ہفتہ  رحمتہ اللعالمینؐ کے سلسلے کی پرورقار تقریبات اور روحانی محافل

ہفتہ  رحمتہ اللعالمینؐ کے سلسلے کی پرورقار تقریبات اور روحانی محافل

  

پنجاب حکومت کا ہر سال ربیع الاول میں شانِ رسالتؐ ویک منانے کا اعلان خوش آئند ہے

نعیم مصطفےٰ

دنیا بھر میں اربوں مسلمان اور دوسرے مذاہب کے لوگ بھی آنحضورؐ کی شان و شوکت اور عظمت کے گرویدہ ہیں۔ یہ وہ ذاتِ پاک ہے کہ جب دنیا جہالت اور گمراہی کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی، لوگ بتوں کی پوجا کرتے، نوزائیدہ بچیوں کو زندہ دفن کر دیتے، چوری، ڈاکہ، شراب نوشی، سودی کاروبار، قمار  بازی، جھوٹ، فریب اور غریبوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم تھا تو آپؐ ایک آفتابِ درخشاں بن کر ان اندھیروں کو ختم کرنے کے لئے اس دنیا میں تشریف لائے۔ آپؐ کے والد ماجد حضرتِ عبداللہ ؓ آپ ؐکی پیدائش سے چند ماہ قبل ہی اس دارِ فانی سے رحلت فرما گئے تھے آپؐ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہؓ نے عرب کے رواج کے مطابق انہیں دودھ پلانے اور قدرتی ماحول میں پرورش پانے کے لئے حضرت دائی حلیمہ کے سپرد کیا۔ حضرتِ آمنہؓ رسول اکرمؐ کے بچپن ہی میں انتقال فرما گئیں جس کے بعد چچا حضرت ابو طالب نے آپؐ کی پرورش کی حضرت ابو طالب شیر خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے والد محترم تھے جنہوں نے ہر مشکل میں اپنے بھتیجے حضرت محمدﷺ کا ساتھ دیا۔ آنحضورؐ شروع سے ہی ایک باوقار، سنجیدہ اور متین شخصیت کے مالک تھے۔ مکہ مکرمہ میں آپؐ صادق اور امین کے لقب سے معروف تھے۔ نوجوانی کے عالم میں تجارت کا پیغمبری پیشہ اپنایا اور حضرتِ خدیجتہ الکبریٰؓ جو عرب کی ایک ثروت مند اور مالدار خاتون تھیں، انہوں نے اپنا مال تجارت کے لئے آنحضورؐ کے سپرد کیا۔ جب واپس تشریف لائے تو حضرت خدیجہؓ ان کی دیانت اور امانت داری سے بے حد متاثر ہوئیں اور آپؐ کی اعلیٰ  صفات کی بدولت آپؐ کو شادی کا پیغام بھیجا جو آپؐ نے قبول فرما لیا۔ اس وقت آنحضرتؐ کی عمر مبارک پچیس سال تھی جبکہ حضرت خدیجہ ؓ آپؐ سے پندرہ سال بڑی تھیں۔یہ ناقابل تردید حقیقت ہی نہیں بلکہ ہمارے ایمان کا پختہ جزو ہے  جس کی بدولت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہر مسلمان کی بے حد جذباتی وابستگی ہے  اور ہر مسلمان اس محبت کو جان و دل سے مقدم جانتا ہے۔مغرب کو یہ بات سمجھ لینی چاہیئے کہ مسلمان جان تو قربان کر سکتا ہے لیکن پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی ہرگز برداشت نہیں کر سکتا- کچھ عرصہ قبل ناروے میں ناہنجار کارٹونسٹ نے آزادی اظہار کے نام پر ناپاک جسارت کی- ڈنمارک اور دیگر ممالک میں مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے والے مکروہ اقدامات کئے گئے- فرانس میں طلبا کو زبردستی آزادی اظہار کے نام پر دل آزاری کرنے والے خاکے دکھائے گئے او ربلاشبہ یہ دل آزاری کرنے والے شر انگیز اقدامات ہیں - آزادی اظہار کے نام پر کی جانے والی مذموم حرکتیں قطعی طور پر ناقابل برداشت ہیں اور مسلمانانِ عالم ایسے گستاخانہ خاکوں کی شدید مذمت کرتے ہیں اور  اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر انبیاء کرام کے بارے میں گستاخانہ اور مذموم حرکتوں جیسے توہین آمیز اقدامات پر پابندی عائد کی جائے-اس مذموم حرکت پر ہر مسلمان کا دل بہت رنجیدہ ہے- اگر ہولوکاسٹ پر بات کرنے سے کسی کی دل شکنی یا جذبات مجروح ہوتے ہیں تو پونے دو ارب مسلمانوں کے جذبات اور احساسات کو بے دردی سے بار بارکیوں مجروح کیا جا رہا ہے- ضرورت اس امر کی ہے کہ او آئی سی اور دیگر ادارے بھی اس پربھرپور رد عمل کا اظہار کریں تاکہ کسی شرپسند کو دوبارہ یہ حرکت کرنے کی جرأت نہ ہو-

 فرانس میں ہونے والی اس مذموم حرکت اور فرانسیسی صدر کے قابل مذمت بیان کا بھرپور جواب دینے کیلئے پنجاب حکومت کا یہ فیصلہ بڑا خوش آئند ہے کہ ہر سال ربیع الاول میں ہفتہ شان رحمت اللعالمینؐ سرکاری سطح پر منایا جائے گا اور اس ہفتے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس کو بیان کرنے کیلئے مختلف تقریبات ہوں گی-اس سلسلے کی پہلی کڑی کے طور پر تقریبات کا آغازالحمراء لاہور میں نعتیہ مشاعرے سے ہوا جہاں نعت گو شعرا نے  نبی کریم ؐ کی شان میں ہدیہ عقیدت پیش کیا-لاہور میں محفل سماع بھی منعقد کی گئی، جس میں ملک کے نامور  قوال شریک ہوئے-پنجاب میں پہلی عالمی علماء و مشائخ کانفرنس منعقد کی گئی جہاں بین الاقوامی شہرت یافتہ علماء اور مشائخ مقالہ جات پیش کئے- وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے پنجاب میں 50 کروڑ روپے کے ابتدائی فنڈ سے رحمت اللعالمین سکالرشپ کے اجراء کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ25 کروڑ روپے کی رقم سے پوزیشن ہولڈر طلبہ کو وظائف دئیے جائیں گے-صوبہ بھر میں میٹرک پاس کرنے والے غریب اور نادار طلبہ کو مزید پڑھائی کیلئے 25 کروڑ روپے کے رحمت اللعالمین سکالرشپ بھی دیئے جائیں گے اور ان طلبہ اور طالبات کی فیس اور رہائش کیلئے مالی معاونت کی جائے گی- ہر سال ربیع الاول میں 50 کروڑ کے ابتدائی فنڈ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے گا-محکمہ ہائر ایجوکیشن کے زیراہتمام سکالرز کیلئے یونیورسٹیوں میں رحمت اللعالمین چیئرز قائم کی جا رہی ہیں -رحمت اللعالمین چیئرز پنجاب کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کی یونیورسٹیوں میں قائم ہوں گی-سکالرز کو اسلامی دنیا کے بہترین اداروں میں نبی کریم ؐ کی سیرت پر ریسرچ کیلئے سکالر شپ دئیے جائیں گے-ہر سال ربیع الاول میں نعتیہ مشاعرے ہوں گے اور ملک بھر سے نامور اور جید شعرا کو مدعو کیا جائے گا-اندرون اور بیرون ممالک سے نامور سکالرز اور محققین کو مدعو کیا جائے گا جو سیرت مبارکؐ پر مقالہ جات پیش کریں گے- صوبہ، ڈویژن، ضلع،یونیورسٹیز اور بورڈز کی سطح پر سیرت النبی ؐپر تقریری مقابلے کرائے جائیں گے- جیتنے والے طلبا و طالبات کو اسناد اور نقد انعامات دئیے جائیں گے-سیرت النبی  ؐ کو اجاگر کرنے کیلئے اسلامی خطاطی کے مقابلے میں ملک بھر سے خطاط حضرات کو مدعو کیا جائے گا- مقابلے میں بہترین خطاط کو اسناد اور نقد انعامات سے نوازا جائے گا-محسن انسانیت حضرت محمد  ؐ کی حیات مبارکہ پر مختصر دستاویزی فلمیں بنائی جائیں گی- بہترین ڈاکومنٹری کو ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر انگلش اور فرنچ سب ٹائٹلز کے ساتھ نشر کیا جائے گا- مقابلے کے ونر پروڈیوسر کو اسناد اور نقد انعام دیا جائے گا-وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ ہفتہ رحمت اللعالمینؐ کے دوران صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی سطح پر نعت خوانی اور قوالی کی محافل کا اہتمام کیا جائے گا اور یہ مسئلہ پوری امت مسلمہ کا ہے-رحمت اللعالمینؐ کی شان بیان کرنا ہمارے ایمان کاحصہ ہے-رحمت اللعالمینؐ سکالر شپ میں ہر سال اضافہ کیاجائے گا- انہوں نے کہاکہ ہفتہ شان رحمت اللعالمینؐ ہر سال مذہبی جوش و خروش، عقیدت اور احترام سے منایا جائے گا-پوری کمیونٹی کو موبلائز کیاجائے گا- ہفتہ شان رحمت اللعالمین ؐکی تقریبات کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی-وزارتی کمیٹی میں صوبائی وزیر اوقاف پیرسیدسعید الحسن شاہ، معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان او ردیگر شامل ہوں گے-سیکرٹریٹ کی سطح کی بھی کمیٹی تشکیل دی جائے گی-تمام تقریبات کاشیڈول جاری کیاجائے گا-

اس سلسلے میں ایوان اقبال لاہور میں رحمت اللعالمین کانفرنس کا انعقاد بھی کیا گیا  جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس سے محبت پوری دنیا کے مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے اور وہ کسی بھی صورت برداشت نہیں کرسکتا ہے کہ آقائے دو جہاں سرکار مدینہ حضرت محمد ﷺکی ذات مبارکہ کو کسی بھی حوالے سے نشانہ بنایا جائے۔ نبی رحمت ﷺ کی ذات بابرکات کو مالک کائنات نے سب جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا اور آپ نا صرف دنیا بلکہ آخرت میں بھی ہر کمزور کا سہارا اور امید ہیں۔آزادی اظہار کے نام پر کی جانے والی مذموم حرکتیں قطعی طور پر ناقابل برداشت ہیں، گستاخانہ خاکوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ سے نبی کریمؐ اور دیگر انبیاء کرام کے بارے میں گستاخانہ حرکتوں جیسے توہین آمیز اقدامات پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کانفرنس میں رہنما تحریک انصاف اعجاز احمد چوہدری، مفتی رمضان سیالوی، مولانا عبدالخبیر آزاد، ڈاکٹر محمد حسین اکبر، قاری زوار بہادر اور علما و مشائخ کے ساتھ ساتھ عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس میں ناموس رسالت، آسمانی کتب، اہل بیت و صحابہ کے احترام بارے قراردار پیش کی گئی۔ ناموس رسالت کے خلاف گستاخانہ فعل میں ملوث افراد کے خلاف سخت سزا کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ہم دنیا کو بھر میں اس حقیقت کو اجاگر کریں گے کہ آقائے دو جہاں، سرکار مدینہ حضرت محمد ﷺ اللہ تبارک وتعالی کے وہ جلیل القدر پیغمبر اور خاتم النبیین ہیں جنہوں نے دنیا کو امن و سلامتی کا درس دیا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار کے نام پر کی جانے والی مذموم حرکتیں قطعی طور پر ناقابل برداشت ہیں، گستاخانہ خاکوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اقوام متحدہ سے نبی کریمؐ اور دیگر انبیاء کرام کے بارے میں گستاخانہ حرکتوں جیسے توہین آمیز اقدامات پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے امت مسلمہ کی نمائندگی کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں نبی رحمت ﷺ کی شان اقدس بارے بھرپور اور موثر پیغام دیا۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے مسلم ممالک کے سربراہان کو خط کے ذریعے زور دیا ہے کہ وہ اسلامو فوبیا اور خاص کر یورپی ممالک کے رہنماؤں کے بیانات کے خلاف متحد ہوکر کردار ادا کریں۔  ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حالیہ دلخراش واقعے کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ فرانس کے حکام اس واقعہ کی مذمت کرتے بلکہ فرانس کے صدر نے فرانسیسی ٹیچرز کے موقف کا بھرپور دفاع کیا۔ پوری مسلم امہ فرانسیسی صدر کے اقدام کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ مسلمانوں میں جو بے چینی اور اضطراب کی لہر پائی جا رہی ہے اس کانوٹس لے اور فرانس کو خبردار کرے کہ وہ اس حساس معاملہ کی سنگینی کو سمجھے اور صدر میکرون کو ہرزہ رسائی سے باز رکھیں۔ ہولو کاسٹ پر تنقید اور سوال کرنا مغربی ممالک میں جرم ہے اور مسلم دنیا کو اس کا احساس ہے اور احترام بھی کرتی ہے۔مغربی دنیا کو بھی مسلمانوں کیلئے ناموس رسالت کی حساس نوعیت کو سمجھنا ہوگا۔

ہفتہ رحمتہ اللعالمین کے سلسلے کی ایک تقریب ”بین المذاہب عالمی مشائخ و علماء کنونش“ تھا۔ پرل کانٹیننٹل ہوٹل لاہور میں ہونے والی اس پروقار تقریب کی صدارت سردار عثمان احمد خان بزدار وزیراعلیٰ پنجاب نے کی جبکہ راجہ بشارت وزیر قانون و پارلیمانی امور پنجاب اور صاحبزادہ سید سعید الحسن شاہ  وزیر اوقاف و مذہبی امور پنجاب بطور مہمانانِ خصوصی شریک ہوئے۔ تلاوت قرآن پاک کی سعادت مولانا ڈاکٹر قاری احمد میاں تھانوی نے حاصل کی اور نعت رسول مقبولؐ نور محمد جرال نے پیش کی۔ اس روحانی کنونشن میں عالمی مندوبین پیر خواجہ فرید الدین فخری(اورنگ آباد انڈیا)، الشیخ فضل بن محمد القیروانی لتونسی، تیونس، الشیخ الدکتور سلمان النقوی، انٹرنیشنل قم یونیورسٹی، ایران سمیت قائدینِ مذاہب عالم ڈاکٹر منور چاند ہندو لیڈ، ڈاکٹر الیگزینڈر جان ملک، سابق بشپ آف لاہور، سردار کلیان سنگھ کلیان، لیکچرار گورنمنٹ کالج یونیورسٹی خصوصی طور پر تشریف لائے۔ ملک کے ممتاز اکابرین، مشائخ و علمائے کرام علامہ سید ریاض حسین نجفی، صاحبزادہ حافظ فضل الرحیم، صاحبزادہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، علامہ سید ضیاء الہ شاہ بخاری، علامہ ہادی الحسینی،حافظ زبیر احمد ظہیر، علامہ محمد حسین اکبر، صاحبزادہ پیر منور حسین شاہ جماعتی، صاحبزادہ میاں محمد ابوبکر نقشبندی، صاحبزادہ محمد جنید قادری، صاحبزادہ پیر خالد سلطان، صاحبزادہ محمد عدنان قادری، صاحبزادہ پیر علی رضا شاہ، حافظ طاہر محمود اشرفی، صاحبزادہ حامد رضا، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، پیر سید چراغ الدین شاہ، مولانا شفیق احمد پسروری، مفتی محمد رمضان سیالوی،مولانا سید عبدالخبیر آزاد، مفتی محمد اقبال چشتی اور خواجہ غلام قطب الدین فریدی سمیت بڑی تعداد میں نامور علمائے کرام و خطبہ حضرات نے کنونشن سے خطاب کے دوران سیرت سرور کونینؐ پر روشنی ڈالی اور عالم اسلام کے خلاف ہونے والی صیہونی سازشوں کی پُرزور مذمت کی۔ مقررین نے بین المذاہب ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ عالم اسلام مغرب کی اسلام دشمن سازشوں کے خلاف متحد اور سینہ سپر ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -