جادوئی حکومت

جادوئی حکومت
جادوئی حکومت

  

گلگت بلتستان کی23 نشستوں کے انتخابات پر 21کروڑ پاکستانیوں کی نظر تھی، پورے پاکستان نے اس میچ کو ایک ایک بال کی کمنٹری کے ساتھ دیکھا۔ ویسے تو پیپلز پارٹی نے صبح سے ہی انتخابی عمل کو سست کرنے کا الزام لگادیا تھا، البتہ مسلم لیگ(ن) خاموش خاموش سی رہی اور پی ٹی آئی بھی کچھ زیادہ سرگرم نہیں تھی، ایسا لگ رہا تھا کہ پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان کے انتخابات کو زندگی اور موت کا معاملہ بنایا ہوا ہے اور سمجھے ہوئے ہے کہ جی بی کی فتح اس کا مقدر ہے اور مخالفین کی کوئی بھی تدبیر تقدیر کے اس لکھے کو مٹا نہیں سکتی، لیکن پھر وہی ہوا،جس کے بعد پیپلز پارٹی کا دھرنا ہی بنتا تھا۔ 

گلگت بلتستان میں ووٹنگ کے عمل کی سست رفتاری سے ہمیں حلقہ 120 میں کلثوم نواز کے انتخابات کی یاد آ گئی، تب بھی مسلم لیگ(ن) کے ووٹروں، سپورٹروں کو تیزی سے ووٹ ڈالنے سے روکا جا رہا تھا، پولنگ اسٹیشن دور دور بنائے گئے تھے، لمبی لمبی لائنیں لگوائی گئی تھیں، اوپر سے جون جولائی کی دوپہریں تھیں۔ اس سارے عمل سے یہ تو نہیں ہوا کہ مسلم لیگ (ن) وہاں ہار گئی، لیکن سست روی کا کھیل رچانے والے اس حد تک کامیاب ضرور رہے کہ مسلم لیگ(ن) جس بڑے مارجن سے جیت سکتی تھی،نہ جیت سکی۔تاہم گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کی واجبی سی فتح نے ثابت کردیاہے کہ اس کو بنانے والے اب اس کو مٹانے کے درپے ہیں اور آہستہ آہستہ ایسا ماحول بناتے جا رہے ہیں کہ اسے دوبارہ سے 32 نشستوں والی جماعت میں تبدیل کردیا جائے اور پیپلز پارٹی کو دوبارہ سے پنجاب میں کھل کر کھیلنے کا موقع دیا جائے، لیکن اس مرحلے سے پہلے پاکستان ڈیمو کریٹک فرنٹ کے جلسوں کی راہ میں کورونا کا روڑہ اٹکایا جا رہا ہے۔

حکومت جس ڈھٹائی کے ساتھ خود جلسے کرتے ہوئے اپنے حامی میڈیا کے ذریعے پی ڈی ایم کے جلسوں کے خلاف پراپیگنڈے میں مصروف ہے، اس سے لگتا ہے کہ عوام کو کورونا نہیں،بلکہ کورونا کے پھیلاؤ کا خوف ماردے گا، کیونکہ بجائے اس کے کہ حکومت کورونا کا شکار ہونے والوں کے علاج معالجے کا سامان بہم پہنچائے،وہ اپوزیشن کے جلسوں کی منسوخی کے پیچھے پڑی ہوئی ہے،الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ایک ایسی فضا بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، جس میں عوام میں یہ تاثر گہرا ہو جائے کہ کسی بھی ایسی جگہ پر نہیں جانا جہاں پر اجتماع کا احتمال ہو،خاص طور پر ایسی جگہ پر تو بالکل نہیں جانا جہاں پر پی ڈی ایم کا جلسہ ہو۔

دوسری جانب خود وزیراعظم عمران خان نے عین اسی روز فیصل آباد کے ایک بند ہال میں صنعت کاروں کے ایک جلسے سے خطاب کیا، جب مریم نواز مانسہرہ کی کھلی فضاؤں میں نواز شریف کے سپورٹروں کا جلسہ کر رہی تھیں۔ یہی نہیں،بلکہ وزیراعظم ایک جانب تو جلسے جلوس کرتے جا رہے ہیں اور دوسری جانب اس بات پربھی بضد ہیں کہ وہ نہ تو انڈسٹری بند ہونے دیں گے،نہ ہی شادی ہال بند کریں گے اور نہ ہی مارکیٹوں کو بند کریں گے،جبکہ وہ بھول رہے ہیں کہ کسی بھی چلتی ہوئی فیکٹری میں بھی ایک جلسے کی سی ہی صورتِ حال ہوتی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت کورونا پر اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر فیصلے کرنے کی بجائے یک طرفہ ٹریفک چلارہی ہے جس کا اثریہ ہورہا ہے کہ نہ تو اپوزیشن کے حلقوں میں اور نہ ہی حکومتی حلقوں میں کوئی بھی کورونا کو سیریس لے رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو یاد رکھنا چاہئے کہ خدانخواستہ اگر کورونا وائرس کی وبا پاکستان بھر میں شدت سے پھیلی تو بھلے جلسے مریم نواز اور بلاول بھٹو کر رہے ہوں گے، لیکن عوام اس وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار عمران خان کو ٹھہرائیں گے اور اگر آج ان کے حامی الیکٹرانک میڈیا نے ایسا نہ ہونے دیا تو کل کا مورخ ضرور انہیں سزاوار ٹھہرائے گا۔ اطلاعات یہ ہیں کہ حکومت پنجاب اور حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے وزیراعظم کو مشورہ دیا گیا تھا کہ کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کے حوالے سے اپوزیشن کو بھی اعتماد میں  لیا جائے، لیکن وزیراعظم نے بذات خود اس رائے کو ویٹو کردیا اور اپوزیشن سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

ویسے کورونا وائرس کے شدید حملے کے باوجود اگر امریکہ میں عام انتخابات منعقد ہو سکتے ہیں اور انتخابات کے بعد جو بائیڈن اور ٹرمپ کے حامی اپنے اپنے انداز میں اپنے جذبات کا اظہار سڑکوں پر کرسکتے ہیں تو پاکستان میں پی ڈی ایم جلسے جلوس کیوں نہیں کر سکتی؟ خاص طور پر جب حکومت اپنے انتخابی وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے اور مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کی ناک میں دم کیا ہوا ہے، لیکن کیا کریں کہ اب تو اکثر ٹی وی چینل پی ٹی وی کے فرنچائز بنے نظر آتے ہیں، ایک وقت تھا کہ حکومت وقت کی جتنی مخالفت کی جاتی تھی،اتنے زیادہ اشتہار ملا کرتے تھے، اب سب کچھ اُلٹ ہو گیا۔ اب تو حکومت کی جنتی زیادہ حمایت کی جاتی ہے،ا تنے ہی وارے نیارے ہو جاتے ہیں۔ اس کا نقصان یہ ہورہاہے کہ پی ڈی ایم اپنے جلسوں میں جن مسائل کو زیر بحث لا رہی ہے، ہمارے ٹی وی چینل ان کو چھوئے بغیر اپنا کام چلائے جا رہے ہیں۔ وہ اپنی تنقید وزیراعظم سے شروع کرنے کی بجائے اپوزیشن کی قیادت سے کرتے ہیں، حالانکہ اگر میڈیا آج سے یہ پالیسی اختیار کرلے کہ وہ نہ تو حکومت اور نہ ہی اپوزیشن کے جلسے جلوس دکھائے گا تو خودبخود کورونا کے پھیلاؤ کے ایس او پیزپر عمل ہونا شروع ہو جائے گا۔ 

حکومت پی ڈی ایم کے جلسوں کو کورونا کی آڑ میں آڑے ہاتھوں کچھ یوں لے رہی ہے، جیسے خدانخواستہ مریم نواز کو کورونا ہو ہی نہیں سکتا، جیسے کیپٹن صفدر کی طرح کوئی اور اپوزیشن لیڈر اس کا شکار ہو ہی نہیں سکتا۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو مسئلہ اپوزیشن لیڈروں سے ہے،ان کے جلسوں میں اکٹھے ہونے والے عوام سے نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پی ڈی ایم کی قیادت کا مائیک بند ہونا چاہئے۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے تو وہ جائیں بھاڑ میں، لیکن فیکٹریاں ضرور چلنی چاہئیں اور کاروبار زندگی بند نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ حکومت عوام کو گھروں میں بٹھا کر نہیں کھلا سکتی۔

مزید :

رائے -کالم -