اُردو غزل کی ایک پختہ اور ترو تازہ آواز

اُردو غزل کی ایک پختہ اور ترو تازہ آواز
اُردو غزل کی ایک پختہ اور ترو تازہ آواز

  

میرے ایک دوست ڈاکٹر ذوالفقار علی نے لکھا ہے کہ نقاد کی حیثیت اس  پراپرٹی ڈیلر جیسی ہے، جو خود کرائے کے چھوٹے سے مکان میں رہتا ہے، لیکن کروڑوں کی پراپرٹی کی قیمت لگواتا ہے،اس کا سودا کراتا ہے۔ پھر یہ بات بھی مَیں نے سن رکھی ہے کہ بگڑا ہُوا شاعر نقاد بن جاتا ہے۔آج جب مَیں نقادوں کے جتھے پر نظر ڈالتا ہوں تو ڈاکٹر ذوالفقار علی بھی سچے لگتے ہیں اور بگڑے ہوئے شاعر کے نقاد بن جانے والی بات پر بھی ایمان لانے کو جی چاہتا ہے۔البتہ یہ مَیں نہیں جانتا کہ ناروے کے شہر اوسلو میں مقیم غزل اور نظم کے البیلے شاعر اور انمول دوست جمشید مسرور مجھے کیا سمجھتے ہیں؟ کرائے کے مکان میں رہنے والا پراپرٹی ڈیلر یا بگڑا ہُوا شاعر؟ کیونکہ چند روز پہلے انہوں نے لندن میں مقیم ایک نہایت عمدہ شاعرہ سیّدہ کوثر منور کی چند غزلیں مجھے بھیجیں اور حکم دیا کہ ان کے بارے میں اپنی ماہرانہ رائے دوں۔مَیں یہ غزلیں طاقِ نسیاں میں رکھ کر زندگی کے جھمیلوں میں کھو گیا۔تب ایک  دن سیّدہ کوثر منور نے بذاتِ خود مجھ سے لا سلکی رابطہ کیا اور پوچھا کہ مَیں نے ان کی غزلیں پڑھی ہیں یا نہیں؟شاعرہ کی جرأت اور جسارت نے مجھے خاصا حیران کیا۔اتنا اعتماد کسی جینوئن شاعرہ ہی  میں ہو سکتا ہے کہ وہ خود کسی ایسے شاعر کو اپنے بارے میں کچھ لکھنے کو کہے جو بقول شہزاد احمد تکمیلیت پسندی، یعنی (Perfectionism)کا قائل ہے اور ایسا شعر کہنے کی کوشش کرتا ہے،جس کی چاروں چُولیں مضبوط ہوں۔یہ بات شہزاد احمد نے 1994ء میں میری غزلوں کے مجموعے ”منظر بدل گئے“ کے دیباچے میں لکھی تھی۔

مَیں نے جب سیّدہ کوثر منور کی غزلیں پڑھیں تو احساس ہُوا کہ یہ کسی ایسی شاعرہ کا کلام ہے جس نے حُسن و عشق کی وارفتگیاں بھی دیکھی ہیں اور خون پسینے میں لتھڑی ہوئی زندگیاں بھی اپنے آس پاس محسوس کی ہیں۔ان کی غزل میں  نسائیت بھی بھرپور طریقے سے در آئی ہے،لیکن یہ نسائیت مردانہ شاونزم کو توڑتی ہوئی نظر آتی ہے۔ان کے ہاں کہیں بے چارگی دکھائی نہیں دیتی،بلکہ رستے سے رستہ اور بات سے بات نکلتی نظر آتی ہے۔گہرائی اور گیرائی ان کی غزل کا خاضا ہے۔یقین نہیں آتا تو ان کی ایک غزل کے یہ اشعار دیکھ لیجیے:

صبر کا کام نہیں، ضبط کا آزار نہیں 

خواب میں چیختے رہنا کوئی دشوار نہیں 

…………………………

تو یہاں واحد ویکتا ہے محبت کے لئے

یہ مرا دِل ہے کوئی حُسن کا بازار نہیں 

…………………………

ہم نے زنجیر کو سکھلائے بغاوت کے اصول

ہاں مگر ہم میں ابھی جراتِ اظہار نہیں 

…………………………

اس نے دیکھا تو میری آنکھ میں صبحیں پہنچیں 

مَیں کسی شام کی تصنیف کی حق دار نہیں 

…………………………

مَیں نے کوثر کی طرح اپنی حفاظت کی ہے

تم بھی بس میرے محافظ تھے، مدد گار نہیں 

سیّدہ کوثر منور کی شاعری پر مجھے اس لیے بھی ایمان لانا پڑا کہ جہاں وہ فکری سطح پر اونچے سنگھاسن پر براجمان دکھائی دیتی ہیں وہاں وہ فنی لحاظ سے بھی اپنا ایک الگ مقام رکھتی ہیں۔ وہ لفظوں کے چناؤ کو خیال کے دھارے کے ساتھ جوڑ دیتی ہیں۔ان کا خیال، اپنے لفظوں کا آپ چناؤ کرتا ہے۔شاید اسی چیز نے ان کے فکر اور اسلوب کو ہم آہنگ کر دیا ہے۔ردیف قافیے کی پابندی، ان کے لئے ہر گز پابندی نہیں،بلکہ وہ اسی پابندی کو اپنے لیے آزادی بنا لیتی ہیں۔ گویا بند دروازے کی ننھی سی درز سے روشنی کی ایک لمبی لکیر کو اپنی طرف کھینچ کر لانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں، جس سے ان کا اپنا من اور تن تو منور ہوتا ہی ہے،ان کی غزل پڑھنے والا قاری بھی فیض یاب ہوتا ہے۔ان کی ایک غزل کی ردیف اور قافیے پر غور کیجئے اور ان مفاہیم کو دیکھئے جو انہوں نے تخلیقی سطح پر ہمارے سامنے رکھے ہیں:

اب سمجھی ہوں، اس عشق کی زنجیر کا مطلب

کمرے میں لگی آپ کی تصویر کا مطلب

…………………………

قدموں سے لپٹتے ہوئے بیٹی نے بتایا

قرآن میں لکھا ہے یہ توقیر کا مطلب

…………………………

ہاتھوں کو جھٹکنے سے مجھے علم ہُوا ہے

گردن پہ چلی زہر کی شمشیر کا مطلب

…………………………

تو پھر بھی لغت لائی ہے بازار سے کوثر

جنت ہے، بتایا تو تھا کشمیر کا مطلب

سیّدہ کوثر منور کے فنی اعتماد کا اندازہ آپ اِس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ انہوں نے مجھے بھیجی  گئی ہر غزل کے ساتھ اس کی بحر کے ارکان بھی درج کر دیئے ہیں۔عام طور پر شاعرات اس طرح کے تکلف سے عاری ہوتی ہیں یا یوں کہیے کہ بحروں کے علم سے وہ قطعاً بے بہرہ ہوتی ہیں۔سیدہ کوثر منور نے شاعری کے میدان میں قدم رکھا ہے تو بہت سوچ سمجھ کر رکھا ہے۔ان کی شاعری سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ شاعری بہت دیر سے کر رہی ہیں اور آئندہ بھی کرتی رہیں گی۔ان کا ذوقِ سخن، شہرت اور نام وری کی مقناطیست کے پیچھے نہیں دوڑتا۔ شاعری ان کی ضرورت ہے۔ بقول غلام محمد قاصر:

مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

مجھے امید ہے کہ سیدہ کوثر منور کی شکل میں اُردو غزل کی ایک بہت عمدہ، پختہ اور ترو تازہ آواز ابھرنے والی ہے۔مَیں نے یہ آواز سن لی ہے۔جلد ہی آپ بھی سنیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -