ضروری ہوگئی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -