کورونا، اور تعلیمی اداروں کی بندش؟

کورونا، اور تعلیمی اداروں کی بندش؟

  

کورونا کے بڑھتے ہوئے متاثرین کی وجہ سے حکومت مختلف حفاظتی اقدامات کرتی چلی جا رہی ہے اور اب تعلیمی اداروں کے حوالے سے بھی متعدد تجاویز زیر غور ہیں، ان پر فیصلہ آئندہ ہفتے ہو گا۔ وفاقی وزارتِ تعلیم کی تجاویز کے مطابق اِس بار بھی تعلیمی ادارے مرحلہ وار پرائمری سے سیکنڈری سکولز تک بند کئے جائیں گے۔ایک تجویز یہ بھی ہے کہ سردیوں کی چھٹیاں بڑھا دی جائیں اور یہ 24 نومبر سے31 دسمبر تک ہوں۔ فاضل چھٹیاں گرمیوں کی دو ماہ والی چھٹیوں میں کمی سے پوری  کر لی جائیں۔یہ فیصلہ چاروں صوبوں کی وزارتِ تعلیم کی مشاورت سے کیا جائے گا۔ نجی تعلیمی اداروں کی فیڈریشن نے مخالفت کر دی اور کہا کہ عمل نہیں کیا جائے گا۔یہ درست ہے کہ گذشتہ برس کورونا وبا کی پہلی لہر نے معاشرتی نظام کو بہت متاثر کیا اور معیشت پر بھی بُرے اثرات مرتب ہوئے،اس کے ساتھ ہی طلباء کا تعلیمی حرج بھی ہوا، اور قریباً ایک سال تک تعلیمی سلسلہ منقطع رہا،اِس دوران آن لائن نظام شروع کیا گیا،لیکن اس سے بھی سب طالب علم مستفید نہ ہو سکے، جب سے تعلیمی ادارے کھولے گئے، تب سے ایس او پیز کے تحت طلباء کی محدود تعداد تعلیمی اداروں میں آتی ہے، اور اس کے لئے ڈبل شفٹ بھی کی گئی۔ تاہم ابتدائی جماعتوں کے بچوں اور بچیوں کا مسئلہ حل نہ ہو سکا اور ان کی بہت کم تعداد سکولوں میں آتی ہے کہ چھوٹے بچوں سے حفاظتی تدابیر پر عمل کرانا مشکل کام ہے۔ اب جو تجاویز مرتب کی گئی ہیں اور جن پر مشاورت ہو گی یہ بھی بچوں کی حفاظت کے لئے ہیں اور ان کی صحت زیادہ مقدم ہے، اس معاملے میں فوری فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے اگر مگر، اور چونکہ چنانچہ میں وقت ضائع نہیں کیا جانا چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -