جنر ل راحیل شریف سے ملازمت میں توسیع پر بات ہوئی، پیشکش نہیں کی: چوہدری نثار کا اعتراف

جنر ل راحیل شریف سے ملازمت میں توسیع پر بات ہوئی، پیشکش نہیں کی: چوہدری نثار ...

  

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیر داخلہ اور سینئر سیاست دان چوہدری نثار علی خان نے سختی سے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ انہوں نے نون لیگ کی حکومت کے دوران شہباز شریف کے ساتھ مل کر راحیل شریف کو آرمی چیف کے عہدے میں توسیع دینے کی پیشکش کی تھی۔ مقامی اخبار کی سٹوری جس میں لیفٹیننٹ جنرل امجد شعیب نے جنرل راحیل کے حوالے سے بتایا تھا کہ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف اور نون لیگ کے ایک اور اہم رہنما سے ملاقات کے بعد جنرل راحیل شریف پی ایم آفس سے روانہ ہو رہے تھے تو ان سے شہباز شریف اور چوہدری نثار نے رابطہ کیااور انہیں ملازمت میں توسیع کی پیشکش کی۔ راحیل شریف نے جنرل شعیب کو بتایا کہ شہباز اور نثار نے کہا کہ وہ انہیں بحیثیت آرمی چیف توسیع دینا چاہتے ہیں جب راحیل شریف نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا تو انہیں فیلڈ مارشل کے عہدے کی پیشکش کی گئی جو انہوں نے مسترد کر دی۔چوہدری نثار نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ شہباز شریف کے ساتھ مل کر میں نے مسٹر راحیل شریف کو توسیع کی پیشکش کی تھی۔ میں ایسا کیسے کر سکتا ہوں جب میرے پاس ایسا کرنے کیلئے کوئی اختیار ہے اور نہ ہی وزیراعظم نے اس حوالے سے مجھے کوئی اتھارٹی دی تھی۔سب سے بڑا مذاق تو یہ کہنا ہے کہ ہم نے فیلڈ مارشل کے عہدے کی پیشکش کی تھی۔ اس معاملے پر کوئی پیشکش کرنا تو دور یہ ”تجویز“ بھی ہمارے ذہن میں نہیں آئی۔ یہ ”شاندار“ تجویز کون سامنے لایا اور اعلیٰ سطح پر سول ملٹری اجلاس میں کس نے کیا کہا تھا، اس پر فی الحال بات نہیں کرنا چاہئے۔ تاہم چوہدری نثار نے تصدیق کی کہ چار سینئر سویلین شخصیات (وزیراعظم نواز شریف، شہباز شریف، چوہدری نثار اور اسحاق ڈار) کی تین ملٹری عہدیداروں (راحیل شریف کی قیادت میں) سے ملاقات ہوئی تھی جس میں صرف توسیع کے ایشو پر بات چیت ہوئی۔ یہ انتہائی حساس سرکاری معاملات ہیں اور ہمیں ”اِس نے یہ کہا، اْس نے یہ کہا“ جیسی باتوں میں نہیں پڑنا چاہئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سب سے زیادہ احتیاط یکطرفہ اور ناقص بیانات پر کھل کر بات نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس سے پہلے سے ہی مخدوش حالات مزید بگڑ جائیں گے۔

نثاراعتراف

مزید :

صفحہ آخر -