اسلام آباد کے نئے گیٹ وے پر کمرشل پلاٹس کا نیلام عام

 اسلام آباد کے نئے گیٹ وے پر کمرشل پلاٹس کا نیلام عام

  

 اسلام آباد(پ ر)ایف جی ای ایچ اے کی جانب سے اسلام آباد کے نئے گیٹ وے پر کمرشل پلاٹس کا نیلام عام: نئے اسلام آباد کی تعمیر میں سرمایہ کاری کا نادر موقعایف جی ای ایچ اے سرکاری ملازمین کو ریٹائرمنٹ سے پہلے اپنے گھر کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے ہر لمحہ کوشاں ہے۔اس ضمن میں ایف جی ای ایچ اے نے ملک کے تمام بڑے شہروں میں شاندار ہاسنگ پراجیکٹس شروع کر رکھے ہیں۔ جن میں وزیراعظم پاکستان کے وژن کے تحت بلند بالا عمارتوں کی تعمیر بھی شامل ہے تاکہ شہروں کی عمودی ترقی کی پالیسی پر عمل درآمد یقینی بنا کر ہاسنگ کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔وزیراعظم پاکستان کے شہروں کو عمودی ترقی دینے کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ایف جی ای ایچ اے کی جانب سے اسلام آباد کے ڈویلپڈ سیکٹرز G-13اورG-14کے ماو ایریا کے کمرشل پلاٹس کا نیلام عام  25نومبر 2020کو کیا جا رہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ انہی سیکٹرز کے کلاس تھری شاپنگ سنٹرز کے کمرشل پلاٹس بھی نیلام عام کے ذریعے فروخت کئے جارہے ہیں جن کی نیلامی کا انعقاد 26نومبر کوہوگا۔

G-13اورG-14ماو ایریا کی لوکیشن راولپنڈی رنگ روڈ کی تعمیر کے باعث نہایت اہمیت اختیار کر چکی ہے کیونکہ یہ رنگ روڈ کی تعمیر کے بعد اسلام آباد کا نیا گیٹ وے بن جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس لوکیشن کی اہمیت اس لحاظ سے اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ ماو ایریا میں مستقبل میں کثیر المنزلہ آئیکونک عمارتیں بھی بنیں گی جن میں سی پیک ٹاور، انٹرنیشنل ہاسپٹل اور فائیو سٹار ہوٹل شامل ہیں۔ اسی جگہ ایف جی ای ایچ نے اپنے عظیم الشان منصوبے '' کشمیر ایونیواپارٹمنٹس '' کی تعمیر کا آغاز کر دیا ہے۔ انشائاللہ یہ علاقہ نہ صرف اسلام آباد کی نئی پہچان بلکہ نیا زیروپوائنٹ بھی بنے گا۔کاروبار کی آسانیوں کو فروغ دینے کے حکومتی عزم کی روشنی میں ایف جی ای ایچ اے نے سرمایہ کاروں کی سہولت اور آسانی کیلئے بھی قدامات اٹھائے ہیں جن میں لے آٹ پلان اور انجینئرنگ ڈیزائن کی منظوری، ماہانہ اقساط میں ادائیگی اور یکشمت ادائیگی پر دس فیصد ڈسکانٹ جیسی آفرز شامل ہیں۔ایف جی ای ایچ اے کی جانب سے اس نئے بزنس حب کی ڈیزائننگ میں نئے بلڈنگ بائی لاز کو مدنظر رکھا گیا ہے تاکہ مستقبل کے تمام تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔ یہ شاندار نیلام عام جہاں سرمایہ کاروں کیلئے محفوظ سرمایہ کاری کا سنہری موقع ہے  وہیں  اس سے تعمیراتی شعبہ اور اس سے منسلک چالیس سے زائد صنعتوں کو بھی فروغ حاصل ہو گا اور ہنر مند نوجوانوں کو بلواسطہ اور بلا واسطہ روزگار کے ہزاروں، لاکھوں مواقع بھی میسر ہونگے جس سے قومی معیشت کی ترقی اور غربت کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔

مزید :

کامرس -