طالبات کو مبینہ طور پر  ہراساں کرنے کیخلاف  دائر درخواست،نوٹسز جاری

طالبات کو مبینہ طور پر  ہراساں کرنے کیخلاف  دائر درخواست،نوٹسز جاری

  

پشاور(نیوز رپورٹر) پشاورہائیکورٹ نے اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں طالبات کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کیخلاف دائر درخواست پر گورنرخیبرپختونخوا اورصوبائی حکومت سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کرکے جواب طلب کرلیا۔درخواست گزاروکیل عیسیٰ خان خلیل کیجانب سے دائر کیس پر سماعت ہائیکورٹ کے قائمقام چیف جسٹس قیصر رشید خان اور جسٹس ارشد علی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔دوران سماعت درخواست گزار عیسیٰ خان خلیل ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایاکہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں مبینہ ہراسگی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اورشکایات پر ایکشن نہ لینے پر طالبات احتجاج کرنے پر مجبور ہوئیں۔ کالج میں طالبات کو مختلف طریقوں سے ہراساں کرنیکی کوشش کی جاتی ہے۔رٹ میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ کالج کے پرچوں کی چیکنگ متعلقہ اساتذہ کی بجائے باہر کے اساتذہ سے کرانی کا حکم دیا جائے۔درخواست گزار نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی کہ ان واقعات کی جوڈیشل انکوائری ہونی چاہیے اورملوث افراد کیخلاف ڈسپلنری کارروائی کے علاوہ انکے خلاف ایف آئی آر درج ہونے چاہیے تاکہ مستقبل میں تعلیمی اداروں اور دیگر کام کی جگہوں پر خواتین ہراسگی کی روک تھام ممکن ہوسکے۔دورکنی فاضل بنچ نے ابتدائی دلائل کے بعد گورنرخیبرپختونخوا، صوبائی حکومت،وائس چانسلر اسلامیہ کالج یونیورسٹی سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کرکے جواب مانگ لیا ہے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -