انسداددہشتگردی عدالت کے فیصلوں کیخلاف دائر اپیلوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیاگیا

  انسداددہشتگردی عدالت کے فیصلوں کیخلاف دائر اپیلوں پر محفوظ فیصلہ سنا ...

  

پشاور(نیوز رپورٹر)پشاورہائیکورٹ نے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے طالبعلم مشال کے قتل کیس میں انسداددہشتگردی عدالت کے فیصلوں کیخلاف دائر اپیلوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے مرکزی ملزم کی سزائے موت کی سزاعمرقیدمیں تبدیل کردی جبکہ 7ملزمان کی عمرقید کی سزائیں برقراررکھیں،اسی طرح قتل کے مقدمے میں نامزد25ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کردیں جسکے بعد ملزمان کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔گزشتہ روز جسٹس لعل جان خٹک اور جسٹس میاں عتیق شاہ پر مشتمل دورکنی بنچ نے مشال قتل کیس کا فیصلہ سنایا۔فیصلہ سناتے وقت عدالت میں  سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔اس موقع پر بعض ملزمان اور انکے والدین اور رشتہ دار بھی موجود تھے۔ پشاور ہائیکورٹ نے مشال قتل کیس میں انسداد دہشتگردی عدالت کے فیصلے کیخلاف اپیلوں پر فیصلہ 29 ستمبر کو محفوظ کیا تھاجسکے تحت مرکزی ملزم عمران علی کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کی گئی۔ اس موقع پر فاضل بنچ نے تین سال سزا پانے والے 25 ملزمان کی ضمانت درخواستیں خارج کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنیکا حکم دیا جسکے بعدعدالت میں موجود تمام ملزمان کو گرفتارکرلیاگیا۔عدالت نے عمرقید کی سزا پانے والے 7 ملزمان کی سزاؤں کو برقرار رکھاہے۔ 13 اپریل 2017 کو عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں مشال نامی طالبعلم کوطلباء کے ایک ہجوم نے قتل کردیا تھا جسکے بعد کیس میں کل 61 ملزمان کو نامزد کیا گیا۔انسداد دہشتگردی عدالت ایبٹ آباد نے 7 فروری 2018 کو 57 ملزمان کے کیس کا فیصلہ جاری کیااور 31 ملزمان کو سزائیں دیں جن میں مرکزی ملزم کو سزائے موت، 5 کو عمرقید اور 25 ملزمان کو 3 تین، تین سال قید جبکہ 26 ملزمان کو بری کردیا تھا۔پشاور ہائیکورٹ ایبٹ آباد بنچ نے تین سال سزا پانے والے 25 ملزمان کو بعد میں ضمانت پر رہا کرنیکا حکم دیا تھا۔ کیس میں 4 ملزمان مفرور تھے جن میں ایک حکمران جماعت کے کونسلر عارف بھی شامل تھے جنہیں بعد میں گرفتار کیا گیا۔اس طرح21 مارچ 2019 کو انسداد دہشتگردی عدالت پشاور نے دو ملزمان کونسلر عارف اور اسد مایار کو عمر قید کی سزا جبکہ دو ملزمان کو بری کیا تھا۔مشال کے والد نے ملزمان کی سزاؤں میں اضافہ اور رہا کئے گئے ملزمان کو سزائیں دینے جبکہ ملزمان نے سزاؤں کیخلاف پشاور ہائیکورٹ میں اپیلیں دائر کررکھی تھیں جن پر گزشتہ روز عدالت نے فیصلہ سنایا۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -