صوبے میں تعلیمی ایمر جنسی نافذ کر کے دیرپا اصلاحات متعارف کرائیں:محمود خان

صوبے میں تعلیمی ایمر جنسی نافذ کر کے دیرپا اصلاحات متعارف کرائیں:محمود خان

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے حکومت میں آتے ہی صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرکے دیرپا اصلاحات متعارف کرائیں۔ہم سرکاری سکولوں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جو تعلیم کے لئے ہماری غیر معمولی دلچسپی اور پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ صو بے میں موجودسرکاری تعلیمی اداروں کا معیار بلند کرنے کیساتھ نئے تعلیمی ادارے بھی قائم کئے گئے ہیں جن میں مردان کیڈٹ کالج برائے خواتین کا قیام خصوصی اہمیت کا حامل ہے جو پاکستان بھر میں اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد ادارہ ہے۔ تعلیم کے ذریعے ہی امیر اور غریب کے درمیان خلاء ختم کیا جاسکتا ہے۔ ہم تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے کوشاں ہیں کیونکہ جدید دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے نئے تعلیمی رحجانات اور اسالیب سے آگاہی ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کیڈٹ کالج کوہاٹ کے چوونویں (54)یوم والدین کی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔خیبرپختونخوا کے وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی، میجر جنرل اسد نواز، پرنسپل کیڈٹ کالج کوہاٹ بریگیڈئیر ریٹائرڈ طفیل محمد خان، کالج کے بورڈ آف گورنرز کے اراکین، کیڈٹس اور ان کے والدین نے تقریب میں شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ نے تقریب سے اپنے خطاب میں کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اساتذہ اور انتظامیہ کی محنت کی بدولت کیڈٹ کالج کوہاٹ کا شمار ملک کی بہترین درسگاہوں میں ہوتا ہے۔ یہ مثالی ادارہ اپنے قیام سے لے کرآج تک نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پاکستان کے لیے بہترین تعلیمی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ اس درسگاہ میں کیڈٹس کی نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت اور سیرت سازی سے متعلق جو لائحہ عمل تشکیل دیاگیا ہے، قابِل تعریف ہے۔ وزیراعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ اس ادارے سے فارغ طلباء ہماری جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت یقینی بنائیں گے۔ یہی مقصد اور ولولہ ہمارے مجموعی تعلیمی نظام کے لئے نا گزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ہم اپنے نظام تعلیم کے مقاصد کا تعین نہ کرلیں، یہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکتا۔ مہذب معاشروں میں تعلیم کو ہمیشہ اولین ترجیح حاصل رہی ہے کیونکہ تعلیم افراد کی تہذیب کرتی ہے اور یہی تہذیب قوموں کی ترقی کا زینہ بنتی ہے۔ یہی تعلیمی نظام ظلم کے خلاف ڈٹ جانے اور اپنے حق کے لئے آواز بلند کرنے کاحوصلہ عطا کرتا ہے۔ محمود خان نے صوبائی حکومت کی تعلیمی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نے صوبے میں برسر اقتدار آتے ہی تعلیمی ایمر جنسی نافذ کرکے دیر پا اصلاحات متعارف کرائیں۔تحریک انصاف واحد سیاسی جماعت ہے جو انہی کارکردگی کی وجہ سے صوبے میں مسلسل دوسری بار حکومت بنانے میں کامیابی ہوئی۔ شعبہ تعلیم میں حکومتی اقدامات اور منصوبوں کی فہرست طویل ہے۔ ہمارے اقدامات کی بدولت عوام کا سرکاری سکولوں پر اعتماد بحال ہوا ہے جو ہماری تعلیم دوست کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہم سرکاری سکولوں کامعیار بلند کررہے ہیں، کیونکہ تعلیم کے ذریعے ہی امیر اور غریب کے درمیان خلاء ختم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے تعلیمی بجٹ کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ بچوں کو درسی کتب کی مفت فراہمی، وظائف کا اجراء، سکولوں میں  ناپید سہولیات کی فراہمی، ہزاروں کی تعداد میں میرٹ پر اساتذہ کی بھرتی، سکولوں میں آئی ٹی لیبز کا قیام، گراؤنڈز کی تعمیر، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت  اور نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا حکومت کے چیدہ چیدہ اقدامات میں شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک ترقی پسند قوم کی حیثیت سے لازم ہے کہ ہم نئی نسل کی تعلیم وتربیت جدید دور کے تقاضوں کے مطابق کریں۔  مقابلے کے اس دور میں جدید چیلنجز کا سامنا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ نئے تعلیمی رجحانات اور اسالیب سے بخوبی آگاہ ہوں۔ہم صرف چند مروجہ اور مشہور شعبہ ہائے زندگی تک محدود نہ رہیں بلکہ ہمارے طلباء کے سامنے زندگی کا وسیع میدان موجودہ ہو، تاکہ وہ اپنی پسند، طبعی رجحان اور ذہنی استعداد کے مطابق متعلقہ شعبے کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے اس موقع پر کیڈٹس کے والدین کو خصوصی طور پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ خوش قسمت ہیں جن کے بچے اس عظیم درسگاہ میں زیر تعلیم ہیں۔ بچوں کی تعلیم و تربیت کیلئے اساتذہ اور والدین میں رابطہ کلیدی اہمیت رکھتاہے۔ بعدازاں وزیراعلیٰ نے تعلیمی سال 2019کے دوران سالانہ امتحانات اور نصابی و ہم نصابی مقابلوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کیڈٹس میں میڈلز اور انعامات بھی تقسیم کئے۔ انہوں نے کیڈٹس کی طرف سے پیش کئے گئے مارچ پاسٹ اور نمائش کا معائنہ بھی کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ کو کالج کیطرف سے سوینیئر بھی پیش کیا گیا۔ 

مزید : صفحہ اول