فنڈز نہ ماہرین‘ کھدائی پراجیکٹ بند‘ تاریخی مقامات معدوم ہونیکا خدشہ 

فنڈز نہ ماہرین‘ کھدائی پراجیکٹ بند‘ تاریخی مقامات معدوم ہونیکا خدشہ 

  

اوچ شریف (نامہ نگار) محکمہ آثار قدیمہ کی غفلت سے اوچ شریف سمیت پنجاب کے کئی تاریخی مقامات پر کھدائی نہ ہونے سے7ہزار قبل مسیح کے 1183 تاریخی مقامات معدوم ہونے لگے ہیں، تفصیلات کے مطابق محکمہ آثار قدیمہ کی اپنی تحقیق کے مطابق پنجاب میں 1183 تاریخی سائٹس موجود ہیں جن میں سے کسی ایک پر بھی کام نہیں ہو رہا، 28سال قبل ہونے والی محکمہ(بقیہ نمبر8صفحہ 6پر)

 آثار قدیمہ کی اپنی ریسرچ کے مطابق بہاول پور، چولستان کی 454 سائٹس بھی شامل ہیں،فنڈز مختص نہ ہونے کی وجہ سے صوبہ بھر میں 7 ہزار قبل مسیح کی 19، 3300 قبل مسیح کی ہاکڑہ سائٹس، 2500 قبل مسیح میں ہڑپہ کے ابتدائی دورکی 56، ہڑپہ کے درمیانے دورکی 31، 1400قبل مسیح میں ہڑپہ دور کی 5، 700 قبل مسیح کی 256، آٹھویں صدی عیسوی سے 11 ویں صدی عیسوی میں ابتدائی مسلم دور کی 145، 12 ویں صدی عیسوی سے 15 ویں صدی عیسوی میں سلاطین دور کی 195، 15 صدی عیسوی سے 18 ویں صدی عیسوی میں مغلیہ دورکی 324 جبکہ 18 ویں صدی عیسوی سے 1947 تک سکھ اور برٹش دورکی 176 سائٹس شامل ہیں،1992ء میں محکمہ کی جانب سے سرکاری سطح پر تاریخی سائٹس پر مشتمل ایک کتاب بھی مرتب کی گئی مگر عملی کام نہ شروع کیا جا سکا، قبل مسیح، ہندو، مغل اور انگریز ادوارکے ضلع ملتان میں 50، ضلع خانیوال میں 51، ضلع وہاڑی میں 39 اور ضلع لودھراں میں 36سائٹس موجود ہیں، ضلع بہاول پور میں زمانہ قدیم کی 60، ضلع راجن پور میں 11، ضلع ڈیرہ غازیخان میں 14، ضلع مظفر گڑھ میں 20، ضلع لیہ میں 11 اور ضلع جھنگ میں 55 سائٹس موجود ہیں، چولستان میں قلعہ ڈراوڑ سے 40 کلومیٹر دور”گویری والا سائٹ“اور”کڈھ والا سائٹ“یزمان کی تاریخ ہڑپہ دور کی ہے جہاں کھدائی کی جائے تو قدیم شہر کی باقیات برآمد ہو سکتی ہیں، محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق یہ مقامات پنجاب میں ہڑپہ اور سندھ میں موہن جو داڑو کے درمیانی قدیمی شہر کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں مگر سرکاری طور پر ان مقامات کی کھدائی کے لئے آج تک کوئی اقدامات ہی نہیں کئے گئے، ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق اگر محکمہ کی جانب سے ان مقامات کی کھدائی شروع کرائی جائے تو قبل مسیح میں بعض وجوہات کی بنا پر دفن ہو جانے والے شہر منظر عام پر آسکتے ہیں۔

خدشہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -