ملکی زرمبادلہ ذخائر 20ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے، کرنٹ اکاؤنٹ مسلسل چوتھے ماہ بھی سرپلس، وفاقی ادارہ شماریات

  ملکی زرمبادلہ ذخائر 20ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے، کرنٹ اکاؤنٹ ...

  

 کراچی، اسلام آباد (سٹاف رپورٹرز، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) حکومتی اقدامات کی بدولت زرمبادلہ کے زخائر 20 ارب ڈالر کی سطح عبور کر جانے کے بعد 34 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے جبکہ رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 1.16ارب ڈالر رہا ہے۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق زرمبادلہ کے زخائر 20 ارب ڈالر کی سطح عبور کرگئے ہیں، گزشتہ ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں 19کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا 13 نومبر کو مجموعی زخائر کی مالیت 20 ارب 8 کروڑ 56 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئی۔ زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 12 ارب 93 کروڑ 12 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئے ہیں جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس 7 ارب 15 کروڑ 44 لاکھ ڈالر کی زخائر موجود ہیں۔مرکزی بینک کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ(یکم جولائی تا 31اکتوبر)کے دوران میں جاری کھاتے کے توازن میں نمایاں بہتری ہوئی ہے۔ ستمبر میں کر نٹ اکانٹ 5 کروڑ 90 لاکھ جبکہ اکتوبر میں 38 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سرپلس رہا، اس طرح رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ جاری کھاتے کا مجموعی فاضل بیلنس ایک ارب 20 کروڑ ڈالر رہا ہے۔ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں جاری کھاتے کو 1.4 ارب ڈالر کا خسارہ تھا۔ جاری کھاتے کا توازن بہتر بنانے میں ترسیلات میں اضافے اور تجارتی خسارے میں کمی نے اہم کردار ادا کیا۔رواں سال کے پہلے 4 ماہ جاری کھاتے کا فاضل بیلنس 1.20 ارب ڈالر رہا جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 1.4 ارب ڈالر خسارہ تھا۔ اقتصا دی ماہرین کا کہنا ہے کہ قرض کی موخر ادائیگیوں، غیر ملکی مالیاتی اداروں کی معاونت اور تجارتی خسارے میں کمی سے ادائیگیوں کا توازن بہتر ہو رہا ہے جس سے ملکی زرمبادلہ ذخائر کو بھی استحکام مل رہا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم رکھنے کیلئے حکومت کو ایکسپورٹس اور غیر ملکی سرمایاکاری کے فروغ پر توجہ دینے کی ضرور ت ہے۔ادھر تجارتی خسا رے میں کمی کا تسلسل جاری ہے، مسلسل چوتھے ماہ اکتوبرکے دوران بھی تجارتی خسارے میں ساڑھے 26 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی،رواں مالی سال کے پہلے4 ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 7 ارب 61 کروڑ ڈالر سے زائد رہا۔وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ماہ اکتوبر 2020 میں ملکی تجارتی خسارہ 1 ارب 80 کروڑ ڈالر سے زائد رہا، ستمبر کے مقابلے میں تجارتی خسارے میں ساڑھے 26 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اکتوبر کے مقابلے میں تجارتی خسارے میں 7.41 فیصد کی کمی ہوئی، مالی سال کے 4 ماہ میں تجارتی خسارہ 7 ارب 61 کروڑ ڈالر سے زائد رہا۔اس سے قبل ستمبر کے مہینے میں تجارتی خسارے میں 19.49 فیصد اضافہ ہوا تھا، ستمبر 2020 میں تجارتی خسارہ 2.39 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔ ستمبر میں برآمدات میں 18 فیصد اضافہ ہوا، اگست میں 1.58 ارب ڈالر کی برآمدات ستمبر میں بڑھ کر 1.87 ارب ڈالر رہی تھی۔رواں مالی سال کے 3 ماہ میں برآمدات 5.51 ارب ڈالر سے کم ہو کر 5.46 ارب ڈالر رہی اور رواں مالی سال 3 ماہ میں درآمدات 0.56 فیصد بڑھ کر 11.26 ارب ڈالر رہی۔ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ حکومت کو وراثت میں 19 ارب 20 کروڑ ڈالرز کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ ملا تھا،گزشتہ چار ماہ سے کرنٹ اکاونٹ خسارہ سرپلس آرہا ہے،حکومت برمدات کے فروغ کے لیے اقدامات کرتی رہے گی۔ایک ٹوئٹ میں مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت کو وراثت میں 19 ارب 20 کروڑ ڈالرز کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ ملا تھا۔گزشتہ برس کرنٹ اکاونٹ خسارے کو کم کرکے تین ارب ڈالرز کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ چار ماہ سے کرنٹ اکاونٹ خسارہ سرپلس آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال اب تک 1.2 ارب ڈالرز کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ سرپلس ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت برمدات کے فروغ کے لیے اقدامات کرتی رہے گی۔

زرمبادلہ ذخائر

مزید :

صفحہ اول -