ورلڈ اکنامک فورم اور پی ایس ڈی ایف کا اشتراک

ورلڈ اکنامک فورم اور پی ایس ڈی ایف کا اشتراک

  

کراچی(پ ر)سرکاری اور نجی شعبے سے وابستہ اعلی رہنما  ایک پریس کانفرنس میں ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کی روشنی میں پاکستان میں ملازمتوں کے مستقبل پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے جمع ہوئے۔اس پروگرام میں  Parwaaz co-chairs، سید ذوالفقار عباس بخاری (SAPM  اوورسیز پاکستانیز اینڈ ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ)، محمد اورنگزیب، صدر اور سی ای اوHBL، غیاث خان، صدر اور سی ای او اینگرو کارپوریشن، عرفان وہاب خان، سی ای او ٹیلی نار پاکستان اور چیئرمین ٹیلی نار مائکرو فنانس بینک کے علاوہ اعلی کاروباری رہنماجن میں مونس رحمان، سی ای او اور بانی نصیب نیٹ ورکس، آصف پیر، سی ای او سسٹمز لمیٹڈ، احسان سایا، منیجنگ ڈائریکٹر دDaraz.pk  اور جواد خان،  سی ای اوPSDF    شامل تھے۔اس یادگار قدم میں پاکستان کو پہلی بار ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کی ”Future of Jobs“  رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ پاکستان Chapterمیں ملازمتوں اور مستقبل میں سکلز سے متعلق رونمائی کی گئی ہے، جس میں پاکستان کے employers'کے نئے ملازمت کے کردار اور سکلز کے تناظر کو اجاگر کیا گیا ہے اس ٹیکنالوجی اور آٹومیشن کے زمانے میں پاکستان میں توجہ اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ 

 اس رپورٹ کے  2020 ایڈیشن میں 15 عالمی صنعتوں اور 26 جدید اور ابھرتے ہوئے ممالک کے بارے میں گہری آگاہی دی گئی ہے۔پنجاب سکلز ڈویلپمنٹ فنڈ (PSDF) اس وقت  (WEF)  ((National Accelerator on Closing the Skills Gap in Pakistan - 'Parwaaz') کے سیکرٹریٹ کے طور پر کام کر رہاہے۔ Parwaaz نے 6 ترجیحی شعبوں میں 50 سے زائد پاکستانی کمپنیوں اور کاروباری رہنماؤں کے ساتھ وسیع پیمانے پرemployers' پر مبنی سروے میں سہولیات فراہم کرکے پاکستان کوسکلز اور کام کے مستقبل کے بارے میں عالمی سطح پر گفتگو کی ہے۔ پاکستان سے متعلق پروفائل میں ملک میں افرادی قوت کی مستقبل کی تیاریوں کا ایک سنیپ شاٹ فراہم کیا گیا ہے۔اس رپورٹ میں جواد خان،  سی ای اوPSDF کو ورلڈ اکنامک فورم  (WEF) کی عالمی مستقبل کی کونسل برائے تعلیم اور کام کے بارے میں نئے ایجنڈے کے عالمی ماہر کی حیثیت سے بھی شامل کیا گیا ہے۔رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں، 82 ملین سے زیادہ کام کرنے والی عمر کی آبادی میں سے، اوسطا 50 فیصد کے  قریب مطلوبہ ڈیجیٹل سکلز ہیں، 51فیصد کاروبار سے وابستہ سکلز رکھتے ہیں، اور تقریبا 55  فیصد نے کاروبار سے وابستگی کے ساتھ تعلیم حاصل کی ہے۔ اگرچہ یہ ابھرتے ہوئے ملک کے لئے امید افزا لگتا ہے، 31 فیصد نوجوانوں کے پاس بڑے چیلنج باقی ہیں جو ملازمت، تعلیم و تربیت میں شامل نہیں ہیں، اور 55 فیصد کام کرنے والے عمر میں غیر محفوظ ملازمت کر رہے  ہیں۔تاہم پاکستان سروے کے نتائج میں 'measured optimism'کی گنجائش موجود ہے۔ خاص طور پرE-commerce, Big Data Analytics and Cloud Computing کے شعبوں میں ٹیکنالوجی کو اپنائیت زیادہ ہے  (91 فیصدسروے شدہ کمپنیوں میں سے)۔پاکستانی کمپنیاں عالمی مارکیٹ میں ابھرتی ہوئی سکلز کے ساتھ مل کر مسئلہ حل کرنے، تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیتوں اور قائدانہ شعبے میں ملازمت کی صلاحیتوں کو فروغ دینے پر توجہ دے رہی ہیں۔Future of Jobs‘ رپورٹ Covid-19   کے ذریعے لائے گئے معاشی چیلنجوں پر روشنی ڈالتی ہے، جب کہ ٹیکنالوجی سے چلنے والی ملازمت کی تخلیق اگلے پانچ سالوں میں ملازمت کی فراوانی کو پیچھے چھوڑ رہی ہے، ماضی کی ملازمتوں میں اضافے کی شرح کم ہو رہی ہے۔اس کے نتیجے میں نوجوانوں کی افرادی قوت کو دوبارہ سے جوڑنے اور ترقی دینے کے سلسلے میں فعال فیصلے کرنے کی ایک  ’renewed urgency‘کا نتیجہ ہے۔ فعال کوششوں کی عدم موجودگی میں، ٹیکنالوجی کے مشترکہ اثر اور وبائی کساد بازاری کی وجہ سے ملازمت کی منڈی میں عدم مساوات خراب ہونے کا امکان ہے۔وقت کی ضرورت اس وقت عالمی اور قومی سطح پر عوامی اور نجی تعاون سے معاشرتی و معاشی نظام کو تشکیل دینے کے لئے ایک  منصفانہ، مساوات اور پائیدار مثال قائم کرنا ہے۔

مزید :

کامرس -