مولانا اشرف علی تھانویؒ ……ایک ہمہ جہت شخصیت

مولانا اشرف علی تھانویؒ ……ایک ہمہ جہت شخصیت

  

قیام پاکستان میں مولانا اشرف علی تھانویؒاوران کے خلفاء ورفقاء کا بنیادی کردارہے

مولانا مجیب الرحمن انقلابی

hmujeeb786@hotmail.com

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کا شمار ان ممتاز ہستیوں میں ہوتا ہے جنھوں نے تحریک پاکستان میں نمایاں کردار ادا کیا...  اور ان کی تصنیفات کی تعداد پندرہ سو سے زائد ہے  ...آج ملک بھر کی امن کمیٹیاں اور علماء کرام حضرت مولانا اشرف علی تھا نوی ؒ کے اس سنہرے اصول اورخوبصورت امن فارمولے "اپنے مسلک کو چھوڑو نہیں اور دوسرے کے مسلک کو چھیڑو نہیں "  پر عمل پیر ا ہیں....ان ہی کے بارے میں قائد اعظم محمدجناح  ؒنے کہا تھا کہ میرے پاس ایک ایسا عالم دین ہے کہ اگر اس کا علم ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور پورے ہندوستان کے بقیہ علماء کا علم دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو ان کا پلڑا بھاری ہو گا اور وہ ہیں مولانا اشرف علی تھانویؒ۔

  حکیم الامت حضرت تھانویؒنے تو قیام پاکستان سے بھی پہلے اس ضرورت کی طرف علماء کو متوجہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا  ’’ہوا کا رخ بتا رہا ہے کہ مسلم لیگ والے کامیاب ہو جائیں گے اور بھائی جو سلطنت ملے گی وہ انہی لوگوں کو ملے گی      لہٰذا ہم کو یہ کوشش کرنا چاہیے کہ یہی لوگ دیندار ہو جائیں۔“  قیامِ پاکستان میں مولانا اشرف علی تھانویؒ کی دعائیں کوششیں اور ان کے خلفاء و رفقاء کا بنیادی کردار ہے اسی وجہ سے مولانا اشرف علی تھانویؒ کے حکم پر بانئ جامعہ اشرفیہ لاہور حضرت مولانامفتی محمد حسنؒ نے شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ، مولانا ظفر احمد عثمانیؒ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ اور دیگر علمائے دیوبند کے ہمراہ تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا اور کئی جگہ مسلم لیگ کے امیدواروں کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کیا جس کے نتیجہ میں پاکستان بننے کے بعد مشرقی و مغربی پاکستان پر آزادی کا پرچم لہرانے کی سعادت ”بزم اشرف“ کے روشن چراغ اور دارالعلوم دیوبند کے قابل فخر سپوت حضرت مولانا علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اور مولانا ظفر احمد عثمانیؒ کو حاصل ہوئی.....اپریل 1943ء میں دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس ہوا جس میں شرکت کے لئے حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے پاس دعوت نامہ ارسال کیا گیا دعوت نامہ کے جواب میں مسلم لیگ کی مذہبی تربیت کافریضہ انجام دیتے ہوئے لکھا کہ میری دو کتابیں ارکانِ مسلم لیگ عملی زندگی میں اختیار کر لیں، حیاۃ المسلمین اور صیانۃ المسلمین گویا حضرت تھانوی ؒ کی نظر میں ہندوستان میں مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت کا دستور حیاۃالمسلمین اور نظام صیانۃ المسلمین ہونا چاہئے تھا۔

حکیم الامت حضرت مولانا شاہ محمد اشرف علی تھانویؒ نے1930ء میں مسلمانوں کی حالت کودیکھتے ہوئے فرمایا تھا کہ مسلمانوں کی حالت کا تصور اگر کھانے سے پہلے آجاتا ہے تو بھوک اڑجاتی ہے اور سونے سے پہلے آجاتا ہے تو نیند اُڑ جاتی ہے۔ ان حالات میں مسلمانوں کی فلاح وکامیابی کیلئے حضرت تھانویؒ نے کتاب حیاۃ المسلمین کو تحریر فرمایا اور حیاۃ المسلمین کے نظام کوجاری کرنے کے لیے حضرت تھانویؒ نے 1930ء میں اصلاحی تنظیم مجلس صیانۃالمسلمین کوقائم کیا....۔ قیام پاکستان کے بعد حضرت مولانا جلیل احمد شیروانیؒ (المعروف پیارے میاں)نے حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحبؒ بانی جامعہ اشرفیہ لاہور کی زیر سرپرستی اس نظام کو جاری فرمایا.... آج بھی مجلس صیانۃ المسلمین..صدر مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور،نائب صدر مولانا مفتی محمدطیب (فیصل آباد)اور نگران اعلیٰ قاری ارشد عبیدو دیگر اکابرین کی سرپرستی میں لوگوں کی اصلاح و تربیت مصروف عمل ہے۔ 

حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کو اوقات کی پابندی کا خیال بہت زیادہ رہتا، ان میں ذرہ برابر فرق نہیں آتا انتہائی مجبوری کی صورت کے سوا کسی قسم کا کسی کے ساتھ استثناء نہ ہوتا،حضرت ِ تھانویؒ قرآن و حدیث، فقہ وتفسیر اور معرفت و سلوک میں غیرمعمولی امتیاز و تفوق کے علاوہ نفسیات شناس بھی تھے۔ انسانوں کی نفسیات میں انھیں گہرا دراک حاصل تھا کس انسان سے کب اور کیا برتاؤ کیاجاے، اس سے وہ بہ خوبی واقف تھے۔ یہ وہ خوبی ہے، جو اصلاح و تربیت اور دعوت و تبلیغ کے کام کے لیے نہایت ناگزیر ہے اس صلاحیت کے بغیر اس راہ میں کوئی مفید خدمت نہیں انجام دی جاسکتی اس کے بغیر جو بھی کام ہوگا، وہ اطمینان بخش نہیں ہوگا۔ 

جگر مرادآبادی سے اردو دنیا کاہر فردِبشر واقف ہے یہ اپنے زمانے کے نہایت مقبول اور ہر دل عزیز شاعر تھے غزل سے ان کے مزاج کو خصوصی مناسبت تھی اسی وجہ سے انھیں اردو دنیا میں رئیس المتغزلین یا سلطانِ تغزل کے لقب سے یاد کیاجاتا ہے آج بھی ان کے اشعار ذوق وشوق کے ساتھ پڑھے جاتے ہیں....اس کے ساتھ ساتھ یہ پینے پلانے کا شوق بھی رکھتے تھے لیکن کبھی آپے سے باہر نہیں ہوے ہمیشہ سنجیدگی کے دائرے میں رہتے تھے علما اور بزرگوں کا ہرحال میں بے حد احترام کرتے تھے۔ جگرصاحب ایک روز مظفرنگر یا سہارن پور کے کسی مشاعرے میں شرکت کے لیے جارہے تھے... اسٹیشن پر ان کی ملاقات حضرت مولانا تھانویؒ کے مشہور خلیفہ خواجہ عزیزالحسن مجذوبؒ سے ہوگئی خواجہ صاحب بھی بلند پایہ شاعر تھے دونوں بڑے تپاک سے ملے پوچھاکہاں جارہے ہو؟ حضرت مجذوب ؒ نے    َََ ؓبتایا کہ تھانہ بھون اپنے مرشد حضرت تھانویؒ سے ملاقات کیلئے جارہاہوں.....جگرصاحب بے چین ہوگئے اور کہا: ”میری بھی دیرینہ خواہش ہے کہ میں بھی حضرت مولانا کی خدمت میں حاضری دوں لیکن کیا کروں اپنی بلانوشی کی وجہ سے ہمت نہیں کرپاتا“۔ مجذوب صاحبؒ نے فرمایا: ہاں یہ بات تو درست ہے۔ حضرت  تھا نوی ؒکے ہاں اس سلسلہ میں بڑی سختی ہے اس حال میں کبھی مت آجانا کچھ دیر میں دونوں اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئے...

حفیظ جون پوری انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل کے ایک مشہور وباکمال شاعر گزرے ہیں یہ شعر وسخن میں یکتائی کے ساتھ جون پور کے بڑے زمینداروں میں سے بھی تھے ان میں بھی اخلاقی برائیاں بہت زیادہ پائی جاتی تھیں ایک بار انھوں نے جون پور میں حضرت ِ تھانویؒ کا وعظ سنا     انھیں اپنی زندگی پر شدیدپشیمانی ہوئی وہیں مجلس میں بیٹھے بیٹھے ایک عریضہ لکھ کر مولانا تھانویؒ کی خدمت میں پیش کیا، جس میں انھوں نے اپنی اب تک کی زندگی پر اظہار تاسف و پشیمانی کیاتھا اور توبہ و بیعت کی خواہش بھی ظاہر کی تھی۔مولانا نے حفیظ صاحب کا خط پڑھااور قریب بلاکر فرمایا: سفر میں یک سوئی نہیں ہوتی۔ آپ تھانہ بھون آئیے وہیں تفصیل سے گفتگو ہوگی      حفیظ جون پوری کچھ دنوں کے بعد تھانہ بھون ضلع مظفرنگر پہنچے وہاں پتہ چلاکہ مولانا کسی جلسہ میں شرکت کے لیے دیوبند تشریف لے گئے ہیں وہ فوراً وہاں سے دیوبند کے لیے روانہ ہوگئے دیوبندپہنچے تو حضرت مولانا تھانہ بھون کے لیے روانہ ہوچکے تھے وہ پھر وہاں سے تھانہ بھون پہنچے اور حضرت تھانوی ؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے جون پور کی ملاقات کا حوالہ دیا،اپنی ماضی کی زندگی پر اظہار تاسّف کیا اور بیعت کی خواہش کااِعادہ کیا جاننے والے جانتے ہیں کہ مولانا تھانوی بیعت کے معاملے میں بہت محتاط واقع ہوئے تھے کافی دن دیکھنے اور پرکھنے کے بعد ہی بیعت کا فیصلہ فرماتے تھے البتہ اصلاح کا سلسلہ جاری رہتاتھا لیکن چوں کہ وہ ایک عارف تھے اور انسانی مزاج و طبائع کی شناخت رکھتے تھے، اس لیے انھوں نے پہلی ہی نظر میں پہچان لیاکہ حفیظ طلبِ صادق لے کر حاضر ہوئے ہیں انھوں نے بیعت کے لیے جمعہ کی نماز کے بعد کا وقت مقرر کردیا مولانا کا یہ رویہ خانقاہ میں موجودلوگوں کے لیے حیرت ناک تھا ایک نووارد اور بہ ظاہر بے دین شخص کی طرف مولاناکا یہ التفات ان کی سمجھ سے باہر تھا لیکن کہاکسی نے کچھ نہیں۔ وقتِ مقرر پر حفیظ جون پوری بیعت کے لیے حاضر ہوئے تو ان کا چہرہ بالکل صاف تھا ڈاڑھی کے نام سے ایک بال بھی چہرے پر نہیں تھا مولانا تھانوی نے انھیں دیکھا، کچھ دیر دیکھتے ہی رہے حفیظ سمجھ گئے کہ حضرت بہ زبان خاموشی مجھ سے فرمارہے ہیں کہ ”اللہ کے بندے اگر تو نے اسے بڑھایا نہیں تو منڈاتے بھی نہ“  قبل اس کے کہ مولانا کچھ فرماتے حفیظ صاحب خود ہی گویا ہوئے: حضرت! میں بیعت کے لیے حاضر ہوا ہوں، اب تو مجھے ہر بات آپ ہی کی ماننی ہے چوں کہ میں ہمیشہ اسی حال میں رہتا ہوں، طویل سفر میں موقع نہ ملنے کی وجہ سے شیو بڑھاہواتھا، اس لیے میں نے اسے صاف کرانا ضروری سمجھا۔ تاکہ آپ سے میری کوئی بات پوشیدہ نہ رہے۔ مولانا کے ہاں صاف گوئی کی بڑی قدر تھی انھوں نے بغیر کسی ڈانٹ پھٹکار کے انھیں اپنے حلقہ ارادت میں شامل کرلیا چند روز قیام کے بعد حفیظ صاحب اپنے وطن آگئے، خط و کتابت کا سلسلہ جاری رکھا اپنے حالات اپنے مرشد کو لکھ کر بھیجتے اور رہ نمائی حاصل کرتے رہے اس کے بعد حفیظ جون پوری میں ایسی تبدیلی آئی کہ اس عہد کے بڑے بڑے علما اور زہاد کو ان پر رشک آنے لگا۔ انھوں نے اپنی شاعری کے سلسلے میں بھی مولاناکی مرضی دریافت کی تھی کہ حکم دیں تو شاعری ترک کردوں۔ مولانانے فرمایا: ترک سخن مناسب نہیں۔ البتہ حکمت و موعظت کی باتوں کو موضوعِ سخن بنانے کا التزام کیاجائے۔ 

مزید :

ایڈیشن 1 -