ڈرگ ریگو لیٹری اتھارٹی کو قیمتوں پر نظر ثانی کرنے اور ایک ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت 

ڈرگ ریگو لیٹری اتھارٹی کو قیمتوں پر نظر ثانی کرنے اور ایک ماہ کے اندر رپورٹ ...

  

 پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائیکورٹ نے جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو قیمتوں پرنظرثانی کرنے اور ایک ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے قائم مقام چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس قیصررشید نے عدالت کو غلط بیانی کرنے پر سی ای او ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپ صبح سے عدالت کو غلط بیانی کررہے ہیں اتنے اہم سیٹ پرآپ کو کس نے بٹھایا ہے کیوں نہ آپ کے خلاف کارروائی شروع کرے پتہ نہیں آپ لوگ کہاں بیٹھتے ہوں, عوام کی مشکلات کا آپ لوگوں کو احساس ہی نہیں ہے عوام پہلے سے ہی مہنگائی سے پریشان تھے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے آپ لوگوں نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا لوگوں کی قوت خرید جواب دے گئی ہے اپ لوگوں کو اس بات کا احساس کیوں نہیں ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں سے کمیشن لیکر قیمتیں بڑھائی گئی ہیں جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں 300 فیصد تک اضافہ ہوا ہے کیس کی سماعت قائم مقام چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس قیصر رشید اور جسٹس ارشد علی پر مشتمل دور کنی بینچ نے کی کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سید سکندر شاہ، سی ای او ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اف پاکستان عاصم راوف،سی ای او ہیلتھ کئیر کمیشن خیبر پختون خوا، ڈپٹی ڈائریکٹر ایف ائی اے عبدالرحمان، جبکہ درخواست گزار اجمل خان ایڈوکیٹ اور محب اللہ کاکا خیل ایڈوکیٹ بھی عدالت میں پیش ہوئے جسٹس قیصر رشید نے سی ای او ڈراپ سے استفسار کیا کہ ادویات کی قیمتیں کیوں بڑھی ہیں تو انہوں نے عدالت کو تبایا کہ صرف 94 دوائیوں کی قیمت میں اضافہ ہوا، زیادہ اضافہ ایک انجکشن کی قیمت میں 311 فیصد ہوا  قیمت ایک روپیہ 37 پیسے سے بڑھ کر 5 روپے 94 پیسے ہوئی ہے، جس پر جسٹس قیصر رشید نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دو سے پانچ روپے والی ادویات کو چھوڑو ان ادویات کے بارے میں بتائیں جن کی قیمتوں  میں 300 سے 700 فیصد تک اضافہ ہوا ہے جان بچانے والے ادویات، دل کی امراض، شوگر اور انٹی بائیوٹک ادویات کی قیمتیں کہاں پہنچی ہیں کچھ پتا ہے غریب لوگوں کیلئے ادویات خریدنا مشکل ہو گیا ہے اورآپ ہمیں بتا رہے ہیں کہ ایک روپے سے پانچ روپے تک اضافہ ہوا ہے عدالت نے ڈپٹی ڈائریکٹر ایف ائی اے کو عبدالرحمان کو مارکیٹ جا کر ادویات کی قیمتیں معلو کرنے اور گزشتہ 6 ماہ میں ہونے والے اضافے کے بارے میں معلومات کرے عدالت کو آگاہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت کچھ دیر کیلئے ملتوی کردی کیس کی دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے نے ادویات میں اضافہ کی لسٹ عدالت میں پڑھ کرسنائی اور کہا کہ دل کی بیماری کیلئے استعمال کی جانے والی ادویات کی قیمتوں میں 400 فیصد تک اضافہ ہوا ہے جس پر جسٹس قیصر رشید نے سی ای او ڈراپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سی ای او صاحب آپ کو قیمتوں میں اضافے کا پتہ ہی نہیں صبح سے آپ عدالت میں غلط بیانی کررہے ہیں, ہمیں افسوس ہو رہا ہے کہ اپ اتنے اہم عہدے پر بیٹھا شخص عدالت سے غلط بیانی کررہا ہے اپ کو اس اہم سیٹ پر کس نے بٹھایا ہے جسٹس قیصررشید نے ریمارکس دیئے کہ جان بچانے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں سے کمیشن لیکر قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے عوام مہنگائی سے پہلے ہی پریشان تھے اپ لوگوں کو غریب عوام کی پرواہ ہی نہیں ہے عوام میں اتنی مہنگی ادویات خریدنے کی سکت ہی نہیں ہے جس پر ڈراپ کے سی ای او عاصم رؤف نے عدالت کو بتایا کہ ادویات کی قیمتیں وفاقی حکومت بڑھاتی ہیں اس لئے کمیٹی بنائی گئی ہے اور فارمولے کے مطابق قیمتیں طے کی جاتی ہیں جس پر جسٹس قیصررشید نے کہا کہ ہم اس گورکھ دھندہ میں نہیں پڑھنا چاہتے جائیں اور قیمتیں کم کرنے کیلئے اقدامات کریں جسٹس قیصر رشید نے کہا کہ شوگر کی بیماری کیلئے استعمال ہونے والی انسولین کی قیمتیں بھی برھ گئی ہیں شوگر صرف امیر لوگوں کو نہیں بلکہ اب غریب ادمی بھی شوگر کی بیماری کیلئے انسولین استعمال کرتے ہیں اپ لوگوں کو غریبوں کا احساس ہی نہیں فاضل بینچ نے سی او او ڈراپ کو ہدایت کی کہ ادویات کی قیمتیں کم کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں اور ایک ماہ کے اندر رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے عدالت نے کیس کی سماعت 17 دسمبر تک کیلئے ملتوی کردی

مزید :

پشاورصفحہ آخر -