صدر مملکت کا سیاسی بیان سے گریز، معیشت پر کھل کر بات کی

صدر مملکت کا سیاسی بیان سے گریز، معیشت پر کھل کر بات کی

  



ڈائری۔ کراچی۔مبشر میر

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کراچی میں مصروف وقت گذارا، وہ اگرچہ سیاسی بیانات سے گریز کرتے ہوئے دکھائی دیے لیکن معیشت کے حوالے سے کھل کر گفتگو کرتے رہے، حکومت کی اقتصادی ٹیم کی کامیابیوں پر قدرے مطمئن دکھائی دیئے۔ گورنر ہاؤس سندھ میں انہوں جوش ملیح آبادی کے حوالے سے ایک ادبی تقریب کی بھی صدارت کی۔ جہاں ان کی گفتگو کا انداز مدبرانہ اور دانشورانہ تھا۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے پر بہت زور دیا۔ کتاب کی اہمیت پر بھی بات کی، لیکن ساتھ ساتھ ٹیلی مواصلات کی جدید ایجادات سے استفادہ کرنے پر زور دیا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، کراچی میں قیام کے دوران اپنے ذاتی گھر پر ہی قیام کرتے ہیں۔ پروٹوکول کے معاملات میں بہت قناعت پسند واقع ہوئے ہیں، کراچی کے دیرینہ مسائل ان کی خصوصی توجہ کے منتظر ہیں۔

بلدیاتی الیکشن میں تحریک انصاف نے اپنی طاقت کے اظہار کی ٹھان لی ہے۔ تحریک انصاف کے راہنماؤں کا خیال ہے کہ وہ بلدیاتی الیکشن میں کراچی میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر اپنی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے میئر کراچی اپنی پارٹی سے منتخب کروانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ تحریک انصاف کے راہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ میئرشپ کے حصول کے بعد وہ کراچی کو حقیقی معنوں میں دنیا کا جدید ترین شہر بنائیں گے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان کچھ تناؤ کی کیفیت موجود ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کا خیال ہے کہ ان کی اتحادی پارٹی اس طرح کے دعووں سے گریز کرے۔

یہ ایک وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے راہنما میاں نواز شریف کی بیماری کے بعد کی صورتحال میں حکومتی موقف سے مختلف دکھائی دیئے۔ میاں شہباز شریف نے ق لیگ کے علاوہ ایم کیو ایم پاکستان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے میاں نواز شریف کی بیرون ملک روانگی میں مسلم لیگ ن کے موقف کی حمایت کی تھی۔

لاڑکانہ میں شکست کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ کابینہ میں توسیع پر غور شروع کیا ہے اور اطلاعات کے مطابق پانچ معاونین کو شامل کرنے پر اتفاق ہوچکا ہے۔ ذرائع اس بات کا انکشاف کررہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے سینئر راہنما نثار کھوڑو کی ذمہ داری تبدیل ہوسکتی ہے، یا پھر انہیں مشیر کے عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے۔

کراچی میں لینڈ مافیا گذشتہ کئی دہائیوں سے بااثر افراد کی پشت پنائی سے زمینوں پر قابض رہا ہے، ایسا ہی ایک نام آدم جوکھیو کا ہے، جسے گرفتار کیا جاچکا ہے اس کی نشاندہی پر چند سابق افسران کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، عام اطلاعات کے مطابق مذکورہ شخص کا سیاسی شخصیات سے گہرا تعلق رہا ہے اور ضلع ملیر میں کئی زمینوں پر قبضہ کرنے میں اس کا ہاتھ بتایا جاتا ہے۔

جے یو آئی ف کا دھرنا صوبائی دارالحکومت میں بلوچستان کے راستے بند کرکے شروع کیا گیا تھا، کراچی شہر کے اندر صورتحال معمول کی تھی، لیکن تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دھرنے شہری علاقوں میں منتقل کرنے پر غور شروع ہوگیا ہے۔ اگر جمعیت علماء اسلام ف کا دھرنا سندھ اور خاص طور پر کراچی کے گنجان آباد علاقوں میں شروع ہوگیا تو اس سے یقیناً تحریک انصاف کی نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے لیے مشکلات بڑھیں گی۔اس بات کے زیادہ امکانات ہیں کہ جے یو آئی ف کراچی کے گنجان آباد علاقوں اور خاص طور پر کاروباری لحاظ سے معروف علاقوں کو دھرنے کے لیے منتخب نہیں کرے گی۔ کیونکہ اس سے تحریک انصاف یا وفاقی حکومت کسی مشکل کا شکار نہیں ہوگی۔

پیپلز پارٹی کے سینئر راہنما سید خورشید شاہ کی بیماری بھی ان کے لیے وبال جان بنی ہوئی ہے، اطلاعات کے مطابق ڈاکٹرز نے ان کا دل کا آپریشن تجویز کیا ہے، اس کے لیے ممکن ہے کہ انہیں کراچی میں منتقل کردیا جائے، اس وقت ملک بھر میں بیمار سیاستدانوں کی فہرست طویل ہوچکی ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری کے حوالے سے ان کے بچوں کے بیانات بھی صورتحال کو غیر معمولی ظاہر کررہے ہیں، وہ اپنے علاج کے لیے کراچی منتقل ہونا چاہتے ہیں، ابھی تک ان کی طرف سے بیرون ملک جانے کی بات نہیں کی گئی۔ سیاسی پنڈت اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے بعد دیگر شخصیات خاص طور پر آصف علی زرداری کا راستہ بھی ہموار ہوجائے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے ہزارہ موٹر وے سیکشن کے افتتاح کے موقع پر بلاول بھٹو زرداری کو خاص طور پر ہدف تنقید بنایا، گو ان کا انداز طنزیہ تھا لیکن پیپلز پارٹی کے ورکرز کے علاوہ بھی لوگوں نے اس انداز کو پسند نہیں کیا۔ پڑھے لکھے طبقے کا خیال ہے کہ وزیراعظم پاکستان کو اپنے انداز خطابت کو باوقار بنانا چاہیے۔ اگر عام سیاسی ورکرز کی طرح وزیراعظم بھی انداز اختیار کریں گے تو پھر سیاسی تہذیب زوال پذیر ہی رہے گی۔ وزیراعظم ملک کا چیف ایگزیکٹو ہے، اسے عوام کے لیے رول ماڈل ہونا چاہیے، اس کے قول و فعل مشعل راہ ہوں تو بہتر ہے، طنزیہ اندازِ گفتگو دوسرے لوگوں کے لیے چھوڑدیں تو مناسب ہوگا۔

مزید : ایڈیشن 1