حویلیاں مانسہرہ موٹر وے کا افتتاح خوش آئند!شاہراہ کا سنگ بنیاد 2014ء میں نواز شریف دور میں رکھا گیا

حویلیاں مانسہرہ موٹر وے کا افتتاح خوش آئند!شاہراہ کا سنگ بنیاد 2014ء میں نواز ...

  



وزیر اعظم عمران خان نے دو روز قبل حویلیاں مانسہرہ موٹر وے کا باقاعدہ افتتاح کر دیا، 33 بلین روپے کی لاگت سے شروع ہونے والی یہ شاہراہ 60 کلومیٹر لمبی ہے جس کے ذریعے مانسہرہ تک تیز رفتار اور محفوظ سفر یقینی بن جائے گا، اسلام آباد سے چند کلومیٹرکے فاصلے پر برحان انٹر چینج سے حویلیاں سکیشن تک کا افتتاح پہلے ہی ہو چکا تھا اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کے دور حکومت میں 29 نومبر 2014ء کو اس کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا، ٹھیک 5 سال بعد یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا اور اس کا اعزاز پی ٹی آئی حکومت کے کریڈٹ میں آ گیا۔کہا یہ جا رہا ہے کہ اس برق رفتار شاہراہ کی پیمائش اور لاگت میں اس عرصے کے دوران کچھ کمی بیشی ضرور ہوئی ہے تاہم زیادہ فرق نہیں پڑا۔ وفاقی دارالحکومت، پشاور، ایبٹ آباد، مردان، نوشہرہ، چار سدہ سمیت گرد و نواح سے مانسہرہ تک سفر کرنے والے لاکھوں مسافروں کے لئے جہاں ایک طرف وقت کی 50 فیصد تک بچت ہو گی تو دوسری جانب قرب و جوار میں سیاحت کو بہت فروغ ملے گا اور یہاں کے سیاحتی مقامات پر اہل پاکستان سمیت غیر ملکی سیاحوں کی آمد و رفت بھی بڑھے گی، کاغان، ناران، شمالی علاقہ جات اور گلگت بلتستان کے رہائشیوں کو بھی ریلیف ملنے کے ساتھ ساتھ سیاحت کے شعبے سے ہونے والی آمدن میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ یہ بھی خوش خبری دی جا رہی ہے کہ مانسہرہ تا تھا کوٹ سیکشن پر موٹر وے کا افتتاح بھی فروری 2020ء میں ہونے کا امکان ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان اور دیگر زعماء کے ہمراہ جس سیکشن کا افتتاح کیا اس کی انفرادیت اور خاصیت یہ ہے کہ حویلیاں مانسہرہ سیکشن میں پہاڑوں کے درمیان کھائیوں سے راستہ نکال کر بلند ترین ستونوں پر طویل ترین پل بنائے گئے ہیں جن پر بھاری اخراجات تو یقینی طور پر آئے تاہم یہ پل پاکستان بھر میں اپنی نوعیت کے اعتبار سے دل کش ترین، قابل دید اور قابل تعریف بھی ہے، سونے پر سہاگہ یہ کہ جس شاہراہ کا افتتاح کیا گیا وہ پاک چین دوستی کی لازوال داستان سی پیک کا باقاعدہ حصہ بھی ہے۔ یہ پاکستان کی ترقیاتی تاریخ کا سنہرا اور حسین باب ہے جو اہل پاکستان کے لئے خوبصورت تحفہ بھی ہے۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ راستے جس قدر آسان بنائے جا سکتے ہیں، سفر جتنا محفوظ ہو سکتا ہے۔ ترقی کی رفتار اتنی ہی تیز ہوتی جاتی ہے، جب سے موٹر وے شروع ہوئی ہے سفر کے دورانیہ میں کمی کے ساتھ ساتھ مسافر اپنے آپ کو زیادہ محفوظ تصور کرتے ہیں۔ بڑے شہروں سے قصبات اور دیہات تک جہاں جہاں سے یہ گزر رہی ہے۔ ترقی کا سفر تیز تر ہوتا جا رہا ہے، تعمیر و ترقی کا پہیہ اکٹھا گھومتا ہے اور جس دور میں، جس سمت میں گھومے عوام کے مفاد میں ہوتا ہے۔ خیبرپختونخوامیں پی ٹی آئی کے گزشتہ دور حکومت کے دوران صوبے میں کئی ترقیاتی کاموں کا آغاز ہوا، لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ ان میں سے اکثر پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکے، میٹرو بس سروس کا خواب تا حال شرمندہ تعبیر نہیں ہوا اور جو خواب پرویز خٹک نے دیکھا تھا اسے محمود خان بھی عملی شکل نہیں دے پائے، اسی طرح بعض سیاحتی مقامات پر شروع کئے گئے منصوبہ جات بھی زیر التوا ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں جہاں ان منصوبوں میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں انہیں فی الفور دور کر کے پراجیکٹ مکمل کئے جائیں، جن سیاحتی علاقوں میں لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے سیاحوں کو مشکلات پیش آتی ہیں یا دیگر وجوہات کی بنا پر راستے مسدود ہو جاتے ہیں وہاں جدید سازو سامان اور ٹرینڈ عملہ تعینات کرنے کی ضرورت ہے، ہنگامی حالات سے نبٹنے کے لئے ایکسیویٹر، ڈمپر، لوڈر سمیت ہیوی مشینری کا بندوبست ہونا چاہئے۔ وفاقی حکومت کو اس حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت سے بھرپور تعاون کرنا چاہئے، بالخصوص صوبائی حکومت فنڈز کی کمی کا جو رونا رو رہی ہے اسے دور کرنا بھی ضروری ہے۔

صحافیوں، دانشوروں، وکلاء اور ادیبوں، شاعروں کے بین الصوبائی دوروں کا بند سلسلہ بھی دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت ہے اور وزیر اعلیٰ محمود خان کو چاہئے کہ وہ اس حوالے سے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کو واضح ہدایات جاری کریں اور ان کا یہ شکوہ بھی دور کریں کہ ہمیں فنڈز فراہم نہیں کئے جا رہے، ویسے تو آج کل صوبائی محکمہ اطلاعات نے اشتہارات کے حوالے سے اخبار والوں کا یہ گلہ دور کر دیا ہے کہ اشتہارات کی تقسیم منصفانہ نہیں ہو رہی۔

شاہراہوں کی بندش کے حوالے سے جے یو آئی کے دھرنے کا تذکرہ نہ کیا جائے تو نا انصافی ہو گی، مولانا فضل الرحمن کی ہدایت پر کارکنوں نے بین الصوبائی راستوں اور شاہراہوں کو جس انداز سے بند کیا وہ سلسلہ تا حال جاری ہے، اگرچہ امیر جمعیت کی ہدایت کے مطابق باراتوں، ایمبولنسوں، مریضوں اور ہنگامی حالات میں گزرنے والی گاڑیوں کو دھرنا زدہ مقامات پر نہیں روکا جا رہا ہے، لیکن اہم راستوں سے گزرنا محال ضرور ہے۔ کراچی سے آزادی مارچ کی روانگی کے وقت حکومتی ٹیم، جے یو آئی کی رہبر کمیٹی سے جس شد و مد کے ساتھ مذاکرات کر رہی تھی اب وہ تیزی باقی نہیں رہی، کچھ معاملہ چودھری برادران کے بیان کے بعد الجھ گیا جس میں حکومت، جمعیت ڈیل کا تذکرہ کیا گیا تھا، اب مولانا فضل الرحمن کا یہ موقف سامنے آ رہا ہے کہ ہم دوسرے آپشنز پر غور کر رہے ہیں اور احتجاج میں مزید سختی آنے والی ہے، ایسی صورت حال میں معمولات زندگی زیادہ گھمبیر ہو سکتے ہیں اس لئے اس سے پیشتر ہی کچھ نہ کچھ معاملہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔ احتجاج، مظاہرے، دھرنے مذاکرات سے ہی حل ہوتے آئے ہیں اب بھی ایسا ہی ہونا چاہئے۔ حکومتی رہبر کمیٹی کو زیادہ سرگرم کرنے کی ضرورت ہے۔ بالخصوص چودھری برادران کی پنچائت پالیسی سے بھرپور فائدہ اٹھا کر جے یو آئی کے ساتھ معاملات طے کئے جانے چاہئیں، کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر حالات معمول پر لائے جا سکتے ہیں، اپوزیشن کی دیگر جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی، اے این پی اور دیگر کو بھی اس حوالے سے اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔

مزید : ایڈیشن 1