دفاتر میں واٹس ایپ پر پابندی،جلد فیس بک اور یوٹیوب بھی بند کریں گے،حکومت نے سرکاری ملازمین کیخلاف کمر کس لی

دفاتر میں واٹس ایپ پر پابندی،جلد فیس بک اور یوٹیوب بھی بند کریں گے،حکومت نے ...
دفاتر میں واٹس ایپ پر پابندی،جلد فیس بک اور یوٹیوب بھی بند کریں گے،حکومت نے سرکاری ملازمین کیخلاف کمر کس لی

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آئی ٹی بورڈ حکام نے دفاتر میں سرکاری ملازمین کے واٹس ایپ استعمال کرنے پر پابندی کا فیصلہ کیاہے۔سرکاری ملازمین کے دفاتر میں واٹس ایپ کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے۔

آئی ٹی بورڈحکام کے مطابق سرکاری ملازمین دفاترمیں واٹس ایپ کا استعمال نہیں کرسکیں گے بلکہ سرکاری ملازمین کیلئے واٹس ایپ طرزکی سروس متعارف کرائی جائے گی جس پر وہ دفتری امور سے متعلق وائس میسج، ویڈیو اور دستاویزات بھیج سکیں گے۔آئی ٹی بورڈ کے حکام نے واضح کیاہے کہ سرکاری ملازمین محکمانہ دستاویز اپنے ذاتی واٹس ایپ پر شیئرنہیں کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق علی خان جدون کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس ہواجس میں آئی ٹی بورڈ کے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ دفاتر میں فیس بک بھی چلائی جارہی ہیں اوریوایس بی سے ڈیٹا گھر بھی لے جاتے ہیں اس لئے ڈیٹا کوسینٹرلائزڈ کرکے تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد کریں گے۔حکام نے بتایا ہے کہ این آئی ٹی بی سینٹرلائزڈ ڈیٹا سسٹم کو ہوسٹ کرے گا۔اس طرح تمام سرگرمیوںکا ریکارڈ رکھا جاسکے گا۔

حکام کے مطابق مستقبل میں سرکاری اداروں میں فیس بک، یوٹیوب، یو ایس بی کے استعمال پرپابندی کی بھی تجویز زیر غورہے۔ دفاترمیں بیٹھے لوگ یوٹیوب چلا رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر پارٹ ٹائم کا کام سرکاری دفتر میں بیٹھ کر کررہے ہیںتاہم اب سرکاری افسران یا ملازم سوشل میڈیا پرپارٹ ٹائم بزنس نہیں کرسکیں گے۔

حکام کے مطابق وہ سوشل میڈیا پرجعلی خبروں کی روک تھام کیلیے اقدامات کررہے ہیں،سوشل میڈیا کی خبروں کی تصدیق کیلیے اتھارٹی بنانے کی تجویزحکومت کو پیش کردی ہے۔پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کو ای سسٹم کے بارے میں اعتماد میں لیا ہے۔سوشل میڈیا نیوزکی تصدیق کا نظام بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

حکام کے مطابق ای آفس کا وفاق میں نظام بنادیاگیاہے اور اب صوبائی حکومتوں کی معاونت کی جارہی ہے۔مستقبل میں ای آفس کو نادرا، ایف بی آر، ایس ای سی پی اور دیگر اداروں سے جوڑدیں گے۔ آئی ٹی حکام کے مطابق مذکورہ اقدامات سے سرکاری ڈیٹا کی بلا اجازت منتقلی روکنے میں مدد ملے گی جبکہ جدید ٹیکنالوجی کی معاونت سے ملازمین کی کارکردگی میں بہتری لائی جاسکے گی۔

مزید : قومی /سائنس اور ٹیکنالوجی