فاٹا پاٹا ایکٹ کئی ہزار خاندانوں اورلاکھوں لوگوں کامعاملہ ہے،اٹارنی جنرل صاحب!لامنسٹری کو جاکر کھنگالیں ،چیک کریں قوانین کیسے بنے؟سپریم کورٹ کے دوران سماعت ریمارکس

فاٹا پاٹا ایکٹ کئی ہزار خاندانوں اورلاکھوں لوگوں کامعاملہ ہے،اٹارنی جنرل ...
فاٹا پاٹا ایکٹ کئی ہزار خاندانوں اورلاکھوں لوگوں کامعاملہ ہے،اٹارنی جنرل صاحب!لامنسٹری کو جاکر کھنگالیں ،چیک کریں قوانین کیسے بنے؟سپریم کورٹ کے دوران سماعت ریمارکس

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں فاٹا پاٹا ایکٹ اور ایکشن ان ایڈآف سول پاورآرڈیننس سے متعلق کیس میں چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ یہ کئی ہزار خاندانوں اورلاکھوں لوگوں کا معاملہ ہے ،اس اہم کیس کیلئے سپریم کورٹ کے 5 سینئر ترین ججز مل کر بیٹھے ہیں ،لامنسٹری کو جاکر کھنگالیں ،چیک کریں قوانین کیسے بنے؟چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ2019 میں ایک نیا قانون بنادیاگیا جیسے پہلے کسی قانون کاوجود ہی نہیں ،2019 سے پہلے بھی قوانین موجود تھے پھر ایسا کیوں ہوا؟کیس کی مکمل تیاری کیساتھ آئیں ورنہ عدالت ازخودفیصلہ کرے گی ۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں فاٹا پاٹا ایکٹ اور ایکشن ان ایڈآف سول پاورآرڈیننس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا کہ مجھے آج شدید بخار ہے دلائل نہیں دے سکتا ،گزشتہ سماعت پر عدالت نے 3 سوالات پوچھے تھے ،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ آرٹیکل 245 کے تحت فوج کا کام بیرونی خطرات اور جارحیت سے نمٹنا ہے ،آرٹیکل 245 کا دوسراحصہ طلب کرنے پر فوج کا سول انتظامیہ کی مدد کرنا ہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ آئین کے مطابق سول انتظامیہ کی مددقانون کے تحت ہو گی،فوج سے متعلق قانون سازی صوبوں کا نہیں،وفاق کا اختیار ہے ،وفاق نے 25 ویں ترمیم کے بعد کوئی قانون سازی نہیں کی ۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاق اور صوبے دونوں کو قانون سازی کا اختیار ہے ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ فوج سے متعلق قانون سازی صوبے نہیں کر سکتے،پہلے حراستی مراکز کی آئینی حیثیت کا تعین کریں گے پھر اگلی بات ہو گی ،قانون سازی آئین کیخلاف ہوئی تو آرٹیکل 245 کا تحفظ نہیں ملے گا،آرٹیکل 245 کاتحفظ نہ ہو توہائیکورٹ قانون کاجائزہ لے سکتی ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ تفصیلی موقف صحت یاب ہو کر اپنے دلائل میں دوں گا ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ آپ دلائل نہیں دے سکتے تو آئے کیوں ہیں ؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگرآپ نے جارحانہ ہوناہے تو میں دلائل نہیں دے سکتا،وکیل خیبرپختونخوا حکومت نے کہا کہ ایک اختیار فوجی آپریشن ،دوسراگرفتارافراد کے ٹرائل کاہے ،ٹرائل اور گرفتار افرادسے متعلق قانون صوبے ہی بنا سکتے ہیں ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اٹارنی جنرل فاٹاپاٹا قوانین کے حوالے سے عدالت کو مطمئن کریں،اٹارنی جنرل صاحب!آپ کب تک عدالت کو مطمئن کریں گے ،یہ انتہائی اہم سنجیدہ اورقانون کی تاریخ کامعاملہ ہے ۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ یہ کئی ہزار خاندانوں اورلاکھوں لوگوں کا معاملہ ہے ،اس اہم کیس کیلئے سپریم کورٹ کے 5 سینئر ترین ججز مل کر بیٹھے ہیں ،لامنسٹری کو جاکر کھنگالیں ،چیک کریں قوانین کیسے بنے؟چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ2019 میں ایک نیا قانون بنادیاگیا جیسے پہلے کسی قانون کاوجود ہی نہیں ،2019 سے پہلے بھی قوانین موجود تھے پھر ایسا کیوں ہوا؟کیس کی مکمل تیاری کیساتھ آئیں ورنہ عدالت ازخودفیصلہ کرے گی ۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد