چارسدہ میں ضلعی انتظامیہ نے تعلیمی معیار کا بیڑہ غرق کر دیا

    چارسدہ میں ضلعی انتظامیہ نے تعلیمی معیار کا بیڑہ غرق کر دیا

  



چارسدہ(بیو رو رپورٹ) چارسدہ میں ضلعی انتظامیہ نے تعلیمی معیار کا بیڑہ غرق کر دیا،ضلعی انتظامیہ کے ہر پروگرام میں افرادی قوت پورا کرنے کے لئے سکولوں کے بچوں طلب کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہے،ہر پروگرام میں تحصیل بازار میں نزدیک واقع سکولوں سے 100سے لیکر 150طلبہ کو طلب کیا جاتا ہے۔چارسدہ میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ضلعی سطح پر ہونے والے پروگرام میں افسران سمیت دیگر شرکاء کی عدم دلچسپی کے باعث افرادی قوت کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کو پورا کرنے کے لئے سکول کے بچوں طلب کیا جاتاہے جس سے نہ صرف طلباء کا وقت ضائع ہو جاتا ہے بلکہ اس سے سکول کے تعلیمی معیار پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے۔ اس حوالے سے ایک سکول استاذ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جب بھی کو ئی تقریب یا سیمینار کا انعقاد کیا جاتا ہے تو اس میں چند ہی افسران یا اہلکار شرکت کرتے ہیں جس سے ان کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کو پورا کرنے کے لئے سرکاری سکولوں کے طلباء سے مدد لی جاتی ہے اور اس قسم کی تقریبات میں اس تحصیل بازار میں واقع سکولوں سے طلبہ کو بلایا جاتا ہے جس کے باعث نہ صرف سکول سے تقریب میں شرکت کے لئے جانے والے بچوں کا وقت ضائع ہو جاتا ہے بلکہ اس سے کلاس میں موجود دیگر طلباء کی پڑھائی پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے حال ہی میں منعقد ہونے والے سرگرمیوں میں سے کشمیر ریلی،محکمہ انڈسٹریز اینڈ کنزیومر پروٹیکشن،محکمہ اینٹی کرپشن اور دیگر پروگرامز میں محکمہ تعلیم کے استاتذہ کو سکولوں کے طلباء کو شامل کیا گیا تھا۔یا در ہے کہ موجودہ حکومت کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانا اور سکول کے خراب نتائج دینے والے استاتذہ کے خلاف کاروائی کرنا اولین ترجیحات میں شامل ہیں لیکن چارسدہ میں ضلعی انتظامیہ ہی تعلیمی معیار کا بیڑہ غرق کرنے پر تلا ہوا ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر