پولیس کو عزت دو (1)

پولیس کو عزت دو (1)
پولیس کو عزت دو (1)

  

اپنے محدود سے حلقہ احباب کے ساتھ ایک کھانے پر اکٹھے ہوئے تو اپوزیشن کی احتجاجی تحریک اور حکومتی رد عمل پر بات شروع ہو گئی۔ ایک دوست نے کہا کہ تحریک کے دیگر مطالبات اور مقاصد تو چھوڑیں، ایک چیز بڑی غور طلب ہے، وہ یہ کہ ”ووٹ کو عزت دو“، ”سیاسی ادارے کو عزت دو“۔ اس نعرے کی شدت کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ چینی، آٹے، دوائیوں اور دیگر اشیائے  ضروریہ کی طرح عزت کا بھی معاشرے میں بحران اور فقدان نظر آتا ہے۔ کچھ لوگ عزت کا مطالبہ کر رہے ہیں،جن کے پاس ہے، وہ اس کے غیر محفوظ ہونے کا واویلا کر رہے ہیں۔ سیاسی ورکر اپنے پارٹی قائدین سے عزت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مذہبی عقیدے اور مسالک سے اختلاف رکھنے والے ایک دوسرے کی بے عزتی کر کے ایک دوسرے سے عزت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔سینیٹ میں ایک معزز سنیٹر ولید اقبال صاحب دونوں ہاتھ کھڑے کر کے بار بار مطالبہ کر رہے تھے کہ ”قائداعظم کو عزت دو“۔سرکاری ملازمین احتجاج کر رہے ہیں کہ ان کی تنخواہیں نہ بڑھا کر ان کو قابل عزت زندگی گزارنے کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔

سرکاری اداروں کے ملازمین سے عوام کو شکوہ ہے کہ کام بے شک نہ کریں، کم سے کم عزت سے تو پیش آئیں۔ والدین اپنی اولاد، استاد اپنے طلباء  سے شکوہ کناں ہیں کہ وہ عزت نہیں کرتے۔لگتا ہے کہ ہمارے ہاں ضروریات زندگی سے زیادہ عزت کمانے اور بچانے کی فکر لا حق ہے۔دوسرے دوست نے کہا کہ بڑی دلچسپ بات ہے کہ کورونا کے باعث لاک ڈاؤن میں جب معمولات زندگی متاثر ہونے لگے، ہر شعبہ زندگی کے لوگ یہ مطالبہ شدت سے پیش کر رہے تھے کہ ان کو کاروبار کچھ پابندیوں کے ساتھ چلانے کی اجازت دی جائے، مگراس صورتِ حال میں ایک طبقہ تھاجس کے مطالبے کی آوازکسی کونے سے بلند نہیں ہوئی تھی اور وہ طبقہ تھا ٹیچر۔ بالکل اسی طرح اب ہر طرف سے عزت کا مطالبہ سامنے آرہا ہے، مگر پولیس کی طرف سے کبھی یہ مطالبہ منظر عام پر نہیں آیا۔

 اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ پولیس کے پاس اتنی زیادہ عزت ہے کہ اسے اس کی کمی کا احساس ہی نہیں ہوایا پھر اس کا خیال ہے کہ معاشرہ تو بے چارہ خود عزت کے حصول اوراسے بچانے میں ہلکان ہے،لہٰذا اس سے عزت کا مطالبہ کرنا کار لا حاصل ہے۔ ہر دور حکومت میں یہ محکمہ مختلف حیلوں بہانوں سے تنقید اور تحقیرکا شکار رہا ہے۔ ایک ریٹائرڈ پولیس افسر سے کسی نے پوچھاکہ ملازمت کا دورانیہ کیسا گزرا تو اس نے بہت خوبصورت بیان دیا کہ ساری نوکری عزت بچانے کے لئے بے عزتی کرواتے کرواتے گزر گئی۔ مزید کہا کہ محبت اور پولیس کی نوکری ایک جیسی ہے۔ بندہ کرتا بھی رہتا ہے اور روتا بھی رہتا ہے۔ پولیس کے جوانوں میں یہ فرضی قصہ ایک عرصے سے مقبول ہے کہ ایک انٹرویو میں ایک امیدوار سے جب پوچھا گیا کہ آپ محکمہ پولیس میں کیوں آنا چاہتے ہیں

تو اس کا جواب بڑا خوبصورت اور مبنی بر حقیقت تھاکہ چونکہ ”مَیں اپنی زندگی کو  مزید انجوائے نہیں کرنا چاہتا۔ چھٹی والے دن مجھے کام کرنا اچھا لگتا ہے۔ مجھے کسی عید، شب برات، شاپنگ یا شادی، غمی پر جانا پسند نہیں۔ میرا کوئی گھر، فیملی، رشتے دار اور دوست نہیں، جنہیں ملنے کو میری بانہیں ترسیں۔ مَیں اپنے سر پر بال نہیں دیکھنا چاہتا۔ مَیں اپنے آپ سے انتقام  لینا چاہتا ہوں۔ مجھے ٹینشن سے عشق ہے۔ مجھے معاشرے سے کسی قسم کی توجہ، ہمدردی اور عزت کی ضرورت نہیں“۔ وہ امیدوار کامیاب قرار پایا کہ اس میں ایک مثالی پولیس افسر کی ساری خصوصیات موجود تھیں۔

اسی طرح ایک فرضی سروے کا ذکر ہوا کہ پانچ سو لڑکیوں سے رائے لی گئی کہ وہ کس شعبے زندگی سے وابستہ لوگوں کو اپنا شریک حیات بنانا پسند کرتی ہیں؟ سب نے اپنی اپنی پسند کے شعبے بتائے، مثلاً بینک افسر، بزنس مین، پائلٹ، آرمی آفیسر، لیکچرر، سیاست دان، CSSافسر،کسی نے پولیس آفیسر کے لئے چوائس نہ دی۔ ایک لڑکی جو مذہبی رجحان کے باعث قناعت پسند اورمقدرپر یقین رکھتی تھی،اس نے کہا کہ دیکھیں جی پسند نا پسند کی بات نہیں ہے۔ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں،زمین پر تو صرفCelebrateہوتے ہیں،لہٰذا میرا لائف پارٹنر کسی بھی شعبے سے وابستہ شخص ہو سکتا ہے، سوائے پولیس آفیسر کے۔ دوسرا دوست جو صاحب مطالعہ، جہاں دیدہ اور بے لاگ رائے رکھنے کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہے، نے کہا کہ سوسائٹی میں پولیس کی کم ہوتی عزت اور وقار کی کئی وجوہات سامنے آئی ہیں، مگر سب سے بڑی وجہ محکمہ پولیس خود ہے۔ محکمہ پولیس کبھی معاشرے میں اپنی آواز،یعنی موقف مناسب وقت پر مناسب لوگوں تک پہنچانے میں سنجیدہ نظر نہیں آیا۔ اس حوالے سے اس کی کوششیں باتوں اور کاغذوں سے عمل تک کا سفر طے نہیں کر سکی ہیں۔

دوسری وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ جس اولاد کی عزت والدین نہ کریں، بڑے بھائی چھوٹوں کی تذلیل کرتے رہیں ان کی گھر سے باہر کبھی عزت ہوتے نہیں دیکھی گئی۔ آئے روز دیکھا گیا ہے کہ ماتحتوں کوپبلک کے سامنے سینئر افسران بے عزت کرتے ہیں۔ ان کی کمیوں کوتاہیوں کو پبلک میں تشہیر کر کے خود اچھا بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ معمولی سی غلطی پر سزا دے کر یا حوالات میں بند کر کے ان کی خبریں اور تصویریں سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پرمشتہر کی جاتی ہیں۔ ماتحتوں کی اس طرح تذلیل سے پولیس ملازمین کی حوصلہ شکنی اور جرائم پیشہ عناصر کا حوصلہ بلند ہوتا ہے۔اس دوست نے مزید کہا کہ اس نے ایک انسپکٹر رینک کے افسر سے پوچھا کہ آپ پبلک کو عزت کیوں نہیں دیتے؟ تو وہ فوراً بولا جو عزت ہمارے پاس تھی۔ ہم نے اس امید پر عوام، سیاسی لوگوں میڈیا اور سینئر افسران کو دے دی کہ وہ عزت ان کی طرف سے ہمیں واپس ملے گی، مگر وہ واپس نہیں ملی،جس کی وجہ سے ہمارے پاس بھی ان کے لئے ذرا کم ہی بچی ہے۔ محکمہ پولیس کی خدمات اور اہمیت کے سب قائل ہیں۔         (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -