بھارت سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کا اہل نہیں 

بھارت سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کا اہل نہیں 
بھارت سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کا اہل نہیں 

  

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان میں اضافہ کے لئے نئے مستقل اراکین میں بھارت کو شامل کرنے کی بھرپور مخالفت کی جائے گی،کیونکہ بھارت سلامتی کونسل کا رکن بننے کی اہلیت نہیں رکھتا، جس کی بنیادی وجہ مقبوضہ کشمیر پر سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے، جبکہ برازیل، جرمنی اور جاپان (جی فور) ممالک سلامتی کونسل کے مستقل رکن کے لئے مہم چلا رہے ہیں۔

 بھارت جنوبی ایشیائی ممالک میں 20 سے زیادہ جنگوں میں ملوث رہا ہے اور خطے بھر اور بالخصوص پاکستان میں دہشت گردی اور عدم استحکام کی معاونت کررہا ہے،جس کے ثبوت چند روز قبل وزیر خارجہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے دنیا کے سامنے پیش کیے۔ سلامتی کونسل کو زیادہ جمہوری ذمہ دار اور شفاف بنانے کی ضرورت ہے تاہم اس پر عمل درآمد میں تاخیر ہو رہی ہے۔ بھارت جیسے فاشٹ ملک کو مستقل رکن بنا کر ہم دنیا کو تباہی کے دہانے پر لے جائیں گے۔ بھارت تو خود مقبوضہ جموں و کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، جس سے کشمیری عوام کو حق خود ارادیت سے روک کر عالمی ادارے کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں عوام کی جائز جدوجہد آزادی کو کچلنے کے لئے 9 لاکھ سے زیادہ فوجی تعینات کر رکھے ہیں،جو وہاں پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہیں۔ وادی میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے اور ریاست کو ہندو اکثریتی ریاست بنانے کے لئے مقبوضہ جموں و کشمیر کے باہر سے لوگوں کو لا کر وہاں بسایا جا رہا ہے۔

بھارت کے اپنے اندرونی حالات یہ ہیں کہ ایک طرف تو بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں اپنا حامی دہشت گرد گروپ لانچ کر رکھا ہے تو دوسری طرف بھارت داخلی لحاظ سے کئی طرح کی توڑ پھوڑ سے گزر رہا ہے۔ کوئی غیر ہندو آبادی انتہا پسندوں کے حملوں سے محفوظ نہیں۔ بھارت کو مودی حکومت اس مقام پر لے گئی ہے،جہاں داخلی مزاحمت اور عالمی خدشات میں اضافہ ہونے لگا ہے۔حالیہ برس جولائی میں پاکستان نے دہشت گردی کے بھارتی الزامات کے جواب میں اقوام متحدہ کو بتایا تھاکہ جنوبی ایشیا کے خطے میں بھارت وہ ملک ہے،جہاں پرہندو قوم پرست حکمران بڑے پیمانے پر دہشت گردی کا ارتکاب اور اس کی بھرپور سرپرستی کرتے ہیں۔بھارت نے دہشت گردی کو اپنے ہر ہمسایہ ملک اورخود اس کی اپنی مسلم آبادی کے خلاف جبری پالیسیوں کے آلٰہ کار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ہندوتوا کی سوچ دہلی اور گجرات فسادات میں بے نقاب ہو گئی۔ گجرات فسادات کا ذمہ دار نریندر مودی دہلی میں فسادات کا ماسٹر مائنڈ ہے۔دہلی کے فسادات میں مسلمانوں کا قتل ِ عام کیا گیا۔ اُن کی املاک اور مساجد کو جلایا گیا۔دہلی فسادات کے ذمے دار کھلے پھر رہے ہیں۔ سزا کی بجائے انہیں مسلمانوں کا مزید خون بہانے پر اکسایا جا رہا ہے۔ بابری مسجد کی شہادت مسلمانوں کی تاریخ ختم کرنے کی سازش ہے۔

 اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے تشدد، عدالتی پھانسی اور دہشت گردی بار ے ماہرین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت کے انسداد دہشت گردی کے قانون انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کے مطابق نہیں ہیں۔ متعدد عدالتی ہلاکتوں، اغوا اور قانونی کارروائیوں کے بارے میں بار بار بھارت سے جوابات طلب کیے گئے ہیں لیکن وہ کوئی جواب دینے میں ناکام رہا۔ عالمی برادری مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہندو بھارتی سول اور فوجی اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی میں تامل کا شکار دکھائی دیتی ہے۔

بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے کہا تھا کہ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے کسی اور سے زیادہ کرائے کے دہشت گردوں کو ادائیگی کرے گا۔ گرفتار بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیونے اس طرح کی دہشت گردی کو منظم کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ ہندو انتہا پسند جماعتیں آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) اور بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی) نے بھارت کے180ملین مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی اور ظلم و ستم کی ایک منظم مہم چلا رکھی ہے۔نریندر مودی، آر ایس ایس کے تاحیات ممبر ہیں، جو کہ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے، 2002ء میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت کے ایک واقعہ کے ذمہ دار ہیں، جس میں 2000ء کے قریب بے گناہ مسلمان بچے، خواتین اور مرد ہلاک ہوگئے تھے گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں پاکستانی جاں بحق یا زخمی ہوئے۔

مزید :

رائے -کالم -