اساتذہ کی سکولوں میں حاضری یقینی بنانے کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے 

اساتذہ کی سکولوں میں حاضری یقینی بنانے کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے 

  

چارسدہ(بیورورپورٹ)صوبائی حکومت کی اساتذہ کی سکولوں میں حاضری یقینی بنانے کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے،چارسدہ کے بعض پرائمری سکولوں میں کئی سالوں سے اساتذہ ڈیوٹی سے غائب ہے جس کے باعث ہزاروں طلبہ کا مستقبل تاریک ہو رہا ہے۔انڈپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ سمیت محکمہ تعلیم کے افسران کی جانب سے متعدد بار رپورٹ ہونے کے باوجو د ڈیوٹی انجام نہ دینے والے اساتذہ کے خلاف کاروائی نہیں کی جاتی۔تفصیلات کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے جہاں ایک طرف صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرکے معیاری تعلیم عام کرنے اور اساتذہ کی سکولوں میں حاضری یقینی بنانے کے دعوی کئے جار ہی ہے وہی پر چارسدہ میں ایسے سکولز بھی موجود ہیں جن کے اساتذہ کئی ہفتے سکول سے غیر حاضر رہتے ہیں اور مہینے میں میں ایک بار آکر پورے مہینے کی حاضریاں لگا دیتے ہیں۔ بار بار رپورٹ ہونے کے باوجود  بھی آج تک محکمہ تعلیم کی جانب سے ان ساتذہ کے خلاف کسی قسم کی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی جبکہ سکول سے مسلسل غیر حاضر رہنے کے باعث سکول میں موجود سینکڑوں طلباء کا مستقل داؤ پر لگ کیا ہے۔ اس حوالے سے محکمہ تعلیم چارسدہ کے ایک افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ گورنمنٹ پرائمری سکول شبقدر پورٹ قلعہ میں تعینات سکول ٹیچر سہیل خان پچھلے کئی سالوں سے سکول سے ایسے غیر حاضر رہتے ہیں کہ مہینے میں ایک بار آکر سکول پورے مہینے کی حاضری لگا دیتے ہیں جس کے خلاف کئی بار محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران کو آگاہ کر دیا گیا ہے جبکہ انڈپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کی جانب سے بھی کئی بار مذکورہ سکول ٹیچر کوغیر حاضر پا کر رپورٹ کیا گیا ہے لیکن اس پر تاحال کسی قسم کی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔ اس حوالے سے محکمہ تعلیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر حاضری کے باعث مذکورہ سکول ٹیچر کی تنخواہ بھی ایک سال کے لئے بند کر دی گئی تھی جبکہ ان کی تنخواہ سے انکرئمنٹ کاٹنے سمیت درجنوں بار اس میں حاضری کے لئے انہیں شوکاز نوٹسز جاری کی جا چکے ہیں لیکن نہ تو سکول ٹیچر کی جانب سے حاضری یقینی بنائی جار ہی ہے نہ ہی حکام بالہ کی جانب سے غیر حاضر سکول ٹیچر کے خلاف کوئی اقدامات ٹھایا جا رہا ہے۔ مذکورہ غیر حاضر سکول ٹیچر کے حوالے سکول ذرائع کا کہنا ہے کہ سہیل خان کو سکول میں کے جی کلاس حوالے کیا گیا ہے لیکن سکول سے مسلسل غیر حاضر رہنے یامہینے میں ایک دو دن سکول میں حاضر ہو کر بچوں کو ان کے حق کے مطابق پڑھائی نہیں کی جاتی جس کے باعث مذکورہ کلاس کے بچے تعلیمی لحاظ سے بنیادی طور پر پڑھائی میں کمزور ہوتے جار ہے ہیں۔دوسری جانب سکول میں حاضری نہ دینے والے سکول ٹیچر سہیل خان نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ وہ باقاعدگی سے سکول میں حاضری کرتے ہیں اور آج تک اس کے خلاف کسی قسم کا شوکاز نوٹس جاری نہیں ہوا ہے۔ یادر ہے کہ مذکورہ سکول ٹیچر کی بیوی شبقدر میں ہی محکمہ تعلیم میں اے ایس ڈی ای او کے پوسٹ پر تعینات ہے جو پچھلے بارہ سال سے ایک ہی پوسٹ پر کام کر رہی ہے جس کے خلاف بھی محکمہ تعلیم،پولیس اور ڈپٹی کمشنر کی جانب سے متعدد انکوائری چل رہی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -