افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا اچانک فیصلہ

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا اچانک فیصلہ

  

افغان طالبان نے امریکہ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے کہ تقریباً دو ہزار امریکی فوجی جلد افغانستان سے نکال لئے جائیں گے، طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ یہ ”اچھا اقدام“ ہے اور دونوں ممالک(امریکہ اور افغانستان) کے مفاد میں ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ جتنی جلد امریکی فوجیں ہمارے ملک سے نکل جائیں گی، جنگ کے خاتمے کے لئے یہ اتنا ہی بہتر ہو گا۔ امریکی محکمہ دفاع نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ افغانستان اور عراق سے اپنی فوجیں جلد از جلد نکال لے گا،افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد اتنی کم کر دی جائے گی جتنی کمی بیس سال کی جنگ میں کبھی نہیں کی گئی۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابات ہارنے کے بعد وزیر دفاع ایسپر اور اُن کے نائب سربراہ کو برطرف کر دیا ہے اور اب افغانستان اور عراق سے عجلت میں امریکی فوجیں نکالنے کا اعلان کیا ہے، دو ہزار فوجی 15جنوری تک واپس چلے جائیں گے،20 جنوری کو منتخب صدر جوبائیڈن صدارت کا منصب سنبھال لیں گے۔

امریکہ کے نیٹو اتحادیوں کا خیال ہے کہ اگر اس انداز میں امریکی فوجیں نکالی گئیں تو وہ تمام کامیابیاں بیکار جائیں گی، جو2001ء میں امریکہ اور اتحادیوں کو افغانستان پر حملے اور اپنی افواج وہاں داخل کرنے کے بعد حاصل ہوئیں۔ان کا یہ بھی  خیال ہے کہ اس طرح افغان حکومت کے مخالف سرگرم عناصر مضبوط ہوں گے اور تشدد بڑھ جائے گا۔ طالبان کا تو ہمیشہ ہی یہ موقف رہا کہ  غیر ملکی افواج افغان سرزمین خالی کر دیں۔امریکہ سے مذاکرات کے لئے یہ اُن کی پیشگی شرط ہوا کرتی تھی،تاہم دوحہ مذاکرات سے پہلے انہوں نے اپنے اس موقف میں نرمی پیدا کی، اور طویل مذاکرات کے نتیجے میں طالبان اور امریکہ کے درمیان جو معاہدہ ہوا اس کے نتیجے میں اب انٹرا افغان مذاکرات کا ایک دور  ہو چکا ہے تاہم اس کے بعد یہ سلسلہ رُکا ہوا ہے۔اب صدر ٹرمپ کے اس اچانک فیصلے سے جہاں اتحادیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے وہاں طالبان اس فیصلے سے خوش ہیں۔اُن کا گمان ہے کہ غیر ملکی فوجیوں کی تعداد جتنی کم ہو گی،اُن کی پوزیشن اتنی ہی مضبوط ہوتی  چلی جائے گی۔ یہاں یہ بات قابل ِ لحاظ ہے کہ دوحہ معاہدے میں غیر ملکی افواج کے انخلا کی تاریخ مئی 2021ء مقرر کی گئی ہے، جس کے جواب میں طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ افغانستان میں اتحادی فوجیوں پر حملے نہیں کریں گے، جنہوں نے اب تک اس پر عمل کیا ہے، لیکن صدرٹرمپ وائٹ ہاؤس چھوڑنے سے پہلے دو ہزار فوجی واپس بلا کر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے وعدے کے مطابق فوجیوں کو واپس بُلا لیا ہے۔ جرمنی کے وزیرخارجہ حیکوماس نے جس کی افواج نیٹو فورسز کا حصہ ہیں اور جس کے سینکڑوں فوجی اب بھی افغانستان میں موجود ہیں اس فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح افغانستان میں جاری امن عمل تعطل کا شکار ہو جائے گا اور امن کوششوں کو دھچکا لگے گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں ”اضافی مشکلات“ پیدا نہیں کرنی چاہئیں اور صدر ٹرمپ کا فیصلہ اسی ذیل میں آتا ہے۔

چند روز قبل آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل بابر افتخار نے بتایا تھا کہ بھارت اپنی نگرانی میں داعش کے جنگجوؤں کو افغانستان لا رہا ہے اور ان گروپوں کو متحد کر رہا ہے جو افغان  سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ کابل میں بھارتی سفارت خانہ اور کئی شہروں میں اس کے قونصل خانے دہشت گردی کی ان کارروائیوں کو منظم کرتے ہیں اور دہشت گردوں میں رقوم تقسیم کرتے ہیں۔آج وزیراعظم پاکستان عمران خان اپنے پہلے دورے پر افغانستان پہنچے ہیں،جہاں وہ افغان صدر اشرف غنی اور دوسرے حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ دوسرے موضوعات کے علاوہ دہشت گردی کے لئے افغان سرزمین کا استعمال بھی دونوں رہنماؤں کے ایجنڈے پر ہے تاہم اس موقع پر افغان حکومت نے خاص طور پر اعلان کیا ہے کہ ان کی  سرزمین دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہو رہی۔

عجلت میں امریکی فوج کے انخلا سے ایسی ہی صورتِ حال پیدا ہوتی نظر آتی ہے جیسی سوویت یونین کے افغانستان سے انخلا کے بعد پیدا ہو گئی تھی، اس وقت کی افغان حکومت اس قابل نہیں تھی کہ سوویت فوجوں کے جانے کے بعد مخالف قوتوں کا مقابلہ کر سکے چنانچہ خانہ جنگی اور عدمِ استحکام  کا ایک طویل دور شروع ہو گیا،جس میں وہ سارے گروہ باہم دست و گریباں ہو گئے، جنہوں نے  مل کر سوویت یونین کو افغانستان میں ناکام بنایا تھا، یہ تصادم کسی طرح رکنے میں نہیں آ رہا تھا کہ یکایک طالبان کا ظہور ہوا اور انہوں نے یکے بعد دیگرے افغانستان کے شہروں پر قبضے شروع کر دیئے اور بالآخر پورے افغانستان پر ان کی حکومت قائم ہو گئی۔پاکستان پہلا ملک تھا،جس نے اس حکومت کو تسلیم کیا اس کے بعد سعودی عرب اور یو اے ای نے بھی ایسے ہی فیصلے کئے، تاہم اس کے بعد یہ سلسلہ رُک گیا، طالبان کی حکومت قائم تھی کہ نائن الیون کا واقعہ ہو گیا،جس کے بعد امریکہ نے طالبان سے اُسامہ بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ کیا اور انکار کے بعد افغانستان پر فضائی حملے کر کے طالبان کی حکومت ختم کر دی اس کے بعد سے آج تک اتحادی فوجیں افغانستان میں موجود ہیں۔

ماضی کے تجربات سے یہ بات ثابت ہو چکی کہ افغانستان میں عدم استحکام کا سب سے زیادہ منفی اثر پاکستان پر پڑتا ہے، اِس لئے پاکستان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ افغانستان میں امن قائم رہے اب بھی امن عمل کے لئے پاکستان پوری کوشش کر رہا ہے۔ گذشتہ دِنوں عبداللہ عبداللہ نے پاکستان کا دورہ کیا تھا، تب بھی سب سے زیادہ اہمیت اِس امر کو حاصل رہی کہ افغانستان میں امن کیونکر قائم کیا جائے، اب وزیراعظم عمران خان کے دورہئ افغانستان کا بھی ایک بڑا مقصد یہی ہے۔ امریکہ کے اچانک فیصلے پر جہاں اس کے اتحادی عدم اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں وہاں پاکستان کو بھی بجا طور پر اس بات پر تشویش ہو سکتی ہے کہ افغانستان میں سوویت انخلا کے بعد جیسے حالات پیدا نہ ہو جائیں۔بھارت بھی اپنی سی کوششیں کر رہا ہے کہ افغانستان میں امن قائم نہ ہو اور امریکہ، طالبان معاہدہ منطقی انجام تک نہ پہنچے جو قوتیں اس معاہدے کو ناکام بنانے کے لئے کوشاں ہیں، بھارت ان میں پیش پیش اور اب وہاں داعش کو قدم جمانے میں بھی مدد دے رہا ہے،طالبان اور امریکہ کے معاہدے میں خاص طور پر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ افغانستان میں داعش،القاعدہ یا ایسی ہی کسی دوسری قوت کی حمایت نہیں کی جائے گی، طالبان نے اس وعدے کو نبھایا ہے، تاہم اُن کی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ پہلے جیسے حالات پیدا نہ ہوں۔طالبان نے اگرچہ امریکی انخلا کا خیر مقدم کیا ہے تاہم جن قوتوں کے اس بارے میں تحفظات ہیں اُن پر غور کر لینا چاہئے۔افغانستان کا امن ہر چیز پر مقدم ہونا چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -