گورنرسندھ نے کراچی پریس کلب میں میڈیکل کیمپ کا افتتاح کیا

  گورنرسندھ نے کراچی پریس کلب میں میڈیکل کیمپ کا افتتاح کیا

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر) گورنرسندھ عمران اسماعیل نے کراچی پریس کلب میں صحافیوں اور ان کی فیملی کے لئے لگائے گئے فری میڈیکل کیمپ کا افتتاح کیا۔ گورنرسندھ نے فری میڈیکل کیمپ میں موجود پیپاٹس، ایچ آئی وی، بی ایم ڈی، آر بی ایس، او پی ڈی، آنکھوں، دانتوں اور فزیو تھراپی چیک اپ کے لئے لگائے گئے اسٹال کاجائزہ لیا۔ اس سے قبل کراچی پریس کلب پہنچنے پر پریس کلب کے صدر امتیاز فاران اور گورننگ باڈی کے ممبران سمیت دیگر صحافیوں نے گورنرسندھ کا استقبال کیا۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل کو کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز فاران نے کلب کے مسائل بتاتے ہوئے درخواست کی کہ وہ صحافیوں کو ہاکس بے میں سندھ حکومت کی جانب سے الٹ کی گئی زمین حاصل کرنے میں پیش آنے والی دوشواریوں کو حل کروانے میں وہ اپنا کردار اداکریں۔ گورنرسندھ کو سیکریٹری کراچی پریس کلب ارمان صابر اور دیگر گورننگ باڈی کے ممبران نے سینئر صحافیوں اور کراچی پریس کلب کے ممبران کو بھی نئے پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں شامل کرنے کی بھی درخواست کی۔بعدازاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنرسندھ نے کہنا تھا کہ وہ وزیر اعظم پاکستان سے کراچی پریس کلب کے لئے گرانڈ کی بات کریں گے۔اس سلسلے میں جلد کلب کے ممبران کو خوشخبری دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پریس کلب میرے گھر جیسا ہے اور میں نے اپنی سیاست کا آغاز یہاں سے ہی کیا تھا۔ اس کلب کو بہتر بنانے میں موجودہ صدر اور گورننگ باڈی کا کلیدی کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ اس کو شہر کا بہترین کلب بنایا جائے جہاں صحافیوں کوہر ممکن سہولیات میسر ہوں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ جلد صحافیوں کے لئے الٹ کی گئی زمین کا مسائل متعلقہ ادارے اور وزیر اعلیٰ کے نوٹس میں لائے گے۔ دھرنے کے بارے میں کئے گئے سوال کا جواب دیتے گورنرسندھ نے کہا کہ جے یو آئی کا دھرنا آخری ہچکیاں لیتے ہوئے اپنے منقی انجام تک پہنچ چکا ہے عوام خود راستے کھو رہی ہے۔ تھرکے علاقہ کا رو نچھل میں موجود مائنز اینڈمنرلز کے بارے میں کئے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے گورنرسندھ نے کہا کہ تھر میں موجود وافر مقدار میں معدنیات کے ذخائر ہیں جس کے لئے حکومت سندھ کو عملی اقدامات کرنے چاہئے۔ بین الاقوامی سرمایہ کار اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کے خواہ ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کو بہتر مواقع فراہم کرنے میں حکومت سندھ اپنا کردار ادا کرے۔

مزید : صفحہ آخر