حکومت نےمسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈالا،اقوام متحدہ میں ہمارا مندوب اب تک کشمیر پرنہیں بولا: سینیٹر رحمان ملک

حکومت نےمسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈالا،اقوام متحدہ میں ہمارا مندوب اب تک کشمیر ...
حکومت نےمسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈالا،اقوام متحدہ میں ہمارا مندوب اب تک کشمیر پرنہیں بولا: سینیٹر رحمان ملک

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اورسینیٹ کی  قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین رحمان ملک نے کہا  ہے کہ،کشمیر میں بیہمانہ مظالم، عورتوں کی عصمت دری، قتل و غارت پر مودی کو عالمی عدالتوں میں گھسیٹا جائے،بدقسمتی سے حکومت نےمسئلہ کشمیر کو پسِ پشت ڈالا ہے،اقوام متحدہ میں ہمارا مندوب اب تک کشمیر پر نہیں بولا،اقوم متحدہ اب تک کشمیر پر سیکورٹی کونسل کے قراردوں پر عمل درآمد کروانے میں ناکام ہے جبکہعالمی برادری کشمیر میں بھارتی مظالم پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے،سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی ناکامی اور بھارتی مظالم پر خاموشی کیوجہ سے اقوام متحدہ کی ساکھ گر رہی ہے،دوسری طرف سینیٹر رحمان ملک نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو خط لکھ دیاہے،خط میں وزیرخارجہ سے آئی سی جے و آئی سی سی میں مودی مظالم کیخلاف جانے کا مطالبہ کیاگیاہے۔

 سینیٹر رحمان ملک نےپریس کانفرنس کرتے ہوئےکہاہے کہ کشمیر پر جو سخت رویہ حکومت کو اپنانا چاہیے تھا وہ نہ اپنا سکی ، ہماری حکومت مودی کو اتنے مظالم کے باوجود گھٹنوں پر ٹیک نہ سکی ،ہونا یہ چاہئے تھا کہ آج مودی کو دنیا ایک ظالم کے طور پر جانتی، ہماری حکومت کشمیر کیلئے وہ کچھ نہ کرسکی جو کرنا چائیے تھا اور قوم کو امید تھی،میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ مودی کیخلاف بین اقوامی عدالت انصاف میں جائے،  آج میں وزیر خارجہ کو خط لکھنے پر مجبور ہوں کہ مودی کیخلاف آئی سی سی و آئی سی جے میں جائے،  کشمیر میں بیہمانہ مظالم، عورتوں کی عصمت دری، قتل و غارت پر مودی کو عالمی عدالتوں میں گھسیٹا جائے،حکومت پاکستان گیمبیا کا میانمار کیخلاف آئی سی سی میں کے گئے کیس کے طرز پر بھارت کیخلاف کیس کرے،   گیمبیا نے روہینگیامسلمانوں پر میانمار حکومت کے مظالم کیخلاف عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرکے مثال قائم کی ہے،   میں گیمبیا کے وزیر قانون کو سلام و خراج تحسین پیش کرتا ہوں، روہینگیا مظالم کی طرح کشمیر میں بھی مودی حکومت ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔

انہوں  نےکہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 1989 سے 2018 تک 94,644 کشمیری قتل کئے گئے،   بھارتی افواج نے 11,042 عورتوں کی اجتماعی عصمت دری اور ہزاروں جوانوں کو بینائی سے محروم کیاہے،بارہا حکومت کومودی کےخلاف عالمی عدالتوں میں جانے کامشورہ دیتا رہا ہوں،کاش حکومت میرے مشورے پر عمل کرکے مودی کے مظالم کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں جاتی، ایک بار پھر حکومت سے مودی کیخلاف آئی سی سی و آئی سی جے میں جانے کا مطالبہ کرتا ہوں،حکومت اقوام متحدہ سے سیکیورٹی کونسل کے استصواب رائے کے قراردادوں پرعمل درآمد کا مطالبہ کرے، حکومت اقوام متحدہ سے کشمیر میں استصواب رائے  کیلئے تاریخ تعین کروائے، اقوام متحدہ سے کشمیری مظالم پر انسانی حقوق کمیشن کا تقرر عمل میں لایا جائے،اب تک پاکستان اقوام متحدہ کومسئلہ کشمیر آئی سی جے میں بھیجنے پر قائل نہ کرسکا،اقوم متحدہ اب تک کشمیر پر سیکیورٹی کونسل کے قراردوں پر عمل درآمد کروانے میں ناکام رہی ہے،  عالمی برادری کشمیرمیں بھارتی مظالم پرخاموش تماشائی بنا ہوا ہے،سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کی ناکامی و بھارتی مظالم پر خاموشی کیوجہ سے اقوام متحدہ کی ساکھ گر رہی ہے، پاکستان کے پاس مودی کو انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں لیجانے کاآخری موقع ہے، پاکستان فوری طور پر روم اسٹیچیوٹ کے تحت مودی کیخلاف کشمیر میں ریاستی دہشتگردی کا مقدمہ درج کرے، روم اسٹیچوٹ کے تحت کوئی بھی فرد و ملک کسی بھی ظلم و زیادتی کیخلاف پیٹیشن جمع کراسکتا ہے،بدقسمتی سے ہم نے کشمیر مسئلہ کو پس پشت ڈالا ہے،حکومت بتائے کہ5 اگست کے بعد وہ کشمیر کے لئے کیا کر سکی؟اقوام متحدہ میں ہمارا مندوب اب تک کشمیر پر بولا نہیں ہے۔

سابق صدر آصف علی زرداری کی بگڑتی صحت پر گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے ہوئےرحمان ملک نے حکومت سے سابق آصف علی زرداری کو مکمل میڈیکل سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا،جیل انتظامیہ کاسینیٹ کمیٹی داخلہ کو جمع رپورٹ کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری کی صحت روز بروز بگڑتی جا رہی ہے آئین و قانون کے روسے ہر پاکستانی کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنا علاج کسی بھی معالج و بیرون ملک سے کرے، سابق آصف علی زرداری کو جہاں سے وہ چاہے علاج سے نہ روکا جائے، سابق صدر آصف علی زرداری کی تیزی سے بگڑتی صحت کیوجہ سے انکے خاندان و پارٹی کارکنان میں انتہائی تشویش پائی جاتی ہے، سابق صدر آصف علی زرداری کو خدانخواستہ کچھ ہوگیا تو ذمہ دار حکومت وقت ہوگی، آصف علی زرداری ایک بہادر انسان ہے اس نے بیل کے لئے اپیل کرنے سے منع کیا ہے، انتقامی کاروائیاں بند کی جائے، سب کے لئے ایک قانون ہونا چاہئے، نوازشریف کو اجازت ملنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور انکے لئے دعاگو ہوں، سیاست کو گلی کوچوں کی ماسی لڑائی سے نکالا جائے، سابق صدر آصف علی زرداری کسی عدالت سے سزا یافتہ نہیں بلکہ زیرتفتیش ہے، آصف علی زرداری کی بہادری کو سلام پیش کرتا ہوں،  ہر مشکل وقت کو آصف علی زرداری نے بڑی بہادری سے گزاری ہے، ہر مشکل کے باوجود آصف علی زرداری نہ کبھی جھکے نہ منت کی۔

مزید : قومی