جے یو آئی کا پلان  بی کے تحت چھٹے روز بھی لاہور سمیت ملک بھر میں دھرنا

جے یو آئی کا پلان  بی کے تحت چھٹے روز بھی لاہور سمیت ملک بھر میں دھرنا

  



کراچی،اسلام آباد، لاہور، کوئٹہ،ملاکنڈ،گھوٹکی (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں)جے یو آئی(ف) کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں اہم شاہراہوں پر دھرنوں کا سلسلہ چھٹے روز بھی جاری ہے۔کراچی میں صبح دھرنے کا آغاز ہوتے ہی حب ریور روڈ آنے اور جانے والی سڑک کو ٹریفک کیلئے بند کرکے ٹریفک کو مشرف کٹ اور حب ٹول سے متبادل راستے فراہم کردئیے گئے تھے۔دھرنے کے مقام پر ٹریفک پولیس،علاقائی پولیس اور رینجرزکی نفری بھی پہنچ گئی۔لاہور میں بھی جے یو آئی کے کارکنوں نے لاہورمیں شاہدرہ سے آگے امامیہ کالونی پھاٹک کے قریب جی ٹی روڈ پر دھرنا دیا جس سے راولپنڈی جانے والی ٹریفک بلاک ہوگئی، مظاہرین صفیں بچھا کر سڑک پربیٹھ گئے۔مظاہرین کا کہنا تھاکہ ناجائز حکومت کو نہیں مانتے اسے گھر بھیج کر دم لیں گے۔دھرنے کے باعث جی ٹی روڈ کے دونوں جانب راہ گیروں، خواتین اور طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنی منزل پر پہنچنے کے لیے 2،2 کلو میٹر زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑرہا ہے۔جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے پلان بی کے تحت 24 نومبر کو لاہور میں بڑا دھرنا دینے کا اعلان بھی کیا گیا ہے جس سے مولانا فضل الرحمان اور سینئر رہنما خطاب کریں گے۔اسلام آباد میں جے یو آئی کارکنوں نے 26 نمبر چونگی،بلوچستان کی دو اہم قومی شاہراہوں کوئٹہ چمن اور کوئٹہ ڑوب شاہراہوں پر دھرنا دے کر سڑکوں کوآمدورفت کیلئے بند کردیا گیا جس کے باعث پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی سپلائی روٹ بند ہو گیا۔اس کے علاوہ بنوں،مالا کنڈ، مانسہرہ،جیکب آباد، کشمور،کندھ کوٹ،گھوٹکی میں بھی جے یو آئی کی جانب سے اہم شاہراہوں پر دھرنا دیکر گاڑیوں کی آمدو رفت بند کردی گئی۔کراچی میں دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام(ف) کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاکہ ہم نے احتجاجی تحریک سے بہت کچھ حاصل کر لیا ہے جس کے نتائج آئندہ چند روز میں سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ جے یو آئی نے سلیکٹڈ حکمرانوں کے خلاف تحریک کا آغاز 5 نومبر 2018 کو ملین مارچ سے آغاز کیا تھا،شرمناک دھاندلی اس سے قبل پاکستان کی تاریخ میں نہیں ہوئی،جے یو آئی کا بیانیہ حزب اختلاف کی سب جماعتوں کا بیانیہ بنا، انتخابات ایک ڈھونگ تھے اور عمران خان کو مسلط کیا گیا جبکہ ہمیں کہا گیا کہ انہیں وقت دیں تاکہ پالیسیاں سامنے آئیں لیکن ڈیڑھ سال میں یہ کوئی مثبت پیش رفت نہ کر سکے۔

پلان بی

مزید : صفحہ اول