جن سے شکوہ تھا اُن کا ’جوابِ شکوہ‘ آگیا،جنوری 2020تک جو ہونے والا ہے اُس سے عمران نیازی پریشان ہیں:حافظ حسین احمد

جن سے شکوہ تھا اُن کا ’جوابِ شکوہ‘ آگیا،جنوری 2020تک جو ہونے والا ہے اُس سے ...
جن سے شکوہ تھا اُن کا ’جوابِ شکوہ‘ آگیا،جنوری 2020تک جو ہونے والا ہے اُس سے عمران نیازی پریشان ہیں:حافظ حسین احمد

  



کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)جمعیت علمائے اسلام ف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات اور سینئر سیاست دان حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ جے یو آئی اور اپوزیشن کے آزادی مارچ سے دیگر معاملات کے ساتھ نیب کا قبلہ بھی درست ہوتا نظر آرہا ہے، 2018ء کے انتخابات میں دھاندلی کا جن سے شکوہ تھا اُن کا ’جواب شکوہ‘ آگیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہسلیکٹڈ حکمران اب آخری ہچکیوں پر آگئے ہیں اور ویسے بھی اب جن پر اُن کا تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے ہیں، چیئرمین نیب کا تازہ بیان کہ ''آئندہ احتسابی عمل بلا تفریق اور غیر جانبدار نہ ہوگا'' اس بات کا اعتراف ہے کہ اس سے پہلے احتساب سلیکٹڈ تھا اور اس سے سلیکٹڈ کو باہر رکھا گیا تھا۔اُنہوں نے کہا کہ یہ بھی آزادی مارچ کی کامیابی کے اثرات ہیں جو آہستہ آہستہ سامنے آرہے ہیں،جنوری 2020ء تک جو کچھ ہونیوالا ہے اس سے عمران نیازی پریشان ہیں اور اس کی پریشانی و جھنجلاہٹ اس کے بیانات اور اپوزیشن رہنماؤں کو گالی گلوچ اور نازیبا الفاظ سے آشکار ہے۔ ایک سوال کے جواب میں حافظ حسین احمد نے کہا کہ اِس صورتحال سے پریشان ہوکر ’’نکے‘‘ نے 2روز کی چھٹی نہیں بلکہ ’’کٹی‘‘ کی، آخر کار ’’نکے‘‘ کو منانے کے لیے ’’اَبے‘‘ کو زحمت کرنی پڑی،چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی اِس قسم کے مذاکرات میں ’’تمغہ شجاعت‘‘ ہولڈر ہیں۔

مزید : علاقائی /بلوچستان /کوئٹہ