کانسٹیبل ادریس اور دنیا کا توازن

کانسٹیبل ادریس اور دنیا کا توازن
کانسٹیبل ادریس اور دنیا کا توازن

  

ادریس کافی دن نظر نہ آیا۔ ایک دن میں راستہ بدل کرباہر نکلا تو دیکھا سیڑھیوں کے نیچے سالخوردہ الماریوں میں وہ ”دکان“ سجائے کھڑا تھا۔ معلوم ہوا پولیس اکیڈمی مارکیٹ سے کوسوں دور ہے، روزمرہ ضرورت کی اشیاء  کے حصول میں ملازمین کو دشواریاں ہیں، لہٰذا کمانڈنٹ نے دس ہزار عنایت کر کے فرمان جاری کیا کہ کانسٹیبل ادریس دکان چلائے گا۔ دکان کیا تھی, غالب کی چند تصویر بتاں اور چند حسینوں کے خطوط کے مصداق ٹشو پیپر کے چھ ڈبے، تین درجن بال پوائنٹ، ٹافیوں کے تین جار، سب سے اہم ”سرمایہ کاری“ فون کارڈ پر تھی جس کے لئے  افسران نے چندہ کرکے تمام کارڈ رکھوا دیئے، تاکہ ان کی اپنی ضروریات پوری ہوتی رہیں۔ پندرہ ہزار  سے اکیڈمی کے ملازمین کی چند ضروریات پوری ہونے لگیں۔ پندرہ سال پرانی بات ہے، پھر بھی رقم اتنی نہیں تھی کہ چھ الماریوں میں سے ایک الماری کا پیٹ بھر سکے۔ صاحب کا فرمان تھا کہ نقصان ادریس کے ذمہ ہو گا۔رہا نفع (if any) تو ادریس اس کا ”مالک“ہو گا۔ اتنی بھاری ”سرمایہ کاری“ سے وردی میں ملبوس کھڑا وہ دکان کیا کرتا، ہر آئے گئے کو سیلیوٹ کرنا اس پر لازم تھا۔

میں نے کھڑے کھڑے فون پر اکاؤنٹنٹ لال خان سے پوچھا کہ اکیڈمی کے ذمے  میری کتنی رقم  ہے۔ بولا: دس ہزار سے کچھ  زیادہ. عرض کیا، یہ رقم فوراً ادریس کو دی جائے۔ ہفتے بعد ادھر سے گزرا تو دیکھا کہ دو کی بجائے پانچ الماریاں سامان سے بھر چکی ہیں۔ سرکاری اداروں میں پڑھانے پر ”بالائی آمدنی“کبھی میری بچت کا حصہ نہ بن سکی۔ متعلقہ ادارے کے ڈرائیور، اردلی، چوکیدار اور ویٹر وغیرہ کو اگر ہزار ہزار روپے دیے جائیں تو ان کی دعائیں ڈھال بن کر محافظت کرتی رہتی ہیں۔ محرم راز خالق کائنات کی ایک حدیث کا یہی مفہوم ہے۔ اب میں نے یہ کیا کہ ان لوگوں کو نقدی کی بجائے پانچ پانچ سو کے ’کوپن‘ جاری کردیئے کہ اس پرچی کے عوض ادریس سے خریداری کرو۔دو سال میں دکان کی تمام الماریاں بھر گئیں، لوگوں کو بیشتر چیزیں ملنا شروع ہو گئیں۔

 قارئین کو قدرت اللہ شہاب کا وہ نادار اسکول ماسٹر تو یاد ہوگا جسے انھوں نے بحیثیت ڈپٹی کمشنر دو مربعہ زمین دی تھی۔ کثیر العیال ہونے کے سبب اس کا گزارا نہیں ہوتا تھا۔ مدتوں بعد کہ جب وہ صدر ایوب کے معاون تھے، انہیں اسی دو مربعہ زمین کی وہی رجسٹری  واپس خط کے ساتھ ملی: "زمین پر کاشت کاری کرکے میں نے اپنی بہنوں، بیٹیوں کی شادیاں کردی ہیں۔خود ریٹائر ہوں۔ اتنی پنشن ہے کہ گزر اوقات بخوبی ہو رہی ہے۔  رجسٹری واپس کر رہا ہوں، تاکہ یہ زمین کسی اور مستحق کے کام آئے“۔ناقابل یقین خط پڑھ کر شہاب صاحب گم سم ہو کر رہ گئے کہ صدر ایوب کمرے میں آ گئے اور ماجرہ سن کر خاموش ہو گئے۔

چچا صدیق، کہ قرآن اور کائنات کا مطالعہ ان جتنا کسی اور کا کیا ہوگا، ٹھیک ہی فرمایا کرتے ہیں کہ خالق کائنات نے ہردور  میں، ہر جگہ، ہر خطے میں ریاضی اور جیومیٹری کے ناقابل فہم، پیچیدہ اور اقلیدسی نظام کے مطابق زندگی تخلیق کر رکھی ہے۔ "دیکھو!  انسان اگر کبھی کوئی ایسا کمپیوٹر بنانے میں کامیاب ہو گیا جو انسانوں کا اندر نکال کر باہر عیاں کر دے تو تم دیکھو گے کہ دنیا میں جتنے چور اچکے ہیں، اتنے ہی مصلحین اور نیکوکار، قطع نظر اپنے مذہب کے،موجود ہیں۔ خالق کائنات ہر دور، ہر عہد، اور ہر خطے میں یکساں تناسب سے ریاضی دان، موسیقار، کیمیادان، شاعر، مفسرین اور دست شناس گن کر پیدا کرتا ہے۔اس کا بڑا ثبوت دنیا بھر میں عورت  اور مرد کی برابر تعداد ہے۔جہاں کہیں تمہیں اس تناسب میں بگاڑ نظر آئے تو سمجھ لو کہ اس کے پیچھے انسان کی اپنی کوئی کارستانی ہے۔ ہندوستان یا چین میں مرد عورتوں سے زیادہ ہیں تو اس کی ذمہ دار وہاں کی معاشرتی اور سرکاری سوچ ہے، قانون قدرت نہیں ہے۔"

ایک دن دیکھا دکان بند کہ ادریس اپنے گاؤں بیٹی کی شادی کرنے گیا ہے. شادی ہوگئی, پھر ایک دن میں گاڑی موڑ رہا تھا کہ وہ اچانک کہیں سے نکل کر گاڑی کے آگے کھڑا ہوگیا۔ مدت بعد ملاقات ہو رہی تھی، لہذا میں گاڑی سے نیچے اتر آیا۔تپاک سے ملا۔ پڑھا لکھا تو تھا نہیں کہ الفاظ سے کھیلنا شروع کر دیتا۔ نم آنکھوں سے تھوڑی دیر مجھے دیکھتا رہا۔ اظہار تشکر کے کچھ اتنے پیرائے ہیں کہ ہر لحظہ رنگ بدلتی انسانی زندگی موقع کی مناسبت سے ایک نیا اور انوکھا اسلوب تراش کر ہمارے قدموں میں ڈال دیتی ہے۔ اپنے اجلے کردار کی طرح سفید لفافہ اس نے قمیض کی جیب سے نکال کر پہلے میرے گھٹنوں سے مس کرنے کی کوشش کی، ناکامی پر اسے دونوں ہاتھوں پر رکھ کر میرے سامنے لجاجت کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔

"دیکھو ادریس! سنو,  یہ رقم میں نے تمہیں واپسی کے لئے  نہیں دی تھی۔ بچی کی سلامی سمجھ کر رکھ لو۔" اس کے چہرے پر الجھن پیدا ہوگئی, بولا: "صاحب! ساری ذمہ داریاں پوری ہو گئی ہیں، بچی اب میری نہیں، شوہر کی ذمہ داری ہے۔دنیا مستحقین سے بھری پڑی ہے۔ آپ کھلی آنکھوں والے ہیں۔ میرے جیسا کوئی اور مستحق ملے تو اسے یہ لفافہ میری طرف سے پیش کردیجئے۔" کمزور اور منحنی ہاتھوں والے ادریس نے مجھے اس بری طرح دبوچ کر آناً فاناً لفافہ میری جیب میں ٹھونسا کہ میں ہل بھی نہ سکا۔ شہاب صاحب کو سناٹے سے نکالنے اور ان کی دل جوئی کے لئے  صدر ایوب کہیں سے نکل آئے تھے، پر میں کھلے آسمان تلے یکا و تنہا کھڑا چچا صدیق کے ملفوظات دہرا رہا تھا۔ ایک جملے کے چند الفاظ البتہ مجھے بدلنا پڑے: "خالق کائنات ہر دور، ہر عہد اور ہر خطے میں یکساں تناسب سے اسکول ماسٹر اور کانسٹیبل ادریس پیدا کرتا رہتا ہے جو دنیا کا توازن برقرار رکھے ہوئے ہیں۔"

مزید :

رائے -کالم -