انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی آج 35 ویں بر سی، ان سے فیضیاب ہونے کاسلسلہ آج بھی جاری

انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی آج 35 ویں بر سی، ان سے فیضیاب ہونے کاسلسلہ آج بھی ...
انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی آج 35 ویں بر سی، ان سے فیضیاب ہونے کاسلسلہ آج بھی جاری

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی آج 35 ویں بر سی منا ئی جا رہی ہے۔ غالب اور اقبال کے بعد فیض احمد فیض اردو کے سب سے عظیم شاعر تھے۔۔ ان کی شا عر ی آج بھی دلوں کو حوصلے اور محبت سے ہمکنار کرتی ہے۔

فیض احمد فیض اردو شاعری کا ایسا بلند پایہ نام ہیں جس کی گونج دنیا کے بیشتر ممالک میں سنائی دیتی ہے اور دنیا بھر میں اردو شاعری کو پڑھنے اور سمجھنے والے فیض احمد فیض کی فنی عظمت کے قائل ہیں۔

فیض کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے پندرہ سے سترہ نومبر تک لاہور کے الحمراتھیٹر میں فیض امن میلہ کااہتمام کیاگیا جس میں دنیا بھرسے ان کے چاہنے والوں نے شرکت کی اور اپنے اپنے انداز میں خراج عقیدت پیش کیا۔

اس موقع پر فیض کا کلام ، ان کے انقلابی نظریات، نفیس طبع اور بلند ذوق کو سراہاگیا۔شاعری کے سیشن ادیبوں نے مختلف موضوعات پر بات کی جبکہ ترقی پسند گروپس نے اپنے اپنے انداز میں حصہ لیا۔فیض احمد فیض 13 فروری 1911 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اورعربی اور انگریزی ادب میں ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں جس کے بعد فیض کئی کالجز میں استاد رہے اور پاک فوج میں بھی خدمات انجام دیں۔فیض احمد فیض کو اردو اور پنجابی کے علاوہ انگریزی، عربی، فارسی اور روسی زبان پر بھی عبورحاصل تھا۔ 1936 میں انہوں نے ترقی پسند تحریک میں شمولیت اختیار کی اور تحریک کے پہلے سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے۔

فیض اور اقبال ہم شہر تھے، یعنی دونوں کا تعلق سیالکوٹ سے تھا۔ دونوں کی شاعری کا رنگ بھی ایک تھا البتہ دونوں کے اسلوب مختلف تھے۔ اقبال بانو، مہدی حسن، ٹینا ثانی، نور جہاں اور دیگر گلوکاروں نے فیض کا کلام خوب گایا اور شہرت کی بلندیوں کو چھو لیا۔

فیض بائیں بازو کے نظریات کے حامی تھے اور یہ ہی وجہ ہے کہ انہیں آمرانہ ادوار میں مختلف صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ فیض کو انگریزی، اردو، عربی، روسی اور فارسی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ ان کی مایہ ناز تصانیف میں نقش فریادی، دست صبا، زندان نامہ قابل ذکر ہیں۔

انہوں نے اپنی ادبی خدمات کے اعتراف میں مختلف ایوارڈز بھی حاصل کئے، جن میں نگار ایوارڈز (1953)، نامور امن انعام (1963)، ہیومن رائٹس کمیشن امن انعام، نشان امتیاز (1990) کے علاوہ اور بھی بہت ایوارڈز شامل ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے سال 2012 کو فیض احمد فیض کے نام سے منسوب کیا ہے۔

ہمیشہ لوگوں کو اپنے حق کیلئے آواز اٹھانے کا درس دیتے رہے،نسخہ ہائے وفامیں لکھتے ہیں کہ

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

بول زباں اب تک تیری ہے

تیرا ستواں جسم ہے تیرا

بول کہ جاں اب تک تیری ہے

دیکھ کہ آہن گر کی دکاں میں

تند ہیں شعلے سرخ ہے آہن

کھلنے لگے قفلوں کے دہانے

پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن

بول یہ تھوڑا وقت بہت ہے

جسم و زباں کی موت سے پہلے

بول کہ سچ زندہ ہے اب تک

بول جو کچھ کہنا ہے کہہ لے

اردو ادب کی یہ عہد ساز شخصیت 20نومبر 1984کو اپنے خالق حقیقی سے جاملی۔

مزید : ادب وثقافت