پیمرا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہو تو بھی کسی مفرور کو ریلیف نہیں دیا جا سکتا: چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ

پیمرا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہو تو بھی کسی مفرور کو ریلیف نہیں دیا جا سکتا: چیف ...

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے قائد مسلم لیگ ن نوازشریف کی تقاریر پر پابندی کیخلاف درخو است پر ریمارکس دیئے ہیں کہ کسی مفرور کو ریلیف نہیں دے سکتے، گزشتہ روزاسلام آباد ہائی کورٹ میں قائد مسلم لیگ ن، سابق وزیر اعظم نواز شریف کی تقریر پر پابندی سے متعلق درخواست کی سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔ہیومن رائٹس کمیشن، پی ایف یو جے اور دیگر صحافیوں کی جانب سے سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے کہا آپ ریلیف کس کیلئے مانگ رہے ہیں، جس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا عوام کیلئے ریلیف مانگ رہے ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا پرویز مشرف والے کیس میں یہ ساری چیزیں موجود ہیں، مشرف جب مفرور تھا تو عدالت نے ریلیف نہیں دیا، پیمرا آرڈیننس سیکشن 31اے کے تحت پیمرا نے نوٹیفکیشن جاری کیا، چینل یا جو فریق متاثر ہے ان کو چاہیے متعلقہ فورم میں جائیں۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا آئین کے آرٹیکل 19 پڑ ھ لیں، نواز شریف کی سی این آئی سی اور پاسپورٹ بلاک کیا گیا ہے، یہ درخواست سادہ نہیں ہے، جس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا غیر جانبد ا ر صحافیوں نے درخواست دائر کی ہے۔چیف جسٹس نے سلمان اکرم راجہ سے کہا مفرور کی تشرح کر دیں،جوڈیشل سسٹم کا امتحان ہے۔ یہ عدالت کسی مفرور کو ریلیف نہیں دے سکتی، درخواست میں سیکرٹری اطلاعات،چیئر مین پیمرا اور جی ایم پیمرا کو فریق بنایا گیا ہے۔سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا پیمرا نے نواز شریف کی تقریر ٹی وی پر نہ دکھانے کیلئے یکم اکتوبر کو نوٹیفکیشن جاری کیا، پیمرا کی جانب سے الیکٹرانک میڈیا پر غیر آئینی و غیر قانونی قدغن لگائی گئی ہے، پیمرا کی جانب سے جاری احکامات آئین کے آرٹیکل 19 اے سے متصادم ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 19 شہریوں کو آزادی اظہار رائے اور معلومات کی فراہمی کا حق فراہم کرتا ہے، عدالت پیمرا کا یکم اکتوبر کا حکم نامہ غیر قانونی قرار دے، مجھے کیس پر تیاری کیلئے وقت بھی دیاجائے۔چیف جسٹس نے مکالمے میں کہا آپ نے نہیں سوچا اس ریلیف سے پاکستان میں جتنے بھی مفرور ہیں سب کیلئے ہو گا،مفرور کو عدالتوں پر اعتماد کرنا ہوگا، اگر پیمرا کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہو تو بھی کسی مفرور کی درخواست پر ریلیف نہیں دے سکتے۔بعد ازاں عدالت نے سماعت 16 دسمبر تک ملتوی کردی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ

مزید :

صفحہ اول -