’ اگر نوازشریف بھی جیل میں ماردیئے جاتے تو ۔۔۔‘

’ اگر نوازشریف بھی جیل میں ماردیئے جاتے تو ۔۔۔‘
’ اگر نوازشریف بھی جیل میں ماردیئے جاتے تو ۔۔۔‘

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہاہے کہ اگر نوازشریف بھی جیل میں مر جاتے تو عمران خان اور سٹیبلشمنٹ کو اس کی سیاسی سزا بھگتا پڑتی اور تیس چالیس سال تک ان کا کفارہ ادا کرنا پڑتا ۔

جیونیوز کے پروگرام ”آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ“میں گفتگو کرتے ہوئے سہیل وڑائچ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے سے وزیراعظم نرم ہوگئے اور سب کوپتہ تھا کہ یہ وقت آئے گا اوریہ ہونا تھا ۔انہوں نے کہا کہ اگر دھرناایک ماہ لیٹ ہوتا تو حکومت اورزیادہ کمزورہوتی ، اگر حکومت نے اپنی پالیسیاں درست نہ کیں اور نظام میں بہتری نہ لائی تو حکومت بہت تیزی سے نیچے جائیگی ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت تو وہی رہتی جو ڈلیور کرتی ہے لیکن پاکستان میں توحکومت ڈلیور بھی کررہی ہوتوچلی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جووعدے کئے تھے اور جو خواب دکھائے تھے ، وہ پورے نہیں ہوئے ، افسوس یہ ہے کہ لوگوں کی توقعات میں سے شائد کوئی ہی پوری ہوئی ہوسوائے احتساب کے اور وہ احتساب بھی اب جانبدارانہ ہونے لگا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر نوازشریف بھی جیل میں ماردیئے جاتے تو عمران خان اور سٹیبلشمنٹ کو اس کی سیاسی سزا بھگتا پڑتی اور تیس چالیس سال تک اس کا کفارہ ادا کرنا پڑتا ۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد