نئی اور منفرد کتاب سقوط ڈھاکہ کی حقیقت

نئی اور منفرد کتاب سقوط ڈھاکہ کی حقیقت
 نئی اور منفرد کتاب سقوط ڈھاکہ کی حقیقت

  

زمانہ طالب علمی میں سید ابو اعلیٰ مودودیؒ  کی کتابیں پڑھنے سے پیدا ہونے والا شوق زندگی کی 50 بہاریں دیکھنے کے بعد بھی کم نہیں ہوا ہے۔یہی وجہ ہے گزشتہ سال سے تکمیل کے تمام مراحل طے کرتی ہوئی ہمارے پیارے ہر دل عزیز بنگالی بھائی (سید ابو الحسن) کی سقوط ڈھاکہ کی حقیقت کے نام سے منفرد کتاب کی اشاعت میں بڑی شدت سے منتظر تھا اس کی دو جوہات تھیں ایک پاکستان دو لخت ہونے کے تلخ حقائق کے مصنف کے چشم دیدہ گواہ ہونے اور دوسرا ان سے25 سالہ بڑا ہی محبتوں کا تعلق۔ سید ابو الحسن کی شخصیت کے کئی روشن پہلو ہیں،بنگلہ دیش کو دیکھنے کا آج تک اتفاق نہیں ہوا، اِس لئے وقتاً فوقتاً بنگالی بھائی کی کتاب کی تیاریوں کے حوالے سے محترم شامی صاحب کے دفتر روزنامہ ”پاکستان“ آمد اور پھر ملاقات میں کتاب کے مندرجات سے آگاہی نے بے تابی میں مزید اضافہ کر دیا تھا۔

پاکستانی بنگالی بھائی کی کتاب کی اشاعت جلد کرنے کا جذبہ یقینا قابل ِ ستائش تھا، مگر کورونا کی وبا لاک ڈاؤن نے ان کا جذبہ اگر ٹھنڈا نہیں کیا کم از کم سست ضرور کر دیا تھا۔بات کر رہا تھا سقوط ڈھاکہ کی حقیقت کے مصنف کے شاندار ماضی اور خوبصورت حال کی1996ء میں اسلامی جمعیت طلبہ سے فراغت اور علامہ اقبال ٹاؤن لاہور رہائش ان سے تعلق جوڑا اس کی بنیادی وجہ البدر پبلی کیشنز کے بانی اسلامی جمعیت طلبہ کے سابق طالب علم جماعت اسلامی لاہور کے تابندہ ستارے درویش صفت شخصیت عبدالحفیظ احمد مرحوم تھے، جنہوں نے زندگی کی بہاریں مکمل کرنے تک کریم بلاک میں اپنی رہائش گاہ میں ناشتے کی خوبصورت روایت کو خوب نبھایا، بنگالی بھائی کی شخصیت کی خوبی ہے ان کا ملنا مسکرانا اس انداز کا ہوتا ہے،ہر دیکھنے والا اس غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہے۔ بنگالی بھائی مجھے بہت زیادہ پیار کرنے والے دوست ہیں یہی وجہ ہے عبدالحفیظ احمد، میاں مقصود احمد، حافظ سلمان بٹ، لیاقت بلوچ، فرید پراچہ، امیر العظیم، ذکر اللہ مجاہد لاہور میں جماعت اسلامی کے ذمہ دار رہے۔

سقوط ڈھاکہ کی حقیقت کے مصنف ہر لیڈر کی دِلوں کی دھڑکن کے قریب رہے، مختلف انداز میں دھڑکتے رہے اور اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہے، سینکڑوں احباب کی طرح مَیں بھی بنگالی بھائی سے کسی نہ کسی انداز میں محبت کا رشتہ نبھانے والے متاثرین میں شامل ہونے کا دعویٰ دار ہوں اِس لئے ان کی کتاب کی تقریب رہنمائی سے پہلے ہی اپنے مربی اور دوست مرشد(یوسف جمال) سے ملنے والی کتاب سقوط ڈھاکہ کی حقیقت ایک ہی نشست میں پڑھنے کے بعد آج کے کالم کو اس تاریخی دستاویز کے تعارف تک محدود کرنے پر مجبور ہو گیا۔ سینئر قانون دان ایس ایم ظفر اس کتاب کے آغاز میں فرماتے ہیں۔مشرقی پاکستان کے الگ ہو جانے کی تاریخ پر کئی مصنفین نے قلم بندی کی ہے، مگر سید ابو الحسن کی کتاب سقوط ڈھاکہ کی حقیقت میں مستند کتابوں کے حوالوں اور ان کے چشم دید ہونے نے چار چاند لگا دیئے ہیں اور کتاب کو ایک نیا رنگ دے دیا ہے۔ ایس ایم ظفر نے اپنے پیغام میں سقوط ڈھاکہ کی حقیقت کتاب میں دو نئے انکشاف بھی کئے ہیں جو اچھی کتابیں پڑھنے والوں کے لئے بہترین تحفہ ہیں۔

سید ابو الحسن کی بنگلہ دیش اور پاکستان سے ایک ساتھ محبت کا رنگ بھرنے کے خوبصورت انداز کو عہد ِ حاضر کے عظیم ایڈیٹر اور میرے استادِ محترم جناب مجیب الرحمن شامی صاحب نے جس انداز میں مصنف کے اندازِ بیان کو سراہا ہے یہ بھی پڑھنے کے قابل ِ ہے۔ شامی صاحب فرماتے ہیں سید ابو الحسن ایک بنگالی یا پاکستانی بنگالی ہیں۔ مشرقی پاکستان میں پیدا ہوئے، وہی ہوش سنبھالہ، بنگلہ دیش بنتے دیکھا پھر پاکستان کو اپنا وطن بنا لیا، ان کا بنگلہ دیش اپنی پاکستانی شناخت سے محروم ہونے پر تیار نہیں ہے، جان جوکھوں میں ڈال کر لاہور پہنچے،یہیں اپنی تعلیم مکمل کی، اب بنگلہ دیش پر نظر جمائے ہوئے ہیں انہیں یقین ہے ان کی پاکستانیت پھر آشکار ہو کر رہے گی،علَم بنگال اپنا لوہا منوا کر رہے گا۔ مشرقی پاکستان کیسے بنا؟ ہر فاضل مصنف کے لئے ایک نظری سوال نہیں ہے۔

انہوں نے اپنی آنکھوں سے وہ سب کچھ دیکھا ہے،جو ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں، مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے لئے غیروں اپنوں کی عیاریوں اور حماقتوں کی کہانی عبرتناک بھی ہے اور چشم کشا بھی،مصنف کے مطابق پاکستان اور بھارت کی نہ ختم ہونے والی جنگ ہے۔

اس خوبصورت کتاب کو جماعت اسلامی پاکستانی کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم نے کتاب سقوط ڈھاکہ کی حقیقت کے مصنف سید ابوالحسن اور کتاب کے ایک ایک صفحہ پر شائع ہونے والے واقعات پر تصدیق کی مہر ثبت کی ہے۔ امیر العظیم کا کہنا ہے اس کتاب کو پڑھ کر اندازہ نہیں ہو گا کہ مصنف سقوط ڈھاکہ کا عینی شاہد ہی نہیں،اس دور کے واقعات کا تاریخی کردار بھی ہے۔مصنف نے اپنی ذات میں گم ہو کر آپ بیتی کو جگ بیتی بنا دیا ہے۔ان کا کہنا ہے مجھے یقین ہے کتاب کا مسودہ سیاہی سے نہیں اپنے آنسوؤں سے لکھا ہے۔ یہ بات بالکل عیاں ہے1971ء میں ہمارے حکمرانوں نے ناعاقبت اندیشی کا مظاہرہ کیا۔اس کے علاوہ سقوط ڈھاکہ سے ہمیں دو اہم سبق بھی ملتے ہیں۔امیر العظیم کی خوبصورت الفاظی نے کتاب پڑھنے کے منتظر احباب کی تشنگی کو اور بڑھا دیا ہے۔

سقوط ڈھاکہ کی حقیقت دِل تھام کر پڑھنے والی کتاب ہے۔علامہ اقبال ؒ کے خواب کو شرمندہئ تعبیر کرنے والے قائداعظمؒ کے پاکستان کے ساتھ کیا کیا کھیل کھیلے جاتے رہے، بنگالی بھائی نے طویل عرق ریزی کی ہے۔ برصغیر کے پس منظر، تقسیم بنگال، مسلمانوں کی جدوجہد عبدالمالک کی شہادت، البدر اور التمش کی قربانیاں،بھارت اور امریکہ کا کردار، حکمرانوں کی کارکردگی، شیخ مجیب الرحمن کی اسیری اور رہائی سمیت ایک ایک واقعہ کو خوبصورت انداز میں قلم بند کیا ہے۔ اسلامی پبلی کیشنز(پرائیویٹ لمیٹڈ) نے سید ابوالحسن کی کاوش کو خوبصورت ٹائٹل اور دیدہ زیب اوراق میں بہترین انداز میں شائع کیا ہے۔ واقعی پڑھنے والی اور لائبریری کا حصہ بنانے والی کتاب ہے،آخر میں بنگالی بھائی کی محنت اور مسلسل محنت سے منظر عام پر آنے والی کتاب سقوط ڈھاکہ کی حقیقت کی مبارکباد اور نئی کتاب شیخ مجیب الرحمن کے قتل کی اصل کہانی کی جلد آمد کی نوید کا شکریہ۔

مزید :

رائے -کالم -