پاکستان میں سالانہ 4300 ارب روپے کی کرپشن کا انکشاف

پاکستان میں سالانہ 4300 ارب روپے کی کرپشن کا انکشاف

  

 بہاولپور(ڈسٹرکٹ رپورٹر) نائب امیر جماعت اسلامی جنوبی پنجاب سید ذیشان اخترنے کہا ہے کہ موجودہ حالات کو دیکھ کر عوام میں مایوسی پھیلتی چلی جارہی ہے۔ ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والا شخص پریشان ہے۔ملک میں روزانہ 12 ارب اور سالانہ 4300 ارب روپے کی کرپشن لمحہ فکریہ ہے۔ رہی سہی کسر 10 ارب روپے کی منی لانڈرنگ نے پوری کردی ہے۔ 22کروڑ کی آبادی والے ملک میں صرف 14لاکھ افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں جوکہ اداروں کی ناکامی کا منہ (بقیہ نمبر39صفحہ 6پر)

بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے خون پسینے کی کمائی کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور توانائی بحران کی آڑ میں کرپٹ افراد نے اپنی تجوریوں کو بھرا ہے۔ حکمرانوں سمیت کسی کو بھی عوام کے مسائل اور ان کے حل سے کوئی سروکار نہیں۔ موجودہ حکمرانوں نے بھی عوام کے جذبات کو مجروح کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ ماضی کے منافع بخش ادارے اب قومی خزانے پر بھاری بوجھ بن چکے ہیں۔ ہر ادارے میں کرپشن اور بد عنوانی کی لمبی داستانیں دکھائی دیتیں ہیں۔آئے روز اسکینڈلز سامنے آرہے ہیں۔قومی اداروں کو بہتراورفعال بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ان سے کالی بھیڑوں کو فی الفور نکالا جائے۔ ملک و قوم اس وقت سنگین بحران سے دوچار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ غربت،مہنگائی،بے روزگاری،بددیانتی،کرپشن اورمعاشی عدم استحکام جیسے سنگین مسائل نے ملک کا دیوالیہ نکال دیاہے۔مختلف ٹیکس لگاکر عوام کے خون پسینے کی کمائی کو دونوں ہاتھوں سے لوٹاجارہا ہے۔حکمرانوں کی غیر دانشمندانہ اقدامات اور قرضوں کی دلدل نے ملکی معیشت کو تباہی کے دھانے پر لاکھڑاکیاہے۔

انکشاف

مزید :

ملتان صفحہ آخر -