لوکل ٹرین کے موجودہ منصوبے کو مستردکرتے ہیں، حافظ نعیم الر حمن 

لوکل ٹرین کے موجودہ منصوبے کو مستردکرتے ہیں، حافظ نعیم الر حمن 

  

 کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے سرکلر ٹرین کے نام پر لوکل ٹرین چلانے کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئیے مطالبہ کیا کہ سرکلر ریلوے کو اس کے اصل روٹ ڈرگ روڈ اسٹیشن، گلشن اقبال، لیاقت آباد، ناظم آباد، اورنگی ٹاؤن اسٹیشن سے چلائی جائے،سرکلر ریلوے کے راستے میں آنے والے تمام اسٹیشنز کی مرمت کرائی جائے، ٹکٹ گھر بحال کیے جائیں اور لوکل ٹرین کے بجائے سرکلر ریلوے چلائی جائے،سرکلر ریلوے کی آمد درفت کا شیڈول ایسا بنایا جائے، جس سے مستقل مسافروں کو سہولت حاصل ہوسکے،ریلوے ٹریک کے قریب جو آبادیاں خالی کرائی جا رہی ہیں انہیں متبادل جگہیں دی جائیں،ریلوے پھاٹک کے اوپر فلائی اوور بنائے جائیں،  جماعت اسلامی کی ”حق دو کراچی مہم“ کے اگلے مرحلے کا بہت جلد اعلان کیا جائے گا، عوام نے کراچی ریفرنڈم میں جماعت اسلامی کے موقف کی تائید کرکے ثابت کر دیا کہ کراچی کے مسائل پہلے بھی جماعت اسلامی نے حل کیے تھے، اب بھی جماعت اسلامی ہی حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔  ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نور حق میں کراچی سرکلر ریلوے کے آغاز پر درپیش رکاوٹوں اور دیگر شہری مسائل کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پریس کانفرنس سے گلشن اقبال ٹاؤن کے سابق نائب ناظم انجینئر سلیم اظہر نے بھی خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سیکریٹری اطلاعات جماعت اسلامی کراچی زاہد عسکری بھی موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وفاقی حکومت سرکلر ریلوے کے نام پر کراچی کے شہریوں کے ساتھ سنگین مذاق بند کرے،وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے سرکلر نہیں لوکل ٹرین چلائی ہے، اس روٹ کا افتتاح نعمت اللہ خان کے دور میں 2005میں کیا گیا تھا، سرکلر ریلوے کی بحالی میں رکاوٹ ہٹانے کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان کے احکامات آنے کے بعد ناظم آباد میں کراچی سرکلر ریلوے کے پل کو توڑ دیا گیا، لیکن وزیر ریلوے شیخ رشید نے کوئی ایکشن نہیں لیا، ان اربوں روپے کے نقصان کا ذمہ دار کون ہے؟۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا  کہ  شہر میں پہلے سے موجود ٹریک پر سرکلر ٹرین نہیں چلائی جا رہی ہے،صرف سپریم کورٹ کو متاثر کرنے کے لیے لوکل ٹرین کا آغاز کیا جارہا ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی کیلئے  18ارب روپے میں سے ابھی تک 4ارب بھی خرچ نہیں کیے گئے،ن لیگ دور میں 2017میں کراچی سرکلر ریلوے کے لیے 27ملین رکھے گئے تھے، لیکن پی ٹی آئی کے دور میں ایک سال کیلئے 30کروڑ رکھے گئے، 8ارب کے پروجیکٹ کیلئے 30کروڑ مختص کرنا عوام کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی سرکلر ریلوے 1990میں پورے پاکستان میں سب سے زیادہ منافع کما کر دے رہی تھی، لیکن ن لیگ کے دور حکومت میں سازش کے تحت ٹرینوں کی تعداد کم اور اوقات میں خواہ مخواہ ردوبدل کیے گئے، جس کی وجہ سے ابتدا میں ریلوے کو خسارہ برداشت کرنا پڑا اور پھر سروس بھی بند کر دی گئی، اسی طرح ایم کیو ایم کے وزیر ٹرانسپورٹ کے دور میں کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کو بھی بند کر دیا گیا۔ سلیم اظہر نے کہاکہ ماضی میں کراچی میں 104ٹرینیں چلتی تھیں، جس میں سے 80ٹرین کراچی سرکلر ریلوے کی چلتی تھیں اور اس کے علاوہ مزید 24ٹرینیں اندرون ملک کے لیے چلتی تھیں، 1990میں بلا جواز ٹرین کی تعداد کم اور شیڈول تبدیل کر دیئے گئے، اوقات کار تبدیل ہونے کے باعث مسافروں کی تعداد میں کمی رونما ہوئی، جس کے باعث 1994میں کراچی سرکلر ریلوے خسارے میں چلی گئی اور 1999میں سرکلر ریلوے کو بند کر دیا گیا، آج جس ٹریک پر ٹرین چلائی گئی ہے، اس کا افتتاح سابق سٹی ناظم کراچی نعمت اللہ خان کے دور میں ہوا تھا۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -