قطر کی ائر ایمبولینس،نواز شریف کو لندن لے گئیلاہور سے چودھری خادم حسین

قطر کی ائر ایمبولینس،نواز شریف کو لندن لے گئیلاہور سے چودھری خادم حسین

  



سابق وزیراعظم محمد نواز شریف بالآخر علاج کے لئے لندن روانہ ہو گئے،جہاں ان کے لئے ہارلے سٹریٹ کے نجی ہسپتال میں داخلے کا مکمل انتظام کیا گیا،ان سطور کی اشاعت تک وہ ہسپتال میں داخل ہو چکے ہوں گے اور ابتدائی ٹیسٹ بھی آج شروع ہو جائیں گے،نواز شریف خصوصی ایئر ایمبولینس کے ذریعے روانہ ہوئے جو قطر سے منگوائی گئی تھی، ان کے چھوٹے بھائی محمد شہباز شریف اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی ان کے ساتھ ہیں، جاتی امرا سے روانگی کے وقت کارکنوں کی بھاری تعداد جمع ہوئی،جنہوں نے پُرجوش نعرے لگائے اور ان کی گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں، بعض کارکن آبدیدہ تھے اور اکثر دُعائیں بھی مانگ اور آیات قرآنی کا ورد کر رہے تھے، مریض کی روانگی کے لئے حج ٹرمینل کا علاقہ مخصوص کر کے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے اور مسلم لیگ(ن) کے اہم اور سینئر رہنما بھی موجود تھے،سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کو لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے آٹھ ہفتوں کے لئے جانے کی اجازت دی،خود محمد نواز شریف اور محمد شہباز شریف نے اپنے بیانِ حلفی بھی جمع کرائے، جن کے مطابق محمد نواز شریف علاج کی تکمیل کے بعد واپس آئیں گے،عدالتی اجازت میں یہ گنجائش موجود ہے کہ اگر صحت مندی میں تاخیر ہوئی تو مزید اجازت کے لئے عدالت ہی سے رجوع کیا جا سکے گا۔

سابق وزیراعظم کی بیماری کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان کو عارضہ قلب اور ذیا بیطس کی شکایت ہے، تاہم دوران علالت ان کے پلیٹ لیٹس کم ہونا شروع ہو گئے،ڈاکٹروں کی اَن تھک کوشش اور مختلف ادویات کے استعمال کے بعد یہ مرض دور نہ ہو سکا اور بار بار پلیٹ لیٹس کم ہو جاتے ہیں،اس وجہ سے ان کے گردے بھی متاثر ہوئے اور جگر پر بھی اثر پڑا،چنانچہ ایک کشمکش کے بعد ان کو عدالت سے ریلیف ملی،ہارلے سٹریٹ کے جس نجی ہسپتال میں ان کا علاج ہو گا اسی میں ان کے دِل کا بائی پاس آپریشن ہوا،جو پیچیدگیاں اختیار کر گیا اور ڈاکٹروں کو دوسری بار آپریشن کرنا پڑا اور ان کی جان بچی، اس کے بعد وہ وطن واپس آ گئے اور جلسوں سے خطاب کیا،یہ مسلسل تھے اور اس سے بھی تھکاوٹ ہوئی،تاہم زیادہ اثرات سنٹرل جیل کوٹ لکھپت میں ہوئے، جہاں ان کو سات سال قید کے عوض مقید رکھا گیا تھا، اور ہسپتال منتقلی نیب کے دفتر سے ہوئی۔نیب لاہور والے ان کو ایک دوسرے کیس میں جسمانی ریمانڈ پر کوٹ لکھپت جیل سے لائے تھے،ان کی بیماری ایک سیاسی کشمکش کی صورت اختیار کر گئی تھی، حکومت اور مسلم لیگ(ن)کی طرف سے لفظی گولہ باری بھی بہت شدید ہوئی اس کا اختتام بہرحال عدالت عالیہ کے حکم کے باعث ہوا،شریف میڈیکل کمپلیکس کے ذریعے اور سرکاری میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق کوشش کے باوجود یہ معلوم نہ ہو سکا کہ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس بار بار کم کیوں ہو جاتے ہیں۔ڈاکٹر حضرات نے تجویز کیا کہ اس کے لئے جینیٹک ٹیسٹ ضروری ہے اور یہ ٹیسٹ پاکستان میں نہیں ہوتا،اب یہ طے ہے کہ ہارلے سٹریٹ کے نجی ہسپتال میں یہ ٹیسٹ ہوئے اور مرض کے اسباب کا پتہ چل گیا تو علاج بھی ہو جائے گا اور اگر خدانخواستہ ناکامی ہوئی،تو ان کو امریکہ بھی لے جایا سکتا ہے، ان کی عدم موجودگی میں نیب کی تحقیقات، زیر سماعت ریفرنس، اور ان کی طرف سے سزا کے خلاف زیر التوا اپیل کی سماعت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

لاہور ہفتہ رفتہ کے دوران اور ان دنوں دھرنوں کا شکار ہے،جس کی وجہ سے ٹریفک کے مسائل بڑھ گئے کہ مال روڈ کے کلب چوک میں نابینا افراد نے دھرنا دیا اور فیصل چوک میں اراضی ریکارڈ سنٹر پنجاب کے ملازمین نے سڑک روک رکھی ہے۔وہ قریباً دس دن سے اپنے مطالبات کے حوالے سے بیٹھے ہوئے ہیں۔اس وجہ سے ٹریفک کا شدید دباؤ ہے کہ مال روڈ مرکزی سڑک ہے جو شہر کے جنوبی اور شمالی علاقوں کو ملاتی ہے۔ انتظامیہ اور حکومت ان سے مذاکرات کر کے دھرنا ختم نہیں کرا سکی،اس اثناء میں جمعیت العلمائے اسلام (ف) کا دوسرا مرحلہ بھی سامنے آیا اور جمعیت کے کارکنوں نے امامیہ کالونی شاہدرہ پر دھرنا دیا جو پیر سے شروع ہوا اور تادم تحریر جاری تھا،جی ٹی روڈ متاثر ہونے سے لاہور سے جانے اور آنے والوں کو بہت زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔اگرچہ اگلے روز دھرنا سمٹ کر ایک سڑک پر آ گیا اور ایک سڑک ٹریفک کے لئے چھوڑ دی گئی،یہ سہولت زیادہ کام نہ آئی کہ دوطرفہ ٹریفک کے اس حصہ میں ایک سڑک پر دباؤ بھی مشکلات کا باعث ہے اور بسیں آمنے سامنے کھڑی ہو جاتی ہیں،یہاں ہر نوح کی گاڑیاں موجود ہیں۔

لاہور میں سموگ کی حالت بہتر اور بدتر ہونے کا بھی سلسلہ جاری ہے،صبح اور شام کے بعد زیادہ سموگ ہو جاتی ہے، اب تک لوگ کوڑا اور خزاں کے پتے جلانے سے باز نہیں آئے اور دھواں دینے والی گاڑیاں بھی بدستور چل رہی ہیں،محکمہ ماحولیات بے بس ظاہر ہوا ہے۔

مہنگائی کا رونا مسلسل جاری ہے کہ ابھی تک سبزیوں کے نرخوں پر کوئی زیادہ اثر نہیں پڑا اور ٹماٹر، پیاز، ادرک اور لہسن مہنگے ہیں تو عام سبزیوں کے نرخ بھی زیادہ ہیں، شہری احتجاج کر رہے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1