اب فیملی پلاننگ کے لئے عورتوں کو گولی نہیں کھانا پڑے گی، مردوں کو قربانی دینا پڑے گی

اب فیملی پلاننگ کے لئے عورتوں کو گولی نہیں کھانا پڑے گی، مردوں کو قربانی دینا ...
اب فیملی پلاننگ کے لئے عورتوں کو گولی نہیں کھانا پڑے گی، مردوں کو قربانی دینا پڑے گی

  



نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)اب تک دنیا میں جتنی مانع حمل ادویات بنائی گئیں وہ سب خواتین کے استعمال کرنے کے لیے تھیں تاہم اب بھارتی سائنسدانوں نے دنیا میں پہلی بار ایک ایسی مانع حمل دوا ایجاد کر لی ہے جو مرد استعمال کیا کریں گے۔ میل آن لائن کے مطابق یہ ایجاد انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے سائنسدانوں نے کی ہے جس کے کلینیکل تجربات کے تین مراحل کامیاب ہو چکے ہیں اورجلد دوا عام استعمال کے لیے مارکیٹ میں دستیاب ہو گی۔

رپورٹ کے مطابق یہ دوا ایک انجکشن کی صورت میں ہے جو مردوں کے خصیوں سے عضو مخصوصہ کی طرف سپرمز لیجانے والی ٹیوب میں لگایا جائے گا۔ اس سے یہ ٹیوب 13سال کے لیے بند ہو جائے گی اور اس کے ذریعے سپرمز خارج نہیں ہوں گے۔ یہ انجکشن مریض کو بے ہوش کرنے کے بعد لگایا جائے گا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے 300مردوں پر اس کے تجربات کیے، جو 100فیصد کامیاب رہے اور ان مردوں میں سے کسی ایک میں بھی انجکشن کے مضر اثرات سامنے نہیں آئے۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر آر ایس شرما کا کہنا تھا کہ اس دوا کی انڈین ریگولیٹری باڈی سے حتمی منظوری لینا باقی ہے جس میں چھ سے سات ماہ لگ سکتے ہیں۔ اس کے بعد دوا مارکیٹ میں دستیاب ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ مردوں کے لیے مانع حمل ادویات کے تجربات امریکہ میں بھی ہو چکے ہیں لیکن وہ تمام تجربات سنگین مضراثرات کے باعث ناکام ہو گئے۔

مزید : تعلیم و صحت