پل پل جینا اور پل پل مرنا، اب یہی زندگی ہے!

پل پل جینا اور پل پل مرنا، اب یہی زندگی ہے!
پل پل جینا اور پل پل مرنا، اب یہی زندگی ہے!

  

شاعر تو محبوب کا تصور کرکے شاعری کرتے ہیں تو اور بھی بہت کچھ کہہ  جاتے ہیں۔ ہم جیسے لوگ ان کے شعروں سے اپنے مطلب نکالتے رہتے ہیں، اب شاعر نے تو محبوب کے شہر سے گزرنے کی بات کی اور اسی میں کہا ”روز جیتا ہوں، روز مرتا ہوں“ لیکن یہاں کیفیت اس سے بھی کہیں زیادہ دکھ والی ہے، اب اس محترم شاعر کو تو یہ کہنا ہوگا، ”ہر پل جیتا ہوں، ہر پل مرتا ہوں“…… آج صبح ہی صبح بچوں نے کہا کہ پالک پکا لیتے ہیں، ہم نے ہاں کی اور دفتر روانگی سے قبل سبزی لینے چل پڑے۔ بیٹی نے اس دوران یہ بھی کہہ دیا کہ آئل (کھانے والا) بھی ختم ہے ایک پیکٹ (1کلو) لیتے آئیں، جی کہہ کر سبزی فروش کے پاس گئے، پالک اچھی نہیں تھی، سوچا گھیا پکا لیں، نرخ پوچھا تو 120روپے فی کلو تھا، وہاں سے فون کرکے بتایا کہ پالک اچھی نہیں، اگر کہیں تو گھیا لے لوں، جواب ملا، مکس ویجی ٹیبل پکا لیتے ہیں، ہم نے دکاندار سے آدھا کلو گاجر، آدھا کلو گوبھی، آدھ پاؤ مونگرے اور ایک کلو آلو لئے، اس نے 240روپے مانگ لئے۔ جھٹکا لگا تو اس سے نرخ پوچھے، آلو آپ کو نوے روپے اور گوبھی ایک سو چالیس روپے فی کلو کے حساب سے دیئے ہیں، یہ دونوں سبزیاں ہی 160 روپے کی بن گئی ہیں، باقی اشیاء کے 80روپے بنے ہیں،

ابھی اسی پریشانی میں مبتلا تھے کہ پرچون والی دکان پر اور بھی حیرت کا سامان تھا، آئل کا ایک پاؤچ لیا جو ایک کلو ہی کا ہوتا ہے، اور اس کے 290روپے مانگے گئے، ہم پیسے دے کر پریشان حال آئے اور دوسرا سودا اٹھا کر گھر چھوڑا، ہمارا خیال تو یہ تھا کہ معمول کے مطابق سیزن کی سبزیاں بتدریج سستی ہوتی جائیں گی کہ ابتداء تو زیادہ داموں ہی سے ہوتی ہے، تاہم جوں جوں مارکیٹ میں مال آتا رہتا ہے، قیمت کم ہوتی چلی جاتی ہے، لیکن اس بار ایسا بھی نہیں ہو پا رہا، مٹر ساڑھے تین سو روپے فی کلو سے 240روپے پر آ گئے اور مزید نرخ کم ہی نہیں ہو پا رہے، حالانکہ گزشتہ برس انہی دنوں یہ 70سے 80روپے فی کلو بکتے رہے، لیکن اس سال نرخ کم نہیں ہوئے، یہی حال دوسری اشیاء کا ہے، حتیٰ کہ گو بھی دو سو روپے فی کلو بکی جو آج 140روپے فی کلو تھی، حالانکہ اسے موسم کے حوالے سے 70روپے فی کلو بلکہ اس سے بھی کم ہونا چاہیے تھا، لیکن ہماری بدقسمتی کہ ایسا بھی نہیں ہو رہا، حتیٰ کہ آلو، پیاز، ادرک، ٹماٹر بھی پہنچ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں، موجودہ حکومت اشیاء خوردنی کے نرخوں کو کم کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکی بلکہ جوں جوں حکومتی عہدیدارمہنگائی ختم کرنے کی بات کرتے ہیں، توں توں  نرخ بڑھتے چلے جاتے ہیں، ہمارے گُل صاحب نے آج صبح ہی کہا، عمران خان سے اپیل کریں کہ وہ اشیا سستی اور مہنگائی کم کرنے کی بات نہ کیا کریں کہ وہ جوں ہی یہ کہتے ہیں، اشیاء اور بھی مہنگی کر دی جاتی ہیں اور پھر ان کے خالص اور معیاری ہونے کا کوئی اعتبار نہیں۔

ہمیں تو حیرت اس بات پر ہوئی کہ منگل کو ہونے والی معمول کی کابینہ میٹنگ میں وزیراعظم کو گندم، آٹے اور چینی کے بارے میں بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ ملک میں اب گندم اور چینی کی قلت نہیں ہے اور قیمتوں میں اضافہ نہیں ہو گا، اس پر وزیراعظم صاحب نے اطمینان کا اظہار کر دیا، دوسرے معنوں میں اب تک جو کچھ ہو چکا وہ قسمت کا لکھا تھا اور اسے قبول کرکے چینی سو روپے فی کلو اور آٹا 80روپے فی کلو خرید کر کھاتے رہنا چاہیے اور دالوں، گھی، آئل، سبزیوں اور دوسری ضروریات زندگی کی جو قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ ان کو مقدر کا لکھا جان کر قبول کرلینا چاہیے۔ تعجب تو یہ ہے کہ وزیراعظم خود کہتے ہیں کہ ”چینی مافیا“ قیمت بڑھا دیتا ہے، انہوں نے ابھی تک اس امر پر بات نہیں کی کہ چینی کے نرخ اس وقت سے اونچے ہوتے چلے گئے جب سے انہوں نے مافیاز کے خلاف ایکشن لیا،

کمیشن بھی بنا دیا اور ایف آئی اے کو بھی یہ فرض سونپا، نتیجہ یہی کہ چینی کے نرخ 115روپے فی کلو تک جا پہنچے اور آخر کار یہ چینی درآمد کرنا پڑی، جو مہنگی پڑی کہ اسے 84سے 96 روپے فی کلو بیچنے کے لئے کہا گیا، حالانکہ بحران سے قبل اس کے نرخ 52روپے فی کلو تھے، اب تو لوگ مایوس ہو گئے ہیں اور خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں  کہ بات کی تو گلے ہی نہ پڑ جائے، حالانکہ ایک دوست نے کہا چینی بحران نے کئی حضرات کو نئے ارب پتی بنا دیا اور لوگوں نے احتجاج تک نہیں کیا۔ گرانی کا تقاضا تو یہ ہے کہ کم از کم 10لاکھ لوگ سڑکوں پر ہوں، ہمارے دوست کی یہ بات تو ٹھیک ہے کہ دور ایوبی میں چار آنے فی سیر اضافہ ہوا تو مظاہرے شروع ہو گئے تھے، جب 20روپے من آٹا ہوا تو جالب نے کہا تھا، ”20روپے من آٹا …… اس پر بھی ہے سناٹا“……

ہم ان رنجیدہ دوستوں کو کیسے سمجھائیں کہ یہاں سب ایک پیچ پر ہیں، کیا حکومت اور کیا اپوزیشن، کسی کو مہنگائی اور گرانی کی فکر نہیں اور قیمتوں میں اضافے کا نام صرف فیشن کے طور پر لیا جاتا ہے، ورنہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف والوں نے قوم کو اس بُری طرح سے دو حصوں میں تقسیم کر دیا کہ اب ان کو اپنے رہنماؤں کی تکریم کے سوا اور کچھ نہیں سوجھتا، حالانکہ ہر فرد متاثر ہے، لیکن قوم سیاسی طور پر دو حصوں میں منقسم ہے، ہم عوام تو بھینسوں کی لڑائی میں گھاس کی حیثیت رکھتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -