الیکٹورل کالج 14دسمبر کو جوبائیڈن کو قانونی و حتمی طور پر صدر منتخب کریگا

  الیکٹورل کالج 14دسمبر کو جوبائیڈن کو قانونی و حتمی طور پر صدر منتخب کریگا

  

 واشنگٹن(اظہر زمان، تجرباتی رپورٹ) صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے3نومبر کے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جوبائیڈن کے منتخب ہونے کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ انہوں نے بیلٹ پیپرز کی گنتی کے نظام پر بداعتمادی کا اظہار کرتے ہوئے دھاندلی اور گھپلوں کے الزامات لگائے ہیں۔ چند ریاستوں میں دوبارہ گنتی بھی کرائی ہے اور کہیں انہیں وفاقی عدالتوں میں چیلنج بھی کیا ہے۔ تاہم اس وقت تک ان کی تمام کوششیں بیکار ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ دوسری طرف انہوں نے اپنی انتظامیہ میں اپنے ذاتی وفا داروں کے ذریعے منتخب صدر کو انتقال اقتدار کے عمل میں ضروری سہولتوں کی فراہمی سے انکار کیاہے لیکن اس کے باوجود نامزد صدر کی قانونی حیثیت میں کوئی فرق پڑا اور نہ ہی ان کے اقتدار سنبھالنے کے عمل کو روکا جا سکاہے۔ وائٹ ہاؤس ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ خود اور ان کے قریبی ساتھی سمجھتے ہیں کہ ان کا انکار کارگر ثابت نہیں ہو گا اور بالآخر انہیں جو بائیڈن کے لئے رستہ صاف کرنا پڑے گا۔ 3نومبر کے بالواسطہ صدارتی انتخابات کے نتیجے میں 538ارکان پرمشتمل الیکٹوریل کالج میں جوبائیڈن 290الیکٹورل ووٹ حاصل کر کے جیتنے کے لئے ضروری کم از کم 270ووٹوں سے بیس ووٹ زیادہ حصال کر چکے ہیں جبکہ صدر ٹرمپ کے ووٹ صرف 232ہیں۔ صرف ایک ریاست جارجیا کا نتیجہ باقی ہے جہاں جو بائیڈن کو صدر ٹرمپ کے مقابلے پر معمولی اکثریت حاصل ہے اس ریاست کے 16ووٹ بھی جو بائیڈن کو ملنے کا امکان ہے جس کے بعد ان کا سکور306ہو سکتا ہے۔ اگر یہ ووٹ نہ بھی ملیں تو پھر بھی جو بائیڈن کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ضابطے کے مطابق ہر ریاست کی سینیٹ اور اسمبلی گنتی کے حتمی نتائج کا سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں۔ ٹرمپ ٹیم ری پبلکن پارٹی کے ارکان کے ذریعے اس عمل میں بھی تاخیر کروا رہی ہیں لیکن جلد یا بدیرتمام ریاستوں کو سرٹیفکیٹ جاری کرنا پڑے گا۔ اگرچہ سرٹیفکیٹ جاری ہونے کے بعد واضح ہو جاتا ہے کہ الیکٹوریل کالج میں کس امیدوار کو کتنے ارکان ملے ہیں۔ تاہم قانونی تقاضا پورا کرنے کے لئے الیکٹورل کالج کے 538 ارکان 14 دسمبر کو اپنے اجلاس میں صدر کا رسمی چناؤ کرتے ہیں جہاں دونوں امیدواروں کے حامی ارکان اپنی پارٹی کے صدارتی امیدوار کے لئے ووٹ ڈالتے ہیں۔ قانون کے مطابق یہ ارکان اپنی پارٹیوں کے امیدواروں کو ووٹ دینے کے پابند ہیں۔ اس کے بعد نامزد صدر جوبائیڈن 20جنوری بروز بدھ اپنے نئے عہدے کا حلف اٹھا کر چارج سنبھال لیں گے۔ ایک اطلاع کے مطابق صدر ٹرمپ کی ٹیم کے ارکان نے بھی خفیہ طور پر جوبائیڈن سے رابطہ قائم کر رکھا ہے۔ جو بائیڈن اس وقت تیز رفتاری سے اپنی مستقبل کی ٹیم اور آئندہ کی پالیسیوں کے لئے بنیادی تیاریوں میں مصروف ہیں جبکہ ٹرمپ اور ان کی ٹیم ان کے آگے بڑھنے کے عمل کو روکنے میں ناکام ہوتی نظرآ رہی ہے۔

جوبائیڈن

  

مزید :

صفحہ اول -