"کسی کو باہر جانے کی اجازت وزیراعظم نے خود دی "طاقتور کا طعنہ ہمیں نہ دیں،ایک وزیراعظم کو سزادی، ایک کو نااہل کیااور اب۔۔۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بڑی بات کر دی

"کسی کو باہر جانے کی اجازت وزیراعظم نے خود دی "طاقتور کا طعنہ ہمیں نہ دیں،ایک ...

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ عمران خان نے 2 دن پہلے خوش آئند اعلان کیا،وزیراعظم کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ طاقت ور کا طعنہ ہمیں نہ دیں،ایک وزیراعظم کو سزادی ایک کو نااہل کیا،ایک سابق آرمی چیف کے مقدمے کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے،جس کیس پر وزیراعظم نے بات کی ان کو پتہ ہونا چاہئے کہ اجازت انہوں نے خوددی،اس معاملے کا اصول محترم وزیراعظم نے خود طے کیا، ہمارے سامنے صرف قانون طاقتور ہے کوئی انسان نہیں، عدلیہ میں خاموش انقلاب آگیاہے،ججز اپنے کام کو عبادت سمجھ کر کرتے ہیں،ججز پر اعتراض کرنے والے تھوڑی احتیاط کریں۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سپریم کورٹ کی موبائل ایپ اور ہیلپ لائن کا باضابطہ افتتاح کردیا،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ عمران خان نے 2 دن پہلے خوش آئند اعلان کیا،وزیراعظم نے کہا کہ تمام وسائل فراہم کرنے کو تیار ہیں ،اس وقت وسائل کی ضرورت تھی،وزیراعظم کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ وزیراعظم نے کہا وسائل دیں گے لیکن ہم نے وسائل کے بغیر بہت کچھ حاصل کیا،وزیراعظم نے طاقتور اور کمزور کی بات کی ،

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ 6 ضلعی ہیڈکوارٹرز میں قتل کا کوئی مقدمہ نہیں،116 اضلاع ہیں،17 میں کوئی مقدمہ زیرالتوا نہیں،ہم نے ماڈل کورٹس بنائیں کوئی ڈھنڈورا نہیں پیٹا،اشتہار نہیں لگوایا،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ 23 اضلاع میں کوئی نارکوٹکس کامقدمہ نہیں،پارلیمان سے کسی قانون میں ترمیم کا مطالبہ نہیں کیا،موجودہ قوانین کے مطابق جذبے کے ساتھ ججز کام کررہے ہیں ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ 187 دن میں 73 ہزار ٹرائل مکمل ہوئے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ طاقت ور کا طعنہ ہمیں نہ دیں،ایک وزیراعظم کو سزادی ایک کو نااہل کیا،ایک سابق آرمی چیف کے مقدمے کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے،جس کیس پر وزیراعظم نے بات کی ان کو پتہ ہونا چاہئے کہ اجازت انہوں نے خوددی،ہمارے سامنے صرف قانون طاقتور ہے کوئی انسان نہیں،  چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عدلیہ میں خاموش انقلاب آگیاہے،ججز اپنے کام کو عبادت سمجھ کر کرتے ہیں،ججز پر اعتراض کرنے والے تھوڑی احتیاط کریں۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد