پشاور: چڑیا گھر ہاتھی منتقلی، وفاقی حکومت کا این او سی دینے سے انکار

پشاور: چڑیا گھر ہاتھی منتقلی، وفاقی حکومت کا این او سی دینے سے انکار

  



پشاور (سٹی رپورٹر)وفاقی حکومت نے زمبابوے سے ہاتھی خرید کر پشاور کے چڑیا گھر منتقلی سے متعلق این او سی دینے سے انکار کر دیا وزارت محلویاتی تبدیلی نے موقف اپنایا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ہاتھی ایمپورٹ کرنے کیلئے این او سی جاری نہ کرنے کی ہدایت کی ہے جسکے نتیجے میں اہلیان پشاور کا چڑیا گھر میں ہاتھی کی سیر سے محروم رہ جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ صوبائی حکومت نے این او سی کیلئے دی جانے والی درخواست کو وزارت ماحولیاتی تبدیلی کی منظوری سے مشروط کر دیا ہے ان خیالات کا اظہار چیف ایگزیکٹیوگورنمنٹ کنٹریکٹر پشاور محمد حنیف نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ 18مہینے پہلے پشاور زو نے ہاتھی ایمپورٹ کرنے کیلئے ٹینڈر جار ی کیا تھا جس پر ہم نے زمبابوے سے ہاتھی ایمپورٹ کرنے کیلئے تمام قانونی تقاضے پورے کئے اور زمبابوے ھکومت کو 65ملین روپے کی ادایئگی بھی کی جبکہ پشاور چریا گھر کو تمام مذکورہ کاغذات بھی دیے مگر پشاور چڑیا گھر نے این او سی دینے سے انکار کیا اور این او سی کو اسلام آباد سائٹس ریفر کیا۔انہوں نے کہا کہ این او سی کی درخواست کو اسلام آباد سائٹس والوں نے این او سی جاری نہیں کی اور موقف اپنایا کہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت ہے کہ ہاتھی کیلئے این او سی جاری نہ کیا جائے تاہم اگر ہاتھی کے ایمپورٹ پر پابندی تھی تو ہمیں حکومت بروقت اطلاع دیتی اور ہم فنڈز ادا نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے این او سی کیلئے دی جانی والی درخواست کو وزارت ماحولیاتی تبدیلی کی منظوری سے مشروط کر دیا ہے جسکی وجہ سے ہمارے رقوم بھی پھنسے ہوئے ہے اور پشاور کی عوام ہاتھی کے سیر سے بھی تاحال محروم ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں ایک دن کے اندر اندر وزارت ماحولیاتی تبدیلی سے این او سی جاری کی جائے بصورت دیگر ہمیں ہاتھی ایمپورٹ کرنے کیلئے ادا کی گئی رقوم واپس کئے جائے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر