مہنگائی کے ستائے غریب عوام...!

مہنگائی کے ستائے غریب عوام...!
مہنگائی کے ستائے غریب عوام...!

  



وقت بدل گیا ، زمانے بدل گئے ، حکمران بدل گئے مگر نہ بدلے تو پاکستانیوں کے حالات نہ بدلے ۔اور عوام کل بھی مصائب اور مسائل کی یلغار میں آہ و فغاں کرتے نظر آتے تھے آج بھی مہنگائی اور بےروزگاری کا رونا رورہے ہیں۔ غرضیکہ عوام کے مصائب کا سفر نہ کبھی رکا اور نہ کبھی تھما، جبکہ مصائب کی یلغار کی بنیادی وجہ ہماری مالی اور معاشی بدحالی ہے ۔ واضح رہے کہ میں عوام بالخصوص غریب عوام کی بات کر رہا ہوں اشرافیہ کی نہیں کیونکہ اشرافیہ کی ہر زمانے میں پانچوں انگلیاں گھی میں ہوتی ہیں۔ نیا پاکستان اور ترقی یافتہ پاکستان کا سنہری خواب دکھا کر عمران خان کی حکومت وجود میں آئی، اور نئے پاکستان کے حکمرانوں نے ٹیکس اور قیمتیں بڑھانے کو نیا پاکستان کا نام دیدیا۔ انرجی و پٹرولیم مصنوعات اور ڈالر کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کی مجبوری تھی اور اس کا ذمہ دار سابق حکومت کو قرار دینا اپنی ناکامی کا اعتراف ہے جس کے نتیجہ میں روزمرہ کی اشیاءاتنی بڑھ گئی ہیں کہ غریب آدمی ان تک پہنچ ہی نہیں سکتے ۔ عام آدمی پہلے ہی غربت اور تنگدستی کے ہاتھوں مجبور ہو کر بہت تکلیف دہ زندگی گزارنے پر مجبور تھے اوراب دو وقت کی روٹی پوری کرنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف بنا دیا گیا ہے ۔ سابق عہد حکومت میں 45 سے 50 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی کا بوجھ اٹھا کر جی رہے تھے اور اب ستم بالائے ستم ناقابل برداشت اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے اور ہیوی بیلز نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ۔ اور نئے پاکستان کے حکمرانوں نے پاکستان کی 70 فیصد آبادی کو خط غربت سے نیچے دھکیل دیا ہے اور عوام کیڑے مکوڑوں جیسی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ غربا تو ایک طرف رہے عام آدمی، محنت کش عوام اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کے لیے روزگار کے مواقع ناپید ہیں، ان حالات میں عوام سوال کرتے ہیں کہ ہم جائیں تو جائیں کہاں؟ مصائب کی یلغار سے لڑتے ہوئے عوام تو پہلے ہی بے حال ہو چکے ہیں جو امید کررہے تھے کہ نئے پاکستان میں ترقی آئے گی لیکن ترقی آ چکی ہے ، ہاں تبدیلی آ چکی ہے ۔ نیا پاکستان محض نیا ہی نہیں مہنگا بھی ہے، ان حالات میں غریب پاکستانی مایوس ہوچکے ہیں اور سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا ےہ ہے نیا پاکستان ۔ عمران خان کو اقتدار میں آنے سے قبل تمام حالات کا علم تھا جس کے باوجود وہ ایسے نعرے بلند کرتے رہے جن کو پورا کرنا ان کے بس کا روگ نہیں تھا اور اب وہی نعرے عمران کے سامنے ایک دیوہیکل کی شکل میں کھڑے ہیں۔ اگرعالمی مارکیٹ میں مسلسل کم ہوتے تیل کے نرخوں سے بھی عوام کو کوئی ریلیف ملتا نظر نہیں آرہا اور مہنگائی کا عفریت بدستور منہ کھولے عوام کو نگلنے کیلئے بڑھ رہا ہے تو اس مایوسی سے پیدا ہونیوالے عوامی ردعمل سے ہی مولانا فضل الرحمن کو حکومت کیخلاف آزادی مارچ اور دھرنے کی صورت میں اپنی سیاست کا موقع ملا ہے جو وزیراعظم کے استعفے سے کم کسی مطالبے پر آمادہ نہیں ہورہے تھے جبکہ دوسری اپوزیشن جماعتیں بھی حکومت مخالف سیاست میں ان کا دم بھر رہی ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ایک سال کے عرصے میں حکومتی اعداد و شمار کے مطابق روز مرہ اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 2سو فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے ۔ زندگی گزارنے کی بنیادی ضرورتوں کا بھی عام آدمی کی دسترس سے دور ہو جانا ملکی معیشت کے مسلسل تنزلی کی طرف سفر کی نشاندہی کرتا ہے ۔ لازم ہو گیا ہے کہ صوبائی و مرکزی حکومت مہنگائی پر ہر صورت قابو پائیں۔ اس باب میں دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ حکومت کی جانب سے آئے روز پٹرولیم، بجلی و گیس کے نرخ بڑھانے کی روش کو ترک کرنا چاہئے تاکہ غریب عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ